ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو: فیض حمید کے کورٹ مارشل پر قیاس آرائیوں سے گریز کریں

ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو: فیض حمید کے کورٹ مارشل پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، پاکستان نے افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کی

اسلام آباد(رئیس الاخبار) :— پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل پر غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، یہ ایک مکمل طور پر قانونی اور شفاف عدالتی عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے گزشتہ شب افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ جب بھی پاکستان نے کسی ملک کے اندر کارروائی کی، اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ انہوں نے اس تاثر کو سختی سے رد کر دیا کہ پاکستان نے افغان سرزمین پر کوئی خفیہ کارروائی کی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی سویلینز کو نشانہ نہیں بناتا، اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں عالمی قوانین کے مطابق ہوتی ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان عبوری حکومت کی پالیسیوں سے ہے جن کی وجہ سے سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں زیادہ تر حملہ آور افغان شہری تھے۔

دہشت گردی کے خلاف کارکردگی

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق:

4 نومبر کے بعد سے 206 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 4 ہزار 910 آپریشنز کیے گئے

ملک میں ہونے والے خودکش حملہ آوروں میں اکثریت افغان تھی

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کے لیے پاکستان کو "گھر کو اندرونی طور پر بھی درست کرنے” کی ضرورت ہے۔

فیض حمید کا کورٹ مارشل

ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں تصدیق کی کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی جاری ہے۔

سیکیورٹی فورسز کا بنوں میں کامیاب آپریشن
آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں میں آپریشن کے دوران 22 خوارج ہلاک کیے گئے۔

انہوں نے کہا:

"یہ ایک قانونی اور عدالتی عمل ہے، اور اس معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔”

سرحدی صورتحال

ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ پاک افغان سرحد پر اسمگلنگ، جرائم اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ ضروری ہے کیونکہ یہی دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

سوشل میڈیا پروپیگنڈا

ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ بیرون ممالک سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور ریاست مخالف بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]