چینی کی قیمت میں کمی عوام کیلئے بڑی خوشخبری
مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کے لیے بالآخر امید کی ایک روشنی پیدا ہوگئی ہے۔ ملک بھر میں روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اور ایسے میں چینی کی قیمت میں کمی کی خبر کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) نے 36 ہزار میٹرک ٹن سفید چینی فروخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا ٹینڈر جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں چینی کی قیمت نیچے آنے کا مضبوط امکان پیدا ہوگیا ہے۔
ٹینڈر کی تفصیلات — شفاف نیلامی کی طرف اہم قدم
ٹی سی پی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق چینی کا یہ بڑا ذخیرہ کراچی کے پپری گوداموں میں موجود ہے، جہاں سے اسے نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا۔
بولیوں کی آخری تاریخ: 3 دسمبر 2025، دوپہر 12:15 بجے
بولیوں کی کھلی کارروائی: دوپہر 12:45 بجے، ٹی سی پی ہیڈ آفس کراچی
یہ فیصلہ نہ صرف چینی کی فراہمی میں بہتری لائے گا بلکہ مارکیٹ میں مقابلے کا رجحان بڑھے گا، جس سے چینی کی قیمت میں کمی مزید ممکن ہوگی۔
چینی کے نرخ کیوں بڑھ رہے تھے؟
گزشتہ کئی ماہ سے چینی کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔
اس کے پیچھے وجوہات تھیں:
ذخیرہ اندوزی
چینی کی برآمد
پیداوار میں کمی
حکومتی ریگولیشنز
منافع خور مافیا
ان حالات میں چینی کی قیمت میں کمی کسی خوشخبری سے کم نہیں۔
77 سال بعد شوگر انڈسٹری ڈی ریگولیٹ ہونے جا رہی ہے
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے آئندہ چند دنوں میں شوگر انڈسٹری کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ قدم چینی کی آزادانہ پیداوار، ذخیرہ اور قیمت میں توازن پیدا کرنے کیلئے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
اگر یہ پالیسی نافذ ہو گئی تو مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا، اجارہ داری ختم ہوگی، اور چینی کی قیمت میں کمی کا سلسلہ لمبے عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
نیلامی کا اثر مارکیٹ پر کیسے پڑے گا؟
چینی کی بڑی مقدار مارکیٹ میں آنے سے:
مصنوعی قلت ختم ہوگی
چینی کے نرخ نیچے آئیں گے
ذخیرہ اندوزی کا نقصان ہوگا
عوام کو فوری ریلیف ملے گا
ماہرین کے مطابق اگر 36 ہزار میٹرک ٹن چینی فوری مارکیٹ میں شامل ہو گئی تو چینی کی قیمت میں کمی کی خبر عملی صورت اختیار کر لے گی۔
عوام کا ردعمل — امید، خوف اور بے یقینی
عوام اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔
ایک خاتون شازیہ کا کہنا ہے:
"چینی تو ہر گھر کی ضرورت ہے۔ اگر اس کی قیمت کم ہو جائے تو بڑی سہولت ملے گی۔”
دوسری جانب کچھ شہریوں کو خدشہ ہے کہ نیلامی کے باوجود منافع خور مافیا دوبارہ مارکیٹ پر قبضہ نہ کر لے۔
لیکن مجموعی طور پر چینی کی قیمت میں کمی عوام کے چہروں پر خوشی لے آئی ہے۔
کیا قیمت واقعی کم ہوگی؟
مارکیٹ کے نمائندوں کے مطابق اگر:
چینی کی نیلامی شفاف ہوئی
شوگر انڈسٹری ڈی ریگولیٹ ہوئی
حکومت ذخیرہ اندوزی پر سخت کاروائی کرے
تو آنے والے ہفتوں میں چینی کی قیمت میں کمی یقینی ہو سکتی ہے۔
کسان کارڈ واجبات 25 نومبر 2025 تک ادا کریں، ورنہ سرکاری سہولیات بند ہو جائیں گی
نتیجہ — امید کی نئی کرن
مہنگائی کے اس دور میں ایک basic گھر کی ضرورت چینی کی قیمت میں کمی عوام کے لیے بڑی نعمت ہے۔
ٹی سی پی کا یہ اقدام چینی مارکیٹ میں شفافیت، فراہمی اور قیمت میں توازن پیدا کرسکتا ہے۔
One Response