پاکستان میں چینی کی قیمتیں عوامی بحث کا مرکز

پاکستان میں چینی کی قیمتیں میں اضافے اور کمی کی صورتحال
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چینی کی قیمتیں: کرشنگ سیزن سے کمی کی امید

پاکستان میں چینی کی قیمتیں ہمیشہ سے عوامی بحث کا مرکز رہی ہیں۔ روزمرہ استعمال کی یہ بنیادی ضرورت مہنگائی کے طوفان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی اشیاء میں سے ایک ہے۔ اس وقت بھی چینی کی قیمتیں عام شہری کے لیے ایک بڑے بوجھ کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ لیکن نومبر کے وسط میں شروع ہونے والے کرشنگ سیزن کے ساتھ یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چینی کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال

کراچی کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار میں چینی اس وقت 174 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔ سرکاری طور پر کمشنر کراچی نے ہول سیل ریٹ 174 روپے اور ریٹیل ریٹ 177 روپے مقرر کر رکھا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ میں بعض دکاندار چینی کو 180 روپے یا اس سے زائد پر فروخت کر رہے ہیں، جو سرکاری نرخوں سے کھلا انحراف ہے۔ اس صورتحال نے عوام میں مایوسی پیدا کی ہے اور شہری کہتے ہیں کہ چینی خریدنا بھی اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کرشنگ سیزن سے توقعات

آل پاکستان شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شفقت محمود نے بیان دیا ہے کہ کرشنگ سیزن کے آغاز کے ساتھ چینی کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق ہول سیل مارکیٹ میں چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو تک گرنے کا امکان ہے۔ یہ خبر عوام کے لیے کسی ریلیف سے کم نہیں، کیونکہ موجودہ مہنگائی کے دور میں چینی کی قیمتوں میں کمی بڑی سہولت فراہم کرے گی۔

حکومتی اقدامات اور چیلنجز

حکومت کی طرف سے بارہا دعوے کیے گئے ہیں کہ چینی کی قیمتوں پر قابو پایا جائے گا۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ سرکاری نرخ مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اس کی بڑی وجہ حکومتی اداروں کی کمزور نگرانی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف غیر مؤثر کارروائی ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو نہ صرف کرشنگ سیزن کے بعد چینی کی قیمتوں کو نیچے لانا ہوگا بلکہ ان نرخوں پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔

ذخیرہ اندوزی کا کردار

پاکستان میں چینی کی قیمتوں کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے۔ ماضی میں بھی دیکھا گیا کہ جب کرشنگ سیزن شروع ہوتا ہے تو قیمتیں کچھ عرصے کے لیے کم ہو جاتی ہیں، لیکن بعد میں ذخیرہ اندوز مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں دوبارہ بڑھا دیتے ہیں۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے حکومت کو سخت پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

عوامی رائے

عوام کی رائے یہی ہے کہ چینی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی اگر حقیقت کا روپ دھار لے تو یہ ان کے گھریلو بجٹ کو بڑی حد تک سہارا دے گی۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے تو چینی کی قیمتوں میں کمی کسی نعمت سے کم نہیں ہوگی۔ لیکن ساتھ ہی عوام یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ وعدے عملی شکل اختیار کریں گے یا پھر یہ صرف حکومتی بیانات تک محدود رہیں گے؟

ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان چینی درآمد کے لیے ایک لاکھ ٹن کا نیا ٹینڈر کل کھولے گی

کرشنگ سیزن کے آغاز کے ساتھ چینی کی قیمتوں میں کمی کی امیدیں ضرور روشن ہوئی ہیں۔ لیکن اصل امتحان حکومت اور متعلقہ اداروں کا ہے کہ وہ عوام کو یہ ریلیف دینے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر چینی کی قیمتیں واقعی 140 روپے فی کلو تک آتی ہیں اور اس پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے تو یہ پاکستانی عوام کے لیے بڑی خوشخبری ہوگی۔ بصورتِ دیگر یہ بھی محض ایک دعویٰ ہی ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]