مودی کی قیادت میں بھارت کی فلسطین پالیسی اخلاقی بزدلی بن گئی
بھارت کی تاریخی فلسطین پالیسی
بھارت نے 18 نومبر 1988 کو فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا، جو عالمی سطح پر فلسطین کی حمایت میں ایک اہم قدم تھا۔ یہ فیصلہ بھارت کی غیر جانبدار خارجہ پالیسی اور مظلوم اقوام کی حمایت کے عزم کا عکاس تھا۔ اس وقت بھارت نے فلسطین کی خودمختاری اور حق خودارادیت کی حمایت میں واضح مؤقف اختیار کیا تھا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں، خاص طور پر گزشتہ 20 ماہ میں، بھارتی کانگریس کے مطابق، مودی حکومت کی فلسطین پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جو کہ ایک شرمناک تنزل ہے۔
کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارت، جو کبھی فلسطین کی حمایت میں پیش پیش تھا، اب اپنی تاریخی فلسطین پالیسی سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسی "اخلاقی بزدلی” کی عکاسی کرتی ہے اور یہ بھارت کے روایتی موقف سے انحراف ہے۔
پریانکا گاندھی نے مزید کہا کہ فلسطین کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں، اور بھارت جیسے ملک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کے حق خودارادیت کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے مودی حکومت کی فلسطین پالیسی کو "قابل افسوس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
جے رام رمیش کا بیان
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی مودی حکومت کی فلسطین پالیسی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا، کینیڈا، اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے حال ہی میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے، اور مزید ممالک کے اس فہرست میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت نے 1988 میں فلسطین کو تسلیم کیا تھا، لیکن اب اس کی فلسطین پالیسی شرمناک حد تک کمزور ہوگئی ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت کی خاموشی اور غیر فعال رویہ فلسطین کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
فلسطین کے حوالے سے عالمی تناظر
فلسطین کا معاملہ عالمی سیاست میں ایک اہم اور حساس موضوع رہا ہے۔ کئی ممالک نے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے، جبکہ کچھ ممالک اب بھی اس معاملے پر غیر جانبدار ہیں۔ بھارت، جو تاریخی طور پر فلسطین کی حمایت کرتا رہا ہے، اب مودی حکومت کے دور میں ایک مختلف راہ پر چلتا دکھائی دیتا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی نہ صرف بھارت کی فلسطین پالیسی کو کمزور کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی اخلاقی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
اسرائیل کے اقدامات پر تنقید
گزشتہ ماہ کانگریس نے مودی حکومت کی اسرائیل کے غزہ میں اقدامات پر خاموشی کی شدید مذمت کی تھی۔ پریانکا گاندھی نے اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطین کے عوام پر ہونے والے مظالم ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کے حق میں واضح مؤقف اپنائے اور اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرے۔
پراکش راج کا بیان
بھارت کے معروف اداکار پراکش راج نے بھی فلسطین کے معاملے پر اپنی آواز بلند کی۔ انہوں نے فلسطین میں جاری مظالم کی ذمہ داری نہ صرف اسرائیل پر عائد کی بلکہ امریکا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پراکش راج نے کہا کہ بھارت کی موجودہ فلسطین پالیسی فلسطین کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ بھارت کے تاریخی مؤقف کے منافی ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات
مودی حکومت کی فلسطین پالیسی پر تنقید صرف کانگریس تک محدود نہیں ہے۔ بھارت کے کئی سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین نے بھی اس تبدیلی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کے چکر میں فلسطین کے معاملے پر خاموشی اختیار کر رہی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف بھارت کی غیر جانبدار خارجہ پالیسی کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے بھارت کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔
فلسطین پالیسی اور بھارت کی عالمی ساکھ
بھارت کی فلسطین پالیسی ہمیشہ سے اس کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ مظلوم اقوام کی حمایت کی ہے اور فلسطین کے معاملے پر اس کا مؤقف عالمی برادری میں سراہا جاتا رہا ہے۔ تاہم، مودی حکومت کی موجودہ پالیسی نے اس روایت کو نقصان پہنچایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ فلسطین پالیسی میں یہ تبدیلی بھارت کے اخلاقی اصولوں سے انحراف ہے۔
عوامی ردعمل
بھارت میں فلسطین کے معاملے پر عوامی سطح پر بھی بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے مودی حکومت کی فلسطین پالیسی کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بھارت اپنے تاریخی مؤقف پر واپس لوٹے۔ کئی سماجی کارکنوں اور تنظیموں نے بھی فلسطین کے حق میں مظاہرے کیے ہیں اور مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کے عوام کی حمایت کرے۔
مسئلہ فلسطین: اقوام متحدہ کے اجلاس میں دو ریاستی حل کی نئی امید
کانگریس کی طرف سے مودی حکومت کی فلسطین پالیسی پر تنقید نے بھارت کی خارجہ پالیسی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پریانکا گاندھی اور جے رام رمیش کے بیانات نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ بھارت کی موجودہ پالیسی اس کے تاریخی مؤقف سے ہٹ کر ہے۔ فلسطین کے عوام کے ساتھ بھارت کی یکجہتی ایک طویل روایت رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت کی پالیسی اس روایت کو کمزور کر رہی ہے۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ مودی حکومت فلسطین پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اپنے تاریخی مؤقف کی طرف لوٹے۔