چینی درآمد ٹیکس چھوٹ میں توسیع: حکومت کا بڑا فیصلہ، شرح کم کر کے 5 فیصد

چینی درآمد ٹیکس چھوٹ حکومت فیصلہ پاکستان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چینی درآمد ٹیکس چھوٹ 2026 تک بڑھا دی گئی، شرح میں بڑی کمی

‫حکومتِ پاکستان نے چینی کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے چینی کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں دی گئی چھوٹ کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس حوالے سے Federal Board of Revenue (ایف بی آر) نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق یہ سہولت اب 28 فروری 2026 تک برقرار رہے گی۔‬

حکومتی فیصلے کے تحت چینی کی درآمد پر سیلز ٹیکس کو نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے۔ جہاں پہلے یہ شرح 18 فیصد تھی، اب اسے کم کر کے صرف 0.25 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ودہولڈنگ ٹیکس بھی کم کر کے 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں چینی کی درآمد پر مجموعی ٹیکس بوجھ، جو پہلے تقریباً 47 فیصد تک تھا، اب کم ہو کر تقریباً 5 فیصد رہ گیا ہے۔

‫یہ ٹیکس رعایت صرف ان درآمدات پر لاگو ہوگی جو Trading Corporation of Pakistan (ٹی سی پی) کے ذریعے کی جائیں گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد نجی سطح پر بے قابو درآمدات کے بجائے حکومتی نگرانی میں محدود اور منظم طریقے سے چینی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔‬

کابینہ کے فیصلے کے مطابق سفید کرسٹل چینی کی درآمد پر یہ کم شرح ٹیکس لاگو کی گئی تھی تاکہ مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے چینی کی درآمد کی مجموعی حد بھی مقرر کر دی ہے، جس کے تحت ٹی سی پی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کی جا سکے گی۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی دستیابی بہتر ہوگی اور قیمتوں میں استحکام آنے کا امکان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی شوگر انڈسٹری پر دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے، کیونکہ سستی درآمدی چینی مقامی پیداوار کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی ہو جائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام وقتی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد صرف عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانا ہے۔ اگر مارکیٹ میں صورتحال معمول پر آ گئی تو مستقبل میں ٹیکس رعایت پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ فیصلہ مہنگائی پر قابو پانے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور عوامی ریلیف کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ مہینوں میں واضح طور پر سامنے آنے کی توقع ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]