ڈی جی آئی ایس پی آر ایچیسن کالج لاہور: قومی سلامتی اور ہائبرڈ وارفیئر پر اہم نشست

ڈی جی آئی ایس پی آر ایچیسن کالج لاہور طلبہ نشست
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈی جی آئی ایس پی آر ایچیسن کالج لاہور: قومی سلامتی، دہشت گردی اور ہائبرڈ وارفیئر پر کھل کر گفتگو

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی ایچیسن کالج لاہور میں اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں قومی سلامتی، دہشت گردی کے موجودہ چیلنجز اور پاکستان کو درپیش ہائبرڈ وارفیئر کے خطرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یہ سیشن نہ صرف معلوماتی تھا بلکہ فکری و قومی شعور کو اجاگر کرنے کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اس وقت روایتی اور غیر روایتی دونوں طرح کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے مختلف نیٹ ورکس، خصوصاً فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے پس منظر اور سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بنا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری طرح متحرک اور پرعزم ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ہائبرڈ وارفیئر کے تصور کو بھی تفصیل سے بیان کیا۔ ان کے مطابق جدید دور کی جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اطلاعات، بیانیے اور سوشل میڈیا بھی اس کا اہم محاذ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں جھوٹی خبروں، من گھڑت پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس تناظر میں نوجوان نسل کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تحقیق اور تصدیق کے بغیر کسی خبر کو آگے نہ بڑھائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ قومی یکجہتی اور اداروں پر اعتماد پاکستان کی سلامتی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب قوم متحد ہو کر کھڑی ہوتی ہے تو کوئی بیرونی یا اندرونی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہیں اور انہیں قومی مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس موقع پر پرنسپل ایچیسن کالج نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ایچیسن کالج اور پاک فوج کے درمیان ایک مضبوط اور تاریخی تعلق قائم ہے، جس پر ادارہ فخر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سیشنز طلبہ کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ انہیں براہِ راست قومی اداروں کے نمائندوں سے مکالمے کا موقع ملتا ہے۔

نشست کے دوران طلبہ اور اساتذہ نے کھل کر سوالات کیے، جن میں قومی سلامتی، علاقائی صورتحال، دہشت گردی کے اسباب اور سوشل میڈیا کے کردار جیسے موضوعات شامل تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہر سوال کا جواب تحمل، سنجیدگی اور حقائق کی روشنی میں دیا۔ ان کے اندازِ گفتگو کو شرکاء نے مدبرانہ اور جامع قرار دیا۔

فیکلٹی ممبران نے اس سیشن کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے مکالماتی پروگراموں کا انعقاد جاری رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے دور میں سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، لہٰذا براہِ راست مکالمہ طلبہ کو مستند معلومات فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

شرکاء کے مطابق یہ نشست محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ ایک فکری نشست تھی جس میں نوجوانوں کو قومی معاملات پر کھل کر سوال کرنے اور جوابات سننے کا موقع ملا۔ اس طرح کے مکالمے نہ صرف اداروں اور تعلیمی حلقوں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتے ہیں بلکہ نوجوان نسل میں ذمہ دار شہری ہونے کا شعور بھی پیدا کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ سیشن قومی سلامتی اور موجودہ چیلنجز کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کی ایک اہم کاوش ثابت ہوا۔ طلبہ اور اساتذہ نے اسے ایک مثبت اور تعمیری تجربہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کا تسلسل برقرار رہے گا تاکہ نوجوان نسل کو قومی حقائق سے باخبر رکھا جا سکے اور وہ ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]