پاکستان میں چینی کی قیمت میں خطرناک اضافہ، عوامی مشکلات میں اضافہ
پاکستان میں چینی کی قیمت ایک بار پھر عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں فی کلو چینی کی قیمت 220 روپے تک جا پہنچی ہے، جس کے باعث عام آدمی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق، پچھلے ایک ہفتے کے دوران سرگودھا میں چینی کی قیمت میں 23 روپے فی کلو تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح کراچی اور حیدرآباد میں بھی 5 روپے فی کلو اضافہ ہوا، جس کے بعد ملک بھر میں چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 220 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
مختلف شہروں میں چینی کی قیمت کا موازنہ
ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق:
- سرگودھا: 23 روپے اضافہ، موجودہ چینی کی قیمت 200 سے 220 روپے فی کلو۔
- کراچی: 5 روپے اضافہ، نئی قیمت 200 روپے فی کلو۔
- راولپنڈی: 200 روپے فی کلو۔
- حیدرآباد: 190 سے بڑھ کر 195 روپے فی کلو۔
یہ اضافہ نہ صرف صارفین کے لیے باعثِ تشویش ہے بلکہ تاجروں اور دکانداروں کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ طلب اور رسد کا توازن بگڑ چکا ہے۔
گزشتہ سال اور موجودہ سال کی چینی کی قیمت کا فرق
ادارہ شماریات کے مطابق، ایک سال قبل چینی کی اوسط قیمت 132 روپے 47 پیسے فی کلو تھی، جب کہ اب یہ بڑھ کر اوسطاً 188 روپے 69 پیسے ہو چکی ہے۔ یعنی ایک سال میں چینی کی قیمت میں تقریباً 56 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے میں مجموعی اوسط قیمت میں 12 پیسے کی معمولی کمی ہوئی ہے، مگر مارکیٹ میں عملی صورتحال بالکل مختلف ہے، کیونکہ زیادہ تر شہروں میں چینی کی قیمت بدستور بڑھ رہی ہے۔
لاہور میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک
مارکیٹ ذرائع کے مطابق لاہور میں چینی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں چینی 200 سے 220 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں سپلائی کم ہونے اور ذخیرہ اندوزی کے باعث چینی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو آئندہ دنوں میں قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کی رائے: حکومت کو فوری ایکشن لینا ہوگا
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر حکومت درآمدات میں نرمی کرے، یا مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرے، تو چینی کی قیمت میں استحکام آ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ذخیرہ اندوزی پر قابو نہ پایا گیا تو چینی عام صارف کے لیے مزید مہنگی ہو جائے گی۔
عوامی ردِعمل
عوامی سطح پر اس اضافے نے غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے، اور اب چینی کی قیمت میں اضافہ ان کے بجٹ پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ چائے، مٹھائیاں اور دیگر روزمرہ اشیاء مہنگی ہو گئی ہیں۔
ایک مقامی شہری نے کہا:
“اب تو چائے پینا بھی مشکل ہو گیا ہے، ہر ہفتے چینی کی قیمت بڑھ رہی ہے۔”
مستقبل کے خدشات
اگر حالات یہی رہے تو چینی کی قیمت دسمبر تک 230 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو نہ صرف ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی بلکہ درآمدی پالیسی پر بھی نظرِ ثانی کرنا ہوگی تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ: مہنگائی کی شرح میں اضافہ 5.05 فیصد تک پہنچ گئی
چینی کی قیمت میں حالیہ اضافہ ایک سنگین معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ عوام، تاجر اور معیشت تینوں اس دباؤ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر موثر حکمتِ عملی اپنائے تاکہ روزمرہ کی یہ بنیادی ضرورت عوام کی پہنچ میں واپس آ سکے۔
One Response