چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ موسم سرما نے عوام کی مشکلات دوبالا کردیں
سردیوں کی آمد کے ساتھ جہاں گرم دودھ، انڈوں اور مرغی کے پکوان گھروں میں عام ہو جاتے ہیں، وہیں دوسری جانب چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ عوام کے لیے ایک نئی مشکل بن کر سامنے آیا ہے۔ راتوں رات بڑھتی ہوئی مہنگائی نے متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کی کچن بجٹ کو مکمل طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔
پاکستان میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ مرغی اور انڈوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے، لیکن اس مرتبہ قیمتوں میں جو تیزی دیکھی گئی ہے، اس نے شہریوں کو کہتے پر مجبور کر دیا ہے کہ "مہنگائی نے جینے نہیں دیا”۔
برائلر گوشت کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئیں
شہری مارکیٹوں میں برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت اس وقت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پچھلے دو دنوں میں برائلر گوشت 29 روپے فی کلو مہنگا ہوا، اگرچہ آج معمولی 7 روپے کمی ہوئی، مگر مجموعی نرخ اب بھی انتہائی بلند ہیں۔
فروخت کنندگان کے مطابق:
برائلر گوشت کی نئی قیمت: 475 روپے فی کلوگرام
زندہ برائلر کی تھوک قیمت: 300 روپے فی کلو
پرچون قیمت: 324 روپے فی کلو
یہ مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ ایک وقتی مسئلہ نہیں، بلکہ مارکیٹ کی مسلسل بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت ہے۔
انڈوں کی قیمت میں بھی اضافہ — ناشتہ عوام کی پہنچ سے باہر؟
پاکستان میں سردیوں کے دوران انڈوں کی طلب عام دنوں کی نسبت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اسی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ہر سال قیمتوں میں اضافہ تو دیکھا جاتا ہے، مگر اس مرتبہ قیمتوں کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق:
ایک پیٹی انڈوں کی قیمت میں 30 روپے اضافہ
نئی قیمت: 10,500 روپے فی پیٹی
یہ وہ مقام ہے جہاں گاہک بے بسی کا اظہار کرتے ہیں کہ "ناشتہ بھی مہنگا ہوگیا ہے”۔
اس سارے پس منظر میں چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ گھریلو بجٹ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز بن چکا ہے۔
وجوہات کیا ہیں؟ قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
ماہرین کے مطابق ان قیمتوں میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں:
1. خوراک کی قیمتوں میں اضافہ
مرغیوں کی فیڈ مہنگی ہو گئی ہے، جس سے پیداواری لاگت بڑھ گئی۔
2. موسم کی شدت
سردی کے باعث پولٹری فارموں میں بیماریوں اور خوراک کے استعمال میں اضافہ ہوا۔
3. ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ
پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث جانوروں اور فیڈ کی ترسیل متاثر ہوئی۔
4. مصنوعی قلت
کئی تاجروں پر الزام ہے کہ منافع کے لیے سپلائی روک کر مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے۔
یہ تمام عوامل وہ بنیاد بن گئے جن کے باعث چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ اب ایک بڑے معاشی مسئلے کا روپ اختیار کر چکا ہے۔
صارفین کا ردِعمل — غم و غصے کی لہر
پاکستانی صارفین اس وقت شدید پریشان ہیں۔
گھر کی دہلیز پر کھانا پہنچانے والوں سے لے کر گھریلو خواتین تک، سب کی ایک ہی آواز ہے:
"مہنگائی نے گھر کا خرچہ چلانا مشکل کر دیا ہے۔”
ایک گھریلو خاتون نے بتایا:
"پہلے ہم ہفتے میں دو بار چکن پکا لیتے تھے، مگر اب تو مہینے میں ایک بار بھی سوچنا پڑتا ہے۔ چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ ہمارے بجٹ کو تباہ کر رہا ہے۔”
تجار کی رائے — بڑھتی قیمتوں پر وہ کیا کہتے ہیں؟
دکاندار کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا مجبوراً ہوتا ہے۔
ایک پولٹری تاجر نے بتایا:
"فارمز سے جب مہنگا مال آتا ہے تو ہم بھی مجبور ہوتے ہیں کہ قیمت بڑھائیں۔ ابھی تو سردی مزید بڑھے گی، اور چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ مزید ہو سکتا ہے۔”
ماہرین کی ممکنہ پیشگوئی
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولٹری مصنوعات کی مانگ سردیوں کے دوران ہمیشہ بڑھ جاتی ہے۔ اگر پیداوار میں رکاوٹ آئی تو:
مرغی
انڈے
فیڈ
ٹرانسپورٹ
سب کچھ مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔ یعنی چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ آنے والے ہفتوں میں اور بھی شدت اختیار کرسکتا ہے۔
حکومتی اقدامات — کیا کچھ کیا جا رہا ہے؟
حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر جزوی نوٹس لیا ہے، مگر ابھی تک قیمتوں میں کمی کے لیے عملی اقدامات سامنے نہیں آئے۔
صارفین کا مطالبہ ہے:
ناجائز منافع خوری روکی جائے
مارکیٹ میں مانیٹرنگ سخت کی جائے
پولٹری فیڈ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم کیے جائیں
ورنہ چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ گھر گھر کی پریشانی بن جائے گا۔
برائلر گوشت سستا، چکن کی قیمت میں کمی سے بجٹ متوازن
آخر میں — حل کیا ہے؟
اگرچہ مہنگائی کا فوری حل ممکن نہیں، مگر چند اقدامات عوامی ریلیف فراہم کر سکتے ہیں:
مقامی سطح پر مرغیوں کی افزائش بڑھائی جائے
ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں کی جائیں
سردیوں میں پولٹری فارموں کو خصوصی سبسڈی دی جائے
انڈوں اور مرغی کی درآمد پر عارضی رعایت دی جائے
اگر یہ اقدامات ہو جائیں تو چکن اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ رک سکتا ہے اور عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔