بولان گھر دھماکا بارودی سرنگ سے گھر تباہ 3 معصوم بچے جاں بحق

بولان گھر دھماکا میں تباہ شدہ مکان اور ریسکیو کارروائیاں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بولان گھر دھماکا معصوم جانوں پر قیامت کا گزر جانا

بلوچستان کی زمین نے ایک بار پھر خون کے آنسو بہائے۔ ضلع کچھی بولان کی تحصیل سنی میں رونما ہونے والا بولان گھر دھماکا نہ صرف ایک گھرانہ اجاڑ گیا بلکہ پورے علاقے کو دہشت، دکھ اور بے بسی کے احساس میں ڈوبا چھوڑ گیا۔ اس بار نشانہ کوئی سرکاری عمارت، کوئی گاڑی یا کوئی چیک پوسٹ نہیں تھی… اس بار بارودی مواد نے ایک گھر کی دہلیز پر قیامت برپا کر دی۔

عبدالحئی جتوئی کے گھر میں اچانک ہونے والے دھماکے نے سب کچھ منہدم کر دیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گھر نے سانس لینا بند کر دیا ہو۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ لمحوں میں چھت زمین سے جا ملی، دیواریں ریت کا ڈھیر بن گئیں اور اندر موجود بچوں کی ہنسی، کھیل اور زندگی سب کچھ ملبے تلے دفن ہو گیا۔ یہی واقعہ آج پورے ملک میں بولان گھر دھماکا کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے۔

بچوں کی موت… ایک زخم جو کبھی نہیں بھرتا

اس دل خراش سانحے میں 14 سالہ ندیم احمد، 13 سالہ سونا خان اور ہم عمر بی بی بختاور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ تینوں کی عمر پھولوں کی سی تھی، آنکھوں میں خواب تھے، دل میں معصوم تمنائیں… مگر قسمت نے انہیں اپنی ماں کی گود، اپنے گھر کی چھت اور اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا۔ بولان گھر دھماکا نے ان تین کم سن روحوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔

یہ محض ایک حادثہ نہیں… یہ کسی ماں کی کوکھ اجڑنے کی کہانی ہے، کسی باپ کے بازو ٹوٹنے کی کہانی ہے، بہن بھائیوں کے سسکنے کی کہانی ہے۔ دھماکے کی خبر کے ساتھ ہی پورا محلہ رنج و غم میں ڈوب گیا۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ دھماکا اتنا خوفناک تھا کہ کئی گھروں کی کھڑکیاں بھی لرز اٹھیں۔

بارودی مواد کیسے پہنچا؟

ابتدائی تحقیقات میں پولیس حکام نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے دو روز قبل رات کی تاریکی میں گھر کے اندر بارودی مواد نصب کیا تھا۔ یعنی مقصد صاف تھا — یہ ایک ٹارگٹڈ حملہ تھا۔ کیوں؟ کس لیے؟ کس کے خلاف؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ابھی تک نہیں مل سکے۔ بولان گھر دھماکا اس لحاظ سے بھی حساس ہے کہ یہ کوئی اتفاقیہ حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی کارروائی ہے۔

فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا ہے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ملبے کا جائزہ لے کر شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے، حساس ادارے بھی تحقیقات میں شامل ہیں۔ لیکن افسوس کہ ماضی ہمیں بتاتا ہے کہ کئی ایسے واقعات کی رپورٹیں تو بن جاتی ہیں مگر ذمہ دار اکثر نامعلوم ہی رہتے ہیں۔

زخمیوں کی حالت نازک

دھماکے میں زخمی ہونے والے تینوں افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق جسمانی زخم تو بھر بھی جائیں گے مگر ذہنی و نفسیاتی اثرات طویل عرصے تک رہیں گے۔ یہ بھی بولان گھر دھماکا کی سنگینی کا ایک پہلو ہے کہ اس نے صرف جسموں کو نہیں بلکہ دلوں کو بھی زخمی کیا ہے۔

علاقے میں خوف و ہراس

مقامی لوگوں نے بتایا کہ کچھ ماہ سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو رہی تھی۔ کبھی فائرنگ، کبھی دھماکے، کبھی دھمکیاں… یہ سب معمول بن چکا ہے۔ بولان گھر دھماکا نے لوگوں کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے۔ خواتین راتوں کو جاگتی ہیں، مرد پہرہ دیتے ہیں، اور بچے معمول کی سرگرمیوں سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔

واقعہ کے بعد کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، جس نے عوام کی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اور اداروں کی ذمہ داری

اس سانحے نے ایک بار پھر سوال اٹھایا ہے کہ آخر شہری کب تک ایسے واقعات کا شکار بنتے رہیں گے؟ اگر دو روز قبل بارودی مواد گھر میں رکھا گیا تو کسی نے دیکھا کیوں نہیں؟ کسی کو شک کیوں نہیں ہوا؟ کیا علاقے کی نگرانی کا نظام اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ دہشت گرد آسانی سے گھر کے اندر بارودی سرنگ نصب کر جائیں؟

اس واقعے نے یہ احساس بھی اجاگر کیا ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں سیکیورٹی اور ریاستی موجودگی کا فقدان ہے۔ صوبے کے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر بولان گھر دھماکا جیسے واقعات نہ روکے گئے تو پھر زندگی کس بنیاد پر چل سکے گی؟

پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ: خودکش دھماکا اور فورسز کی بروقت کارروائی

نتیجہ — درد، سوال اور بے بسی

بولان گھر دھماکا کوئی عام واقعہ نہیں بلکہ ایک خاندان کی بربادی اور ریاست کے لیے ایک امتحان ہے۔ معصوم جانوں کا خون سوال چھوڑ گیا ہے کہ آخر کب تک گھروں، راستوں اور بستیوں کو بارودی مواد سے اڑایا جاتا رہے گا؟

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]