پاکستان

پاک افغان سیز فائر وزیراعظم شہباز شریف کابل پر پالیسی بیان دیتے ہوئے

پاک افغان سیز فائر طالبان حکومت کی درخواست پرکیا، طویل مدتی امن کیلئے گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں افغانستان کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے 48 گھنٹے کے لیے سیز فائر انسانی ہمدردی کے تحت کیا، مگر اب فیصلہ کابل کو کرنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا تصادم۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی، اور پاکستان اپنے دفاع کا ہر حق محفوظ رکھتا ہے۔ شہباز شریف نے غزہ امن معاہدے، فلسطینی ریاست، اور آئی ایم ایف پروگرام پر بھی اہم گفتگو کی۔

حکومت کا فلاحی اقدام — شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے مالی امداد اور خوشیوں کا پیغام

دھی رانی پروگرام: مستحق بیٹیوں اور شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے نئی امید

پنجاب حکومت کا “دھی رانی پروگرام” شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے ایک مثالی فلاحی اقدام ہے، جس کے تحت مستحق خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ باعزت طریقے سے نئی زندگی کا آغاز کر سکیں۔

پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ پاک فوج کی جوابی کارروائی

پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ؛ کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ، طالبان کی پھر بلااشتعال فائرنگ

کرم سیکٹر میں پاک-افغان سرحد پر ایک بار پھر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی سے طالبان پوسٹوں اور ایک ٹینک کو تباہ کر دیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد طالبان ہلاک ہو کر پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ وزارتِ دفاع نے کشیدہ حالات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات منقطع ہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ جھڑپیں شروع ہو سکتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس فیصلوں کا وقت آ چکا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]