پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون ہمیشہ ہی نئی جہتیں اختیار کرتا رہا ہے۔ سی پیک کے بعد اب ایک اور منفرد منصوبہ منظرِ عام پر آیا ہے۔ چین کا پشاور میں گدھوں کا منصوبہ نہ صرف لائیو اسٹاک انڈسٹری میں ایک انوکھا اضافہ ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بھی کرے گا۔
منصوبے کی تفصیلات
چینی کمپنی ’’سنگ ینگ‘‘ (Shing Yang) پشاور میں 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت:
- 40 جدید فارمز قائم کیے جائیں گے۔
- ایک سائنسی لیبارٹری بنائی جائے گی۔
- سالانہ 80 ہزار گدھوں کی افزائش ممکن ہوگی۔
وزارت فوڈ سیکورٹی کے مطابق ابتدائی تین سے پانچ سال گدھوں کی افزائشِ نسل پر توجہ دی جائے گی اور اس کے بعد برآمدات کا عمل شروع ہوگا۔
برآمدات کا منصوبہ
اس منصوبے کے تحت ہر ماہ 10 ہزار گدھوں کو پروسیس کرکے چین برآمد کیا جائے گا۔ گوشت اور ہڈیوں کو صرف چین بھیجا جائے گا، جبکہ پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں ان کی فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔
یہ پہلو خاص طور پر اہم ہے تاکہ عوامی خدشات کو دور کیا جا سکے اور منصوبے پر اعتماد قائم ہو۔
ڈونکی بریڈنگ لیبارٹری
زرعی یونیورسٹی پشاور میں ایک جدید ڈونکی بریڈنگ لیبارٹری بھی قائم کی جا رہی ہے، جہاں سائنسی بنیادوں پر افزائش کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سے پاکستان کی لائیو اسٹاک ریسرچ انڈسٹری کو بھی فائدہ ہوگا۔
چین میں گدھوں کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟
چین میں گدھے کے گوشت اور ہڈیوں کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر:
- اجیاؤ (Ejiao): گدھے کی کھال سے تیار کی جانے والی ایک روایتی چینی دوا ہے جس کی مانگ بے حد زیادہ ہے۔
- کھال اور ہڈیاں مختلف ادویات اور کاسمیٹکس میں استعمال ہوتی ہیں۔
- گوشت مقامی خوراک میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے چین کا پشاور میں گدھوں کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے تاکہ سپلائی چین کو مستحکم بنایا جا سکے۔
پاکستان کی لائیو اسٹاک انڈسٹری پر اثرات
یہ منصوبہ پاکستان کے لیے کئی پہلوؤں سے فائدہ مند ہے:
- روزگار کے مواقع: ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا۔
- معاشی فوائد: برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
- ٹیکنالوجی ٹرانسفر: سائنسی لیبارٹریاں اور جدید افزائشی طریقے متعارف ہوں گے۔
- عالمی سپلائی چین کا حصہ: پاکستان اس شعبے میں بھی ایک برآمدی منڈی کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
عوامی خدشات اور وضاحت
پاکستان میں جب بھی کوئی نیا منصوبہ آتا ہے تو اس پر عوامی خدشات جنم لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا گدھے کا گوشت مقامی مارکیٹ میں بھی فروخت ہوگا؟
وزارت فوڈ سیکورٹی نے واضح کر دیا ہے کہ برآمدات صرف چین کے لیے ہیں اور مقامی مارکیٹ میں اس گوشت اور ہڈیوں کی فروخت پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاکستان اس شعبے میں ایک بڑا کھلاڑی بن سکتا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی ماحول اور چراگاہیں گدھوں کی افزائش کے لیے بہترین ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ چین نے ’’چین کا پشاور میں گدھوں کا منصوبہ‘‘ شروع کرنے کے لیے پاکستان کو منتخب کیا ہے۔
مستقبل کی توقعات
- اگر منصوبہ کامیاب رہا تو پاکستان میں مزید فارمز بھی قائم ہو سکتے ہیں۔
- دیگر ممالک کو بھی برآمدات کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
- پاکستان کی زرعی معیشت میں نئی تنوع آ سکے گی۔
اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کی برآمد کا انکشاف، پولیس نے ابتدائی رپورٹ جاری کر دی
چین کا پشاور میں گدھوں کا منصوبہ صرف ایک انوکھا پروجیکٹ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف روزگار اور برآمدات کا ذریعہ بنے گا بلکہ پاکستان کو عالمی لائیو اسٹاک انڈسٹری میں نئی پہچان بھی دے گا۔
2 Responses