چین کا لانگ مارچ-8 اے راکٹ انٹرنیٹ سیٹلائٹس کو لے کر خلا میں روانہ

چین کا لانگ مارچ-8 اے راکٹ لانچ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چین کا لانگ مارچ-8 اے راکٹ انٹرنیٹ سیٹلائٹس کو لے کر خلا میں روانہ، یہ راکٹ چین کے کمرشل اور سویلین اسپیس پروگرام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے

وین چھانگ، (رئیس الاخبار) : چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے لانگ مارچ-8 اے کیریئر راکٹ کے ذریعے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کے ایک نئے گروپ کو کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چین کا لانگ مارچ-8 اے راکٹ جمعہ کی صبح 7 بج کر 26 منٹ (بیجنگ وقت) جنوبی جزیرہ صوبہ ہائی نان میں واقع کمرشل اسپیس کرافٹ لانچ سائٹ سے فضا میں بلند ہوا۔ لانچ کے بعد راکٹ نے اپنے تمام پے لوڈز کو کامیابی کے ساتھ مقررہ مدار میں پہنچا دیا۔

قومی ہیرو کی بے بسی: اولمپک اسٹار طلحہ طالب گوجرانوالہ کے ایک تنگ گیراج میں ٹریننگ کرنے پر مجبور
اولمپک اسٹار طلحہ طالب گوجرانوالہ میں ایک گیراج میں ٹریننگ کرتے ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس مشن کے دوران نچلے مدار میں گردش کرنے والے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کے 17ویں گروپ کو خلا میں بھیجا گیا، جو چین کے بڑھتے ہوئے سیٹلائٹ نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ ان سیٹلائٹس کا مقصد عالمی سطح پر انٹرنیٹ کوریج کو بہتر بنانا اور جدید مواصلاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔

چینی خلائی حکام کا کہنا ہے کہ چین کا لانگ مارچ-8 اے راکٹ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اسے خاص طور پر نچلے مدار میں سیٹلائٹس کی ترسیل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ راکٹ چین کے کمرشل اور سویلین اسپیس پروگرام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے مسلسل سیٹلائٹ لانچز عالمی خلائی دوڑ میں اس کے مضبوط ہوتے کردار کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ انٹرنیٹ سیٹلائٹس کی تعیناتی ڈیجیٹل رابطوں اور عالمی کمیونیکیشن کے مستقبل کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

یہ لانچ چین کے خلائی مشنز کی طویل فہرست کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے بیجنگ نہ صرف اپنے خلائی انفراسٹرکچر کو وسعت دے رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی میں اپنی موجودگی بھی مضبوط کر رہا ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]