ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی سستی ہونے کا امکان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ملک بھر میں بجلی کی قیمت ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت کم ہونے کا امکان

ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر ریلیف کی امید پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (Monthly Fuel Adjustment) کے تحت بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے بجلی 72 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی ہے، جس پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آج سماعت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق سی پی پی اے نے نومبر 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں کمی کی یہ درخواست نیپرا میں جمع کروائی ہے۔ اگر نیپرا اس درخواست کی منظوری دے دیتا ہے تو اس کا اطلاق کراچی سمیت ملک بھر کے تمام بجلی صارفین پر ہو گا، جس سے لاکھوں صارفین کو اپنے آنے والے بجلی بلوں میں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت ملک بھر میں اکتوبر 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ لاگو ہے، جس کے تحت بجلی 88 پیسے فی یونٹ سستی کی گئی تھی۔ اس طرح اگر نومبر کی ایڈجسٹمنٹ بھی منظور ہو جاتی ہے تو مسلسل دوسرے مہینے بجلی کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئے گی، جو موجودہ مہنگائی کے دباؤ میں عوام کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دراصل بجلی پیدا کرنے کے اخراجات میں ہونے والے فرق کو صارفین تک منتقل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر کسی مہینے میں بجلی کی پیداوار نسبتاً سستے ذرائع، جیسے ہائیڈل یا دیگر کم لاگت والے پلانٹس سے زیادہ ہو، یا ایندھن کی عالمی قیمتوں میں کمی آئے، تو اس کا فائدہ صارفین کو بجلی کی قیمت میں کمی کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر پیداواری لاگت بڑھ جائے تو بجلی مہنگی ہو جاتی ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق نومبر کے دوران بجلی کی پیداوار میں نسبتاً سستے ذرائع کا حصہ بڑھا، جب کہ درآمدی ایندھن، خصوصاً فرنس آئل اور ایل این جی کی قیمتوں میں بھی کچھ کمی دیکھی گئی۔ ان عوامل کے نتیجے میں مجموعی پیداواری لاگت کم ہوئی، جس کی بنیاد پر سی پی پی اے نے بجلی سستی کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

نیپرا کی آج ہونے والی سماعت کے دوران سی پی پی اے اپنے مؤقف کی وضاحت کرے گا، جب کہ نیپرا حکام پیداواری لاگت، ایندھن کے استعمال، اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ سماعت کے بعد نیپرا تفصیلی غور و خوض کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ یا جاری کرے گا، جس کے بعد وفاقی حکومت کی منظوری سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ مجوزہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کراچی کے صارفین پر بھی ہو گا، جو طویل عرصے سے دیگر شہروں کے مقابلے میں زیادہ بجلی نرخ ادا کرنے کی شکایات کرتے آ رہے ہیں۔ کراچی کے صارفین کے لیے یہ خبر اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ حالیہ مہینوں میں کے الیکٹرک کے صارفین بھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے کچھ ریلیف حاصل کر رہے ہیں۔

تاہم توانائی کے ماہرین اس بات کی جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت دی جانے والی یہ کمی عموماً عارضی ہوتی ہے اور اس کا انحصار آئندہ مہینوں میں عالمی ایندھن کی قیمتوں اور مقامی پیداواری صورتحال پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مستقل ریلیف کے لیے بجلی کے بنیادی نرخ (Base Tariff) میں کمی اور نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

دوسری جانب صارفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے بجلی کی قیمت میں کمی خوش آئند ہے، لیکن بجلی کے بل اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ بجلی کے بلوں میں شامل مختلف ٹیکسز، سرچارجز اور دیگر اضافی چارجز صارفین کے لیے بڑا بوجھ بنے ہوئے ہیں، جن میں کمی کے بغیر حقیقی ریلیف ممکن نہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں مسلسل کمی نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی اور تجارتی شعبے کے لیے بھی اہم ہے۔ سستی بجلی سے صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ہوتی ہے، جس سے برآمدات میں اضافہ اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ خاص طور پر چھوٹی اور درمیانی صنعتیں بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے لائن لاسز میں کمی، بجلی چوری کے خلاف اقدامات، اور سستے توانائی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق مستقبل میں ان اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوں گے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگر نیپرا آج ہونے والی سماعت کے بعد بجلی 72 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی درخواست منظور کر لیتا ہے تو یہ ملک بھر کے صارفین کے لیے ایک اور مثبت خبر ہو گی۔ تاہم عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ ریلیف صرف عارضی ثابت ہوتا ہے یا آنے والے مہینوں میں بجلی کی قیمتوں میں استحکام اور مستقل کمی دیکھنے کو ملے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]