برازیل کے چڑیا گھر میں انوکھا اقدام جانوروں کی ہائیڈریشن اور گرمی سے بچاؤ کے لیے پاپسیکلز کا استعمال
برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو میں درجہ حرارت میں اضافے نے جہاں انسانوں کو پریشان کیا ہے، وہیں چرند پرند بھی اس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ریو ڈی جینیرو کے مشہور "بائیوپارک” میں انتظامیہ نے جانوروں کے لیے گرمی سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد جانوروں کو ہیٹ اسٹروک سے بچانا اور ان کی جسمانی توانائی کو برقرار رکھنا ہے۔
بندروں اور تیندوؤں کے لیے ٹھنڈی سوغات
چڑیا گھر کے حکام نے جانوروں کو ان کی پسندیدہ خوراک برف میں جما کر دینا شروع کر دی ہے۔ خاص طور پر بندروں کے ایک گروہ کو تربوز سے تیار کردہ پاپسیکلز (برف کے گولے) دیے گئے، جنہیں وہ بڑے شوق سے کھاتے نظر آئے۔ حکام کے مطابق گرمی سے بچاؤ کے لیے یہ طریقہ کار انتہائی موثر ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اس سے جانوروں کے جسم کا درجہ حرارت اعتدال میں رہتا ہے۔
تیندوے اور گوشت کے پاپسیکلز
صرف بندر ہی نہیں، بلکہ گوشت خور جانوروں کے لیے بھی ان کی پسند کے مطابق مینیو تیار کیا گیا ہے۔ ایک تیندوا اپنے پانی کے ٹینک میں تیرتے ہوئے چکن کے پاپسیکلز نکالنے کی جدوجہد کرتا دیکھا گیا۔ یہ نہ صرف اس کے لیے غذا ہے بلکہ گرمی سے بچاؤ کا ایک دلچسپ طریقہ بھی ہے، کیونکہ اس دوران وہ پانی میں وقت گزارتا ہے جو اسے ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔
ماہرینِ حیاتیات کی رائے
چڑیا گھر کی ماہرِ حیاتیات لیٹیزیا فیٹوزا کا کہنا ہے کہ جب جانور جمی ہوئی خوراک نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس عمل میں وہ پانی کی وافر مقدار بھی پی لیتے ہیں۔ یہ عمل ان کی ہائیڈریشن کے لیے بہت ضروری ہے۔ گرمی سے بچاؤ کی اس حکمت عملی سے جانور ذہنی طور پر بھی متحرک رہتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی خوراک حاصل کرنے کے لیے تھوڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔
چڑیا گھر کا معمول اور ماضی کے تجربات
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ہنگامی قدم نہیں بلکہ یہ ان کے معمول کی دیکھ بھال کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال بھی جب برازیل کے جنوب مشرقی حصوں میں شدید ہیٹ ویو آئی تھی، تو گرمی سے بچاؤ کے لیے اسی طرح کے اقدامات کیے گئے تھے۔ جانوروں کو جمے ہوئے پھل اور بعض اوقات جمے ہوئے خون کے آمیزش بھی دیے جاتے ہیں تاکہ ان کی قدرتی ضرورت پوری ہو سکے۔
ہائیڈریشن کی اہمیت
شدید موسمی حالات میں جانوروں کے لیے پانی کی کمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ بائیوپارک میں گرمی سے بچاؤ کے ان اقدامات کی بدولت جانوروں میں سستی کم دیکھی گئی ہے۔ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کرتا ہے، تو یہ آئس پاپسیکلز ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔
سیاحوں کے لیے دلچسپ نظارہ
چڑیا گھر آنے والے سیاح بھی ان مناظر سے کافی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ بچوں کے لیے بندروں کو تربوز کی آئس کریم کھاتے دیکھنا ایک یادگار تجربہ بن گیا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ گرمی سے بچاؤ کے ایسے اقدامات سے نہ صرف جانور محفوظ رہتے ہیں بلکہ عوام میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے شعور بھی بیدار ہوتا ہے۔
جنوبی برازیل میں شدید آندھی نے برازیل مجسمہ آزادی کی نقل کو گرا دیا؛ویڈیو وائرل
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث برازیل میں گرمی کی شدت ہر سال بڑھ رہی ہے۔ بائیوپارک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گرمی سے بچاؤ کے لیے مزید جدید طریقے اپنائیں گے، جس میں واٹر اسپرنکلرز اور سائے دار جگہوں میں اضافہ شامل ہے۔ گرمی سے بچاؤ کا یہ مشن پورے موسمِ گرما میں جاری رہے گا تاکہ جانوروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔