چاول کی قیمتوں میں اضافہ بڑھتی مہنگائی نے عوام کی پریشانی میں اضافہ کر دیا
پاکستان میں مہنگائی کی لہر جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ روزمرہ کی بنیادی اشیاء میں سے ایک چاول بھی مسلسل مہنگا ہوتا جا رہا ہے اور مارکیٹوں میں چاول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے نئی آزمائش بن چکا ہے۔ لوگ گھریلو بجٹ کو سنبھالنے کیلئے پہلے ہی جدوجہد کر رہے تھے، اب یہ نیا اضافہ صورت حال کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔
چاول کی قیمتوں میں 300 روپے کا اضافہ
حالیہ رپورٹ کے مطابق 25 کلوگرام کے چاول کے تھیلے میں 300 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمت کے بعد بازار میں چاول 300 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔
یہ اچانک اضافہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ پریشان کن بھی ہے، کیونکہ چاول ہر گھر کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ چاول کی قیمتوں میں اضافہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے، مگر اس بار اضافہ بہت تیز اور بار بار ہو رہا ہے۔
عوام کیوں پریشان ہیں؟
چاول غریب سے امیر تک ہر گھر کی ضرورت ہے۔
جو لوگ ماہانہ تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں، وہ پہلے ہی مہنگائی میں پس رہے ہیں۔
ایک شہری نے بتایا:
"پہلے ہی دال، آٹا، چینی مہنگی ہو چکی ہے، اب چاول کی قیمتوں میں اضافہ نے تو جینے نہیں دیا۔ بچے بھی پوچھتے ہیں کہ امی آج کھانے میں کیا ہے؟ مگر کیا کریں، چیزیں خریدیں تو کیسے؟”
یہ جملہ ملک بھر کی عوام کے دل کی آواز بن چکا ہے۔
سبزی، دودھ، چینی، آٹے کے بعد چاول بھی مہنگا
مہنگائی کی حالیہ لہر میں ہر چیز متاثر ہوئی ہے۔
— سبزیاں
— پھل
— آٹا
— دالیں
— چینی
— دودھ
ان سب کی قیمتیں بڑھ چکی تھیں، اب چاول کی قیمتوں میں اضافہ نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ چاول کی قیمتوں میں اضافہ اگلے چند ہفتوں میں مزید بڑھ سکتا ہے اگر حکومتی سطح پر اقدامات نہ کیے گئے۔
تاجر اور دکاندار کیا کہہ رہے ہیں؟
دکانداروں کا موقف ہے کہ ہول سیل مارکیٹ میں ریٹ بڑھنے کی وجہ سے وہ مجبوراً قیمت بڑھاتے ہیں۔
ایک ہول سیل تاجر کا کہنا تھا:
"چاول کی درآمد مہنگی ہو گئی ہے، ڈالر مہنگا ہے، ٹرانسپورٹ مہنگی ہے۔ جب ہمیں مہنگا ملتا ہے تو ہم بھی آگے مہنگا ہی بیچ سکتے ہیں۔”
لیکن عوام کی نظر میں یہ دلیل مکمل طور پر قابلِ قبول نہیں ہے، کیونکہ چاول کی قیمتوں میں اضافہ اکثر غیر ضروری حد تک زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
کیا چاول کی قلت پیدا ہونے والی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول کی قلت نہیں، لیکن سپلائی چین میں خرابی موجود ہے۔
کچھ علاقوں میں چاول کم پہنچ رہا ہے، کچھ میں ذخیرہ اندوزی بڑھ گئی ہے، اور یہی صورتحال قیمتیں بڑھا رہی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ مارکیٹ کی نگرانی سخت کرے تاکہ مصنوعی مہنگائی ختم ہو۔
چاول کی قیمتوں میں اضافہ سے ریستوران بھی متاثر
صرف گھریلو صارفین ہی نہیں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان بھی پریشان ہیں۔
بریانی اور پلاؤ بنانے والوں کے مطابق:
"اگر چاول کی قیمتوں میں اضافہ اسی رفتار سے ہوتا رہا تو ہمیں پلیٹ کے ریٹ بھی بڑھانے پڑیں گے، ورنہ کھانا بنانا ہی مشکل ہو جائے گا۔”
ریٹ بڑھیں گے تو عوام کے لیے کھانا باہر سے خریدنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔
چاول کی قیمتوں میں اضافہ کے پس پردہ عوامل
ماہرین کے مطابق قیمتیں بڑھنے کی سب سے بڑی وجوہات یہ ہیں:
ڈالر مہنگا ہونا
درآمدی چاول پر لاگت میں اضافہ
ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھ جانا
مقامی سطح پر پیداوار کم ہونا
ذخیرہ اندوزی
اربن مارکیٹوں میں زیادہ طلب
یہ تمام عوامل مل کر چاول کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔
غریب طبقے پر سب سے زیادہ اثر
ایک مزدور نے بتایا:
"ہم روز کماتے ہیں روز کھاتے ہیں۔ دس روپے کی چیز بھی مہنگی ہو جائے تو گھر کا خرچہ بگڑ جاتا ہے۔ اب تو ہر چیز ہی ہاتھ سے نکل رہی ہے۔”
جب چاول جیسے بنیادی کھانے کی چیز مہنگی ہو، تو اس کا اثر ہر گھر پر پڑتا ہے۔
خاص طور پر جہاں روزانہ چاول پکایا جاتا ہے، وہاں بجٹ شدید متاثر ہوتا ہے۔
حل کیا ہے؟
یہ مسئلہ صرف شکایت سے حل نہیں ہوگا۔ ضروری ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے:
— ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی
— مارکیٹ ریٹس کی مسلسل نگرانی
— چاول کی درآمد پر عارضی سہولت
— ٹرانسپورٹ اخراجات میں کمی
— عوام کو سستے بازاروں کے ذریعے ریلیف
اگر یہ اقدامات نہ ہوئے تو چاول کی قیمتوں میں اضافہ رکنے والا نہیں۔
چینی کی قیمت میں اضافہ 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی
پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی کی لہر شدید صورت اختیار کر چکی ہے۔
اب چاول کی قیمتوں میں اضافہ نے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔
One Response