قومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ 2017 میں بڑی ترمیم منظور، فیڈرل آئینی عدالت کو مرکزی کردار مل گیا

قومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ ترمیمی بل منظور
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

قومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ 2017 میں بڑی ترمیم منظور، فیڈرل آئینی عدالت کو مرکزی کردار مل گیا، اثاثوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے کا اختیار اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کو دے دیا گیا


اسلام آباد: قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ منظور شدہ ترمیم کے بعد انتخابی قوانین میں متعدد بنیادی تبدیلیاں متعارف کرا دی گئی ہیں، جن میں فیڈرل آئینی عدالت کو مرکزی قانونی حیثیت دینا شامل ہے۔

زرائعے کے مطابق یہ بل رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیا گیا۔ بل کی منظوری کے بعدقومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 9، 66، 104، 104A، 155، 202، 212 اور 232 میں ترمیم کرتے ہوئے لفظ ’’سپریم‘‘ کی جگہ ’’فیڈرل آئینی عدالت‘‘ شامل کر دیا گیا ہے۔

ترمیم کے مطابق اب الیکشن تنازعات، اپیلوں، قانونی تشریح اور آئینی معاملات پر دائرہ اختیار فیڈرل آئینی عدالت کے پاس ہوگا۔

اثاثوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے کا اختیار اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کو دے دیا گیا

قومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 138 میں بھی اہم ترمیم منظور کی ہے، جس کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی رکن کے اثاثوں کی تفصیلات عوامی سطح پر شائع نہ کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔

ترمیم کے مطابق:

جان یا سیکورٹی خطرے کی صورت میں اثاثے شائع نہیں کیے جائیں گے

اسپیکر یا چیئرمین تحریری وجوہات کے ساتھ ایوان میں رولنگ دیں گے

اثاثوں کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھی جا سکیں گی

مکمل اور درست اثاثہ جات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازم ہوگا

اپیلوں اور قانونی تشریح کا اختیار فیڈرل آئینی عدالت کے سپرد

خیبرپختونخوا وزیراعظم کا قومی ورکشاپ سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف کا خیبرپختونخوا میں قومی ورکشاپ سے خطاب

منظور شدہ بل کے تحت:

سیکشن 155 میں سپریم کورٹ کی جگہ فیڈرل آئینی عدالت شامل

سیکشن 202 میں اپیلوں اور قانونی تشریح کا دائرہ اختیار آئینی عدالت کو منتقل

سیکشن 212 اور 232 میں بھی فیڈرل آئینی عدالت کا باضابطہ اندراج

بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ شفافیت اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا قانون سازی کا بنیادی مقصد ہے، تاہم غیر ضروری انکشافات ارکان اور ان کے اہل خانہ کے لیے سیکورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے ذاتی سلامتی اور پرائیویسی کا تحفظ بھی قانون سازی کا اہم حصہ ہے۔

قومی اسمبلی میں دیگر اہم بلز بھی پیش

قومی اسمبلی کے اجلاس میں:

سی آر پی سی ترمیمی بل 2026 غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد

خواتین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش

دستور ترمیمی بل 2026 بھی کمیٹی کے حوالے

قومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ پر بحث کے دوران بیرسٹر گوہر نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن معاملات سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت میں لے جائے جا رہے ہیں، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انتخابی اور آئینی معاملات کا یکساں فورم ہونا ضروری ہے۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]