کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل کا معاملہ: لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل کیس: ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عدالت کا سخت برہمی کا اظہار: کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

عدالتی کارروائی کا پس منظر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم سماعت ہوئی۔ معزز جج جسٹس رضا قریشی نے کیس کی سماعت کی، جہاں وفاقی حکومت کی جانب سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کیس کی طویل سماعت کے بعد عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

آئینی خلاء اور عدالت کے ریمارکس سماعت کے دوران جسٹس رضا قریشی نے ریمارکس دیے کہ 5 اکتوبر سے لے کر آج 23 دسمبر تک کا عرصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل کے بعد پیدا ہونے والا خلاء نہ صرف آئینی طور پر غلط ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔ عدالت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ابھی تک متبادل کے طور پر تین رکنی عارضی بورڈز بھی تشکیل نہیں دیے جا سکے، جس سے انتظامی معاملات معطل ہیں۔

حکومتی موقف اور نوٹیفیکیشن کی عدم پیشی آج کی سماعت میں بھی وفاقی حکومت نئے عارضی بورڈز کے قیام کا نوٹیفیکیشن پیش کرنے میں ناکام رہی۔ ایڈیشنل سیکرٹری قانون نے عدالت کو بتایا کہ آج وفاقی کابینہ کا اجلاس شیڈول ہے، جس میں کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل اور نئے عارضی بورڈز سے متعلق نیا نوٹیفیکیشن زیر بحث آئے گا۔ تاہم، عدالت نے مزید وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو پہلے ہی کافی مہلت دی جا چکی ہے۔

درخواست گزار کے دلائل پٹیشنر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل کا اقدام مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو اس طرح ہٹانا جمہوریت اور قانون کی روح کے منافی ہے، لہٰذا اس فیصلے کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کی یقین دہانی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدہ ہے اور کینٹ بورڈز کا معاملہ وفاقی کابینہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ لیکن عدالت نے کارروائی مکمل کرتے ہوئے قرار دیا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل کے قانونی پہلوؤں پر فیصلہ اب عدالت صادر کرے گی۔

وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ: ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن اور تنخواہ ایک ساتھ لینے پر پابندی ختم، نوٹیفکیشن جاری

عوامی اثرات اور انتظامی بحران ماہرین کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کی تحلیل سے مقامی سطح پر ترقیاتی کام اور عوامی مسائل کے حل میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ جب تک منتخب بورڈز یا فعال عارضی کمیٹیاں موجود نہیں ہوں گی، کینٹ کے علاقوں میں رہنے والے شہری انتظامی مشکلات کا شکار رہیں گے۔ اب سب کی نظریں محفوظ شدہ فیصلے پر لگی ہوئی ہیں جو کینٹ بورڈز کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]