
گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے ، سینیٹر مشتاق احمد سمیت 200 گرفتار، دنیا بھر میں احتجاج
اسرائیلی نیوی نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے 37 ممالک سے آئے 200 سے زائد کارکن گرفتار کر لیے، جن میں گریٹا تھنبرگ اور سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی نیوی نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے 37 ممالک سے آئے 200 سے زائد کارکن گرفتار کر لیے، جن میں گریٹا تھنبرگ اور سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔

ترک شہریوں کی گرفتاری کے بعد استنبول چیف پراسیکیوٹر نے “گلوبل صمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی کارروائی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جسے عالمی سطح پر کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

چلی زلزلہ شدت 5.7، عوام خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے، ماضی کے تباہ کن زلزلوں کی یاد تازہ۔

نیویارک لاگوارڈیا ایئرپورٹ پر رن وے پر دو جہاز ٹکرا گئے نیویارک کے مصروف لاگوارڈیا ایئرپورٹ پر بدھ کی رات ایک حیران کن اور تشویشناک واقعہ پیش آیا جہاں رن وے پر دو جہاز ٹکرا گئے۔ یہ حادثہ اس وقت ہوا جب ڈیلٹا ایئر لائنز کے دو ریجنل طیارے آہستہ

جین گوڈال، حیوانی بقا کی نمایاں ترین علمبردار اور چمپینزیز پر تحقیق کرنے والی عظیم ماہر، 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو گھیر لیا، متعدد کشتیوں پر حملے اور کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔ ریڈکراس نے امدادی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں جبکہ عالمی سطح پر اسرائیل کو سخت تنبیہات دی جا رہی ہیں۔ اس قافلے میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔

امریکی حکومت کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان فنڈنگ تنازع کے باعث بند ہوگئی۔ شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں لاکھوں وفاقی ملازمین معطل یا فرلو ہو گئے ہیں جبکہ اہم ادارے محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ ڈیڈلاک امریکا کی معیشت اور عوام پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

حماس نے غزہ امن منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے غیر مسلح ہونے کی شق میں ترامیم کا مطالبہ کر دیا اور مکمل اسرائیلی انخلا کے لیے بین الاقوامی ضمانتیں مانگ لیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے کے بعد قطر کی سلامتی کی باضابطہ ضمانت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو امریکا فوجی کارروائی کرے گا۔ اس پیشرفت نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی لہر دوڑا دی ہے اور سہ فریقی نظام کی تجویز نے علاقائی تعاون کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے قطر امریکا اتحاد کو مضبوط کیا، اعلان کیا کہ قطر پر حملہ امریکا پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ اقدام قطر کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔