ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں بڑی پیش رفت، مرکزی ملزم گرفتار، مارٹر گولہ اور ہینڈ گرنیڈ برآمد
ڈاکٹر وردہ کے بہیمانہ قتل کیس میں پولیس نے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے اہم ملزم عادل کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد اس ہائی پروفائل کیس کے کئی اہم پہلو سامنے آ گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم نہ صرف قتل کی واردات میں براہ راست ملوث رہا بلکہ اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر لاش کو چھپانے کے لیے منصوبہ بندی بھی کی تھی۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق ملزم عادل نے اپنے ساتھی کے ہمراہ ایک سنسان مقام پر گڑھا کھودا اور ڈاکٹر وردہ کی لاش کو وہاں دفن کر کے شواہد مٹانے کی کوشش کی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل پوری منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان نے واردات کے بعد بچنے کے لیے تمام ممکنہ طریقے اختیار کرنے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم عادل، پولیس مقابلے میں مارے جانے والے مرکزی ملزم شمریز کا قریبی ساتھی ہے۔ شمریز کو اس کیس میں کلیدی کردار حاصل تھا اور پولیس کے ساتھ ایک مبینہ مقابلے میں اس کی ہلاکت کے بعد کیس کی تفتیش ایک نیا رخ اختیار کر گئی تھی۔ اب عادل کی گرفتاری سے پولیس کو مزید شواہد اور معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے، جو کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
گرفتار ملزم کے قبضے سے ڈاکٹر وردہ کا موبائل فون، گاڑی کے اصل کاغذات، اے ٹی ایم کارڈ اور شناختی کارڈ برآمد کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق یہ تمام اشیاء مقتولہ کی ملکیت ہیں، جو اس بات کا مضبوط ثبوت ہیں کہ ملزم واردات میں براہ راست ملوث رہا۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ موبائل فون کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے، جس سے ملزمان کے درمیان رابطوں، مقام اور دیگر اہم شواہد سامنے آنے کا امکان ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم عادل کی نشاندہی پر پولیس نے پولیس مقابلے میں مارے گئے ملزم شمریز کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، جہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں مارٹر گولہ، ہینڈ گرنیڈ اور دیگر مہلک ہتھیار شامل ہیں۔ پولیس حکام نے اس انکشاف کو نہایت تشویشناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسلحے کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملزمان نہ صرف ایک سنگین قتل میں ملوث تھے بلکہ ممکنہ طور پر دیگر جرائم یا دہشت گردی کی سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہو سکتے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اسلحے کی برآمدگی کے بعد کیس کی نوعیت مزید سنگین ہو گئی ہے، جس کے باعث معاملے کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں گرفتار ملزم عادل کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پراسیکیوشن نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالت میں پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم سے مزید تفتیش، برآمدگیوں اور ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے جسمانی ریمانڈ نہایت ضروری ہے۔ عدالت نے پولیس کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم عادل کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران ملزم کے بنیادی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ملزم سے واردات کے محرکات، منصوبہ بندی، دیگر ساتھیوں کے کردار اور اسلحے کے ذرائع سے متعلق تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ واردات کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھی یا اس کے پیچھے کوئی منظم گروہ کارفرما تھا۔
ڈاکٹر وردہ کے قتل نے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے ملزمان کی فوری گرفتاری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ڈاکٹر کا اس طرح قتل ہونا پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
ماہرین قانون کے مطابق کیس میں بھاری اسلحے کی برآمدگی اور انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی اس بات کی علامت ہے کہ تفتیش ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر تفتیش کے دوران مزید شواہد سامنے آتے ہیں تو مقدمے میں مزید دفعات شامل کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کیس کی تفتیش کو ہر ممکن زاویے سے آگے بڑھا رہی ہے اور کسی بھی ذمہ دار فرد کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ پولیس حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس کیس سے متعلق کوئی معلومات ہوں تو وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں۔
مجموعی طور پر ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں ملزم عادل کی گرفتاری اور بھاری اسلحے کی برآمدگی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم اصل سوال اب بھی یہ ہے کہ اس اندوہناک جرم کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے اور آیا اس میں مزید افراد بھی ملوث ہیں۔ آنے والے دنوں میں تفتیش کے نتائج اس کیس کی سمت کا تعین کریں گے، جبکہ متاثرہ خاندان اور عوام انصاف کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

