ڈاکٹر یاسمین راشد نے 9 مئی کے تین مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کو چیلنج کر دیا
پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق تین مختلف مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ انہوں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں حقائق کے برعکس، شواہد کا درست جائزہ لیے بغیر اور جلد بازی میں سزا سنائی گئی، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے یہ اپیلیں اپنے وکیل رانا مدثر عمر کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی ہیں۔ اپیلوں میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ نو مئی کے تینوں مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ اپیل گزار کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور دفاع کو مناسب موقع دیے بغیر فیصلے صادر کیے گئے۔
اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے غیر معمولی عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرائل مکمل کیا، جو نہ صرف آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے بھی سراسر خلاف ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ان پر عائد کیے گئے الزامات ثابت کرنے کے لیے استغاثہ قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، اس کے باوجود انہیں سزائیں سنا دی گئیں۔
درخواست گزار کے مطابق ٹرائل کورٹ نے نہ تو شواہد کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا اور نہ ہی گواہوں کے بیانات میں موجود تضادات کو مدنظر رکھا۔ اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ محض الزامات کی بنیاد پر سزا سنانا قانون اور انصاف دونوں کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے مؤقف اپنایا ہے کہ وہ ایک معروف سیاسی، سماجی اور پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والی شخصیت ہیں اور ان کا کسی پرتشدد سرگرمی میں ملوث ہونا نہ تو ثابت کیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور ہائیکورٹ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اپیلوں کے حتمی فیصلے تک تینوں مقدمات میں ان کی سزاؤں کو معطل کیا جائے۔ اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر سزا معطل نہ کی گئی تو انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ اپیل میں کامیابی کی صورت میں بعد ازاں انصاف کا ازالہ ممکن نہیں رہے گا۔
یہ اپیلیں لاہور کے تھانہ گلبرگ، تھانہ نصیر آباد اور تھانہ ریس کورس میں درج نو مئی کے مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ ان مقدمات کا تعلق 9 مئی 2023 کے ان واقعات سے ہے جن میں ملک بھر میں مختلف مقامات پر احتجاج، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچنے کے الزامات سامنے آئے تھے۔ ان واقعات کے بعد متعدد سیاسی کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔
اپیلوں میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے سیاسی پس منظر اور حالات کو مدنظر رکھے بغیر یکطرفہ فیصلے دیے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے اور انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ان کا کردار ہمیشہ آئینی، جمہوری اور پُرامن سیاسی جدوجہد تک محدود رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ہائیکورٹ میں دائر کی گئی اپیلوں میں ٹرائل کے طریقہ کار، شواہد کے معیار اور سزا کے جواز کو بنیادی نکات کے طور پر چیلنج کیا گیا ہے۔ اپیلوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت کسی بھی ملزم کو سزا دینے کے لیے جرم کا شک سے بالاتر ہو کر ثابت ہونا ضروری ہے، جبکہ زیرِ بحث مقدمات میں یہ معیار پورا نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ان کے بنیادی حقوق، بالخصوص آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق) کی خلاف ورزی کی ہے۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ منصفانہ ٹرائل ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق سے محروم کرنا انصاف کے پورے نظام کو مشکوک بنا دیتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کی اپیلیں نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہیں، کیونکہ 9 مئی کے مقدمات اس وقت ملک کی سیاست میں ایک حساس اور متنازع موضوع بن چکے ہیں۔ ان مقدمات کے فیصلوں کو مختلف حلقوں میں تنقید کا سامنا ہے اور متعدد قانونی ماہرین ٹرائلز کی رفتار اور نوعیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
دوسری جانب، حکومتی مؤقف یہ رہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو رعایت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم اپیل گزار کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی یا پرتشدد سرگرمی میں ملوث نہیں رہیں اور انہیں بلا جواز سزا دی گئی۔
اب تمام تر توجہ لاہور ہائیکورٹ پر مرکوز ہے، جہاں عدالت ان اپیلوں پر سماعت کرے گی۔ عدالت کے فیصلے سے نہ صرف ڈاکٹر یاسمین راشد کے مستقبل کا تعین ہوگا بلکہ 9 مئی کے دیگر مقدمات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے دائر کی گئی یہ اپیلیں ایک اہم قانونی مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ مقدمہ انصاف، قانون کی بالادستی اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے حوالے سے ایک اہم آزمائش ثابت ہو سکتا ہے، جس کے نتائج ملکی سیاست اور عدالتی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔


One Response