لاہور میں 25 سال بعد بسنت کی واپسی — 6 سے 8 فروری تک شہر بھر میں میلہ سجے گا
لاہور کی ثقافت ہمیشہ رنگوں، روشنیوں، تیزی، خوشیوں اور زندگی سے بھرپور جانی جاتی ہے۔ اس شہر کی پہچان صرف تاریخی عمارتیں اور ذائقے دار کھانے نہیں، بلکہ یہاں کے تہوار اور موسمی میلے بھی ہیں جنہوں نے لاہور کو دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت دی ہے۔ ان تہواروں میں سب سے نمایاں تہوار ’’بسنت‘‘ تھا، جسے کبھی لاہور کی جان کہا جاتا تھا۔ لیکن گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر بسنت پر پابندی رہی، اور لاہور اپنی ہی ایک روایت سے محروم رہا۔
تاہم اب پنجاب حکومت نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے 25 سال بعد بسنت کی بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے کہ 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور بھر میں بسنت منائی جائے گی۔ یہ فیصلہ نہ صرف لاہوری ثقافت کی بحالی کا اقدام ہے بلکہ سیاحت، معاشی سرگرمی اور سماجی ہم آہنگی کے نئے دروازے بھی کھولنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
بسنت کی منظوری — لاہور کے لیے ایک خوش خبری
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے لاہور کے شہریوں کو برسوں بعد بسنت کی خوش خبری سنا دی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بسنت تین روز تک پورے لاہور میں بھرپور طریقے سے منائی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد لاہور کی ثقافتی شناخت کو بحال کرنا ہے، جسے طویل عرصے سے اس تہوار کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح کیا کہ بسنت کو دوبارہ زندہ کرنا لاہور کے لیے ایک ثقافتی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ شہری تہواروں سے لطف اندوز ہوں مگر ایک محفوظ اور ذمہ دارانہ ماحول میں۔
بسنت آرڈیننس 2025 — حکومت کا حفاظتی فریم ورک
بسنت کی بحالی کے ساتھ ساتھ حکومت نے بسنت آرڈیننس 2025 جاری کیا ہے، جس پر مکمل عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ آرڈیننس اس لیے اہم ہے کہ ماضی میں پتنگ بازی کے دوران کئی حادثات، ڈور کے استعمال میں غفلت اور سیکیورٹی مسائل پیش آتے رہے۔ نئی قانون سازی ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے تاکہ بسنت بحال بھی ہو اور شہریوں کی جان و مال بھی محفوظ رہے۔
آرڈیننس کے مطابق:
- زہریلی، دھاتی یا کیمیکل ڈور ہر صورت ممنوع ہوگی
- مارکیٹ میں صرف حکومتی تصدیق شدہ ڈور اور پتنگ دستیاب ہوں گے
- پتنگ سازی کی صنعت کے لیے لائسنس کا اجرا لازمی ہوگا
- خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی
- یہ اقدامات بسنت کے تہوار کو محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔
مریم اورنگزیب کی سربراہی میں حتمی پلاننگ مکمل
بسنت کی تیاریوں کو عملی شکل دینے کے لیے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بسنت کے لیے مکمل پلان، تاریخوں کی منظوری، سیکیورٹی ڈھانچے، عملدرآمد کے طریقہ کار اور انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ:
- بسنت کے لیے قانونی مسودہ مکمل کر لیا گیا ہے
- تین روزہ سرگرمیوں کی پلاننگ مکمل ہو چکی ہے
- تمام ڈور اور پتنگیں صرف نامزد مقامات پر دستیاب ہوں گی
- فروخت اور خریداری حکومتی شرائط کے تحت ہوگی
- شہریوں کے تحفظ کے لیے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو سروسز کا مشترکہ پلان ترتیب دیا گیا ہے
یہ انتظامی حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت بسنت کو نہ صرف بحال کرنا چاہتی ہے بلکہ اسے ایک پوسٹو، محفوظ اور بین الاقوامی معیار کا تہوار بنانا چاہتی ہے۔
پتنگ بازی صرف مخصوص مقامات پر — جدید طرز کی انتظامی حکمت عملی
پہلی بار حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بسنت کے دوران پتنگ بازی پورے شہر کی چھتوں پر نہیں بلکہ مخصوص نامزد مقامات پر منعقد ہوگی۔ ان مقامات کو ’’سرکاری بسنت پوائنٹس‘‘ کے طور پر تیار کیا جائے گا، جہاں:
- سیکیورٹی موجود ہوگی
- میڈیکل اسٹاف تعینات ہوگا
- پتنگ بازی کے لیے محفوظ جگہیں مختص ہوں گی
- ہر عمر کے شہریوں کے لیے محفوظ ماحول دستیاب ہوگا
یہ ماڈل دنیا بھر کے بڑے تہواروں کے مطابق ہے، جہاں عوامی مقامات کو تہوار کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ اس سے حادثات کی شرح کم ہونے اور فضا میں نظم و ضبط قائم رہنے کی توقع ہے۔
بسنت 2026 — حکومت کی طویل المدتی اسٹریٹجی
صرف 2025 کی بسنت پر اکتفا نہیں کیا گیا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بسنت 2026 کے لیے سیکیورٹی، انتظامی نظم و ضبط، لائسنسنگ، فروشگاہوں اور سیاحتی منصوبہ بندی پر ابھی سے کام جاری ہے۔ اس طویل المدتی منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بسنت کو اب ایک مستقل سالانہ تہوار کے طور پر دوبارہ زندہ کرنا چاہتی ہے۔
اہم نکات:
- بسنت 2026 کا پری انجینئرنگ ڈھانچہ تیار ہو رہا ہے
- تہوار کو بین الاقوامی سیاحت سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی
- ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے میوزیکل شوز، فوڈ فیسٹیولز اور اسپورٹس ایونٹس بھی شامل کیے جائیں گے
- یہ انداز لاہور کو دوبارہ عالمی ثقافتی نقشے پر نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
- بسنت کے معاشی اثرات — لاہور کے کاروبار کے لیے خوشخبری
- بسنت جیسے بڑے تہوار کا لاہور کی معیشت پر ہمیشہ نمایاں اثر رہا ہے۔ ماضی میں:
- ہوٹلوں میں بکنگ مکمل ہو جاتی تھی
- ریسٹورنٹس میں رش بڑھ جاتا تھا
فوڈ اور انٹرٹینمنٹ سیکٹر کا کاروبار کئی گنا بڑھ جاتا تھا
شہر میں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع ملتے تھے
اب جب بسنت بحال ہو رہی ہے تو توقع ہے کہ لاہور کی معیشت میں بھی نئی جان پڑے گی، خصوصاً:
- ٹورزم سیکٹر
- ایونٹ مینجمنٹ
- فوڈ انڈسٹری
- پرچون کاروبار
- ثقافتی صنعتیں
بہت سے مقامی کاروبار دوبارہ سرگرم ہو جائیں گے۔
ثقافتی بحالی — لاہور اپنی روایت کی طرف لوٹ رہا ہے
بسنت ایک تہذیبی تہوار ہے جو:
- سماجی میل جول
- خاندانوں کے باہمی تعلق
- رنگوں کی دلکشی
- ثقافتی اظہار
- اور شہر کی تاریخی شناخت
- کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
بسنت کی واپسی نہ صرف ایک تہوار کی واپسی ہے بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ لاہور اپنی روایات اور تہذیبی رنگوں کی طرف واپس لوٹ رہا ہے۔
بسنت کی بحالی ایک نئے دور کا آغاز
25 برس بعد بسنت کی بحالی کا فیصلہ نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب کے لیے ایک اہم ثقافتی پیش رفت ہے۔ یہ تہوار اب صرف پتنگ بازی کا نام نہیں رہے گا، بلکہ یہ امن، رنگ، خوشی، سیاحت، ثقافت اور معاشی بحالی کا پیغام بنے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی حکومت کے اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ لاہور کو دوبارہ دنیا کے بڑے تہواروں کے شہر کے طور پر پیش کرنے کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ اگر یہ تہوار منصوبہ بندی کے مطابق محفوظ ماحول میں منعقد ہوا تو لاہور اپنی کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو گا۔


One Response