برائلر گوشت 591 روپے فی کلو تک پہنچ گیا، ایک مرغی ہزار روپے سے زائد کی
ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی مہنگائی کا جن بے قابو ہوتا جا رہا ہے اور اس کا تازہ نشانہ برائلر گوشت بنا ہے۔ برائلر گوشت کی قیمت میں مسلسل اضافے کا سلسلہ برقرار ہے، جس کے نتیجے میں برائلر گوشت مزید 7 روپے مہنگا ہو کر 591 روپے فی کلوگرام کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ قیمتوں میں اس حالیہ اضافے نے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ پہلے ہی اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق برائلر گوشت کی قیمت میں یہ اضافہ اچانک نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری مہنگائی کا تسلسل ہے۔ دکانداروں کے مطابق صافی برائلر گوشت کی قیمت 700 روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی ہے، جو عام شہری کے لیے خریدنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوشت جو کبھی عام دسترخوان کا حصہ ہوتا تھا، اب ایک لگژری آئٹم بنتا جا رہا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مکمل برائلر مرغی کی قیمت صارفین کے لیے ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ محدود آمدن والے خاندانوں کے لیے یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے، کیونکہ پروٹین کا یہ اہم ذریعہ اب ان کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ گھریلو صارفین کا کہنا ہے کہ وہ اب ہفتہ وار یا ماہانہ گوشت خریدنے کے بجائے صرف خاص مواقع پر ہی برائلر خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
مارکیٹ ریٹس کے مطابق زندہ برائلر مرغی کا فارم ریٹ 380 روپے فی کلوگرام مقرر کیا گیا ہے، جبکہ تھوک ریٹ 394 روپے اور پرچون ریٹ 408 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ فارم ریٹس میں اضافے کے بعد پرچون سطح پر قیمتیں بڑھانا ان کی مجبوری بن چکا ہے۔ ان کے مطابق فیڈ، بجلی، ادویات، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافہ بھی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔
پولٹری فارمرز کا موقف ہے کہ پیداواری لاگت میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ کم قیمت پر مرغی فروخت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرغیوں کی خوراک (فیڈ) کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جبکہ بجلی اور گیس کے بل بھی ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ موسمی اثرات اور بیماریوں سے ہونے والا نقصان بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں پر کنٹرول کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے دکاندار من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مارکیٹوں میں سخت نگرانی کرے اور مقررہ نرخوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
سماجی حلقوں کے مطابق گوشت کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر بچوں، مریضوں اور کمزور طبقات کی غذائی صحت پر پڑ رہا ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ گوشت پروٹین کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس کی عدم دستیابی غذائی قلت جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر بچوں میں نشوونما کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی مہنگائی سے متاثر ہیں اور صارفین کی ناراضی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت پولٹری انڈسٹری کو ریلیف فراہم کرے، جیسے کہ فیڈ پر سبسڈی، بجلی کے نرخوں میں کمی اور ٹیکس میں نرمی، تو گوشت کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر برائلر گوشت کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کرے اور ایک مؤثر پرائس کنٹرول میکنزم نافذ کرے۔ اگر مہنگائی کے اس طوفان کو نہ روکا گیا تو عام آدمی کے لیے دو وقت کی مناسب غذا کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔
مجموعی طور پر برائلر گوشت کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی ایک واضح مثال ہے، جس نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے سنجیدہ اقدامات کریں تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے، ورنہ مہنگائی کا یہ سلسلہ عوامی بے چینی اور معاشرتی مسائل میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

