سائنس کی دنیا میں انقلاب: دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ متعارف
کبھی تصور کریں کہ آپ اپنی انگلی کو دیکھیں اور اس پر نظر آنے والا سیاہ سا ننھا نقطہ دراصل ایک مکمل روبوٹ ہو۔ جی ہاں، یہ کوئی کہانی یا سائنس فکشن نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ تیار کر لیا ہے، جو سائز میں نمک کے ایک دانے سے بھی چھوٹا ہے لیکن صلاحیتوں میں حیران کن حد تک طاقتور ہے۔
پہلی نظر میں کچھ بھی نہیں
اگر آپ اس روبوٹ کو ننگی آنکھ سے دیکھیں تو شاید آپ اسے دھول کا ذرّہ یا سیاہ دھبہ سمجھ لیں۔ مگر حقیقت میں یہی ننھا سا نقطہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ ہے، جس نے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔
سائنسدانوں کی مشترکہ کامیابی
پنسلوانیا یونیورسٹی اور مشی گن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مل کر اس حیرت انگیز ایجاد کو ممکن بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ ہے جو مکمل طور پر پروگرام ایبل اور خودکار ہے، یعنی اسے حرکت دینے کے لیے کسی ریموٹ کنٹرول، جوائے اسٹک یا بیرونی مقناطیسی میدان کی ضرورت نہیں۔
خودکار حرکت، سب سے بڑی کامیابی
اتنے چھوٹے روبوٹ کو حرکت دینا سائنسدانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ عام روبوٹس میں موٹرز اور بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں، مگر دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ ان سب سے آزاد ہے۔
سائنسدانوں نے اس مسئلے کا حل الیکٹرک فیلڈز کے ذریعے نکالا، جس کی مدد سے یہ ننھا روبوٹ تیرنے، مڑنے اور اپنی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جراثیم کی طرح حرکت
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ جراثیم کی طرح حرکت کرتا ہے۔ یہ نہ صرف اکیلا حرکت کر سکتا ہے بلکہ گروپس کی صورت میں ایک دوسرے سے رابطہ بھی قائم کر سکتا ہے۔ یہی صلاحیت مستقبل میں طبی اور سائنسی میدان میں انقلاب لا سکتی ہے۔
سولر پاور پر چلنے والا روبوٹ
اتنے چھوٹے روبوٹ میں توانائی کا مسئلہ بھی بہت اہم تھا۔ سائنسدانوں نے اس میں ننھے سولر پینلز نصب کیے ہیں جو محض 75 نانو واٹس بجلی پیدا کرتے ہیں۔
یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ اتنی کم توانائی میں بھی نہ صرف زندہ رہتا ہے بلکہ مہینوں تک اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔
کمپیوٹر، میموری اور سینسرز
یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ اپنے اندر کمپیوٹر، میموری اور سینسرز رکھتا ہے۔ ان تمام اجزا کو اس قدر چھوٹے حجم میں فٹ کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔
سائنسدانوں نے خاص سرکٹس تیار کیے جو بجلی کی کھپت کو انتہائی کم رکھتے ہیں۔
ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت
یہ ننھا روبوٹ صرف حرکت ہی نہیں کرتا بلکہ اپنے ماحول کو بھی سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ اپنی حرکت کو وقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرتا رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت مستقبل میں مائیکرو سرجری، دوائیوں کی ترسیل اور خطرناک مقامات کی نگرانی میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
مائیکروسکوپ سے نگرانی
چونکہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ ننگی آنکھ سے تقریباً نظر نہیں آتا، اس لیے سائنسدان اس کی حرکت کو مائیکروسکوپ کے ذریعے مانیٹر کرتے ہیں۔ اس سے موصول ہونے والے سگنلز کو ڈی کوڈ کر کے روبوٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
مستقبل کی امید
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ مستقبل میں طب، ماحولیات اور خلائی تحقیق میں انقلابی کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ روبوٹ انسانی جسم کے اندر جا کر بیماریوں کی تشخیص کر سکتا ہے، بند رگوں تک دوائیں پہنچا سکتا ہے اور حتیٰ کہ کینسر جیسے امراض کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک نئی دنیا کی شروعات
سائنسدانوں کے مطابق اس ایجاد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو انتہائی چھوٹی ڈیوائسز میں بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ دراصل آنے والے دور کی جھلک ہے، جہاں ٹیکنالوجی نظر تو نہیں آئے گی مگر ہر جگہ موجود ہوگی۔
22 سال بعد انقلابی تبدیلی، جی میل نئی آئی ڈی فیچر 2026 متعارف
نتیجہ
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹ محض ایک سائنسی ایجاد نہیں بلکہ انسانی ذہانت، محنت اور تخلیقی سوچ کی عظیم مثال ہے۔ یہ ننھا سا روبوٹ مستقبل کی بڑی تبدیلیوں کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
One Response