چین بچوں کی نگہداشت قانون پر پیش رفت، نیا مسودہ پہلی بار جائزے کے لیے پیش

چین میں بچوں کی نگہداشت کے قانون کا مسودہ پیش
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چین میں بچوں کی نگہداشت کی خدمات کے لیے جامع قانون سازی، مسودہ قانون کا پہلا جائزہ

چین میں آبادی کے ڈھانچے میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں، کم شرحِ پیدائش اور شہری خاندانوں کو درپیش پرورشِ اطفال کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر حکومت نے بچوں کی نگہداشت کے نظام کو مضبوط اور منظم بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اسی سلسلے میں بچوں کی نگہداشت کی خدمات سے متعلق ایک مسودہ قانون پہلی بار جائزے کے لیے قومی سطح پر پیش کیا گیا ہے، جسے ایک اہم سماجی اور قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ مسودہ قانون پیر کے روز چین کے اعلیٰ قانون ساز ادارے، قومی عوامی کانگریس (این پی سی) کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پہلی مرتبہ غور کے لیے پیش کیا گیا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد بچوں کی نگہداشت کی خدمات کو فروغ دینا، انہیں واضح ضابطوں کے تحت لانا، تین سال سے کم عمر بچوں کے قانونی حقوق اور تحفظ کو مضبوط بنانا، اور بچوں کی پیدائش و پرورش سے متعلق معاون حکومتی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

این پی سی کی تعلیم، سائنس، ثقافت اور عوامی صحت کمیٹی کے چیئرمین لو شوگانگ نے اجلاس کے دوران بتایا کہ اس اہم قانون کی تیاری کا عمل 2023 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس دوران متعلقہ اداروں اور ماہرین نے چین کے مختلف علاقوں کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ بچوں کی نگہداشت کی موجودہ صورتحال، درپیش مسائل اور عوامی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے بیجنگ، جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ، شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ اور شمالی اندرونی منگولیا سمیت متعدد علاقوں میں میدانی دورے کیے گئے۔ ان دوروں کے دوران مقامی بچوں کی نگہداشت کے مراکز، نجی و سرکاری اداروں، والدین اور متعلقہ ماہرین سے مشاورت کی گئی، تاکہ عملی مسائل کی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں قانون سازی کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

یہ مسودہ قانون مجموعی طور پر آٹھ ابواب اور 76 دفعات پر مشتمل ہے، جو ایک جامع اور مسئلہ مرکوز نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ قانون کا ڈھانچہ طلب پر مبنی اور مسائل پر توجہ دینے والے طریقہ کار کو اپناتا ہے، جس کا مقصد بچوں کی نگہداشت کی خدمات میں معیار، دستیابی اور حفاظت کو یکساں طور پر بہتر بنانا ہے۔

قانون میں خاص طور پر بچوں کی نگہداشت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی اہلیت، ان کے عملے کی پیشہ ورانہ تربیت، سہولتوں کے معیار اور نگرانی کے نظام پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے ایسے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ماضی میں غیر معیاری خدمات، ناقص نگرانی اور حفاظتی خدشات کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔

مسودہ قانون کا ایک اہم ہدف بچوں کی نگہداشت کی سستی اور قابلِ رسائی سہولتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ چین میں شہری علاقوں میں بہت سے والدین کو بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کے باعث معاشی دباؤ کا سامنا رہتا ہے، جس کا اثر نہ صرف خاندانی بجٹ بلکہ بچوں کی پیدائش کے فیصلوں پر بھی پڑتا ہے۔ یہ قانون بچوں کی پرورش کے مجموعی اخراجات کم کرنے اور خاندانوں کو عملی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

قانون سازوں کے مطابق اس مسودے کے ذریعے ایک ایسا عوامی بچوں کی نگہداشت کا نظام قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جو متنوع، محفوظ، اعلیٰ معیار کا حامل ہو اور مناسب قیمت پر آسانی سے دستیاب ہو۔ اس نظام میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور سماجی تنظیموں کے کردار کو بھی منظم انداز میں شامل کیا جائے گا، تاکہ خدمات کی فراہمی میں وسعت اور لچک پیدا ہو۔

اس کے علاوہ مسودہ قانون نگرانی اور ضابطہ کاری کے نظام کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ بچوں کی نگہداشت کے مراکز کے لیے حفاظتی معیار، صحت و صفائی کے اصول اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کو واضح طور پر قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر بچے کو محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا بدانتظامی کا بروقت سدباب ہو سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون چین کی طویل المدتی سماجی و معاشی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو ہے۔ کم ہوتی شرحِ پیدائش کے تناظر میں حکومت ایسے اقدامات پر زور دے رہی ہے جو نوجوان خاندانوں کو بچوں کی پرورش میں سہولت فراہم کریں اور معاشرتی اعتماد کو فروغ دیں۔ بچوں کی نگہداشت کا مضبوط نظام نہ صرف والدین کو کام اور خاندانی زندگی میں توازن قائم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی سہارا دیتا ہے۔

قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی میں پہلے جائزے کے بعد اس مسودہ قانون پر مزید بحث، ترامیم اور عوامی آراء کے حصول کا عمل متوقع ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ یہ قانون عملی طور پر مؤثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔

مجموعی طور پر، بچوں کی نگہداشت کی خدمات سے متعلق یہ مسودہ قانون چین میں سماجی فلاح، خاندانی معاونت اور قانونی تحفظ کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اسے مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف بچوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنائے گا بلکہ خاندانوں کے اعتماد میں اضافہ اور معاشرتی استحکام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]