بجلی کے فکسڈ چارجز میں غیر معمولی اضافہ: سنگل اور تھری فیز صارفین کے لیے نئے ریٹس جاری
وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی صارفین پر مالی بوجھ ڈالنے کا سلسلہ تھم نہ سکا، اب بجلی کے فکسڈ چارجز کی مد میں ریکارڈ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس نئے فیصلے کے تحت سنگل فیز اور تھری فیز میٹرز رکھنے والے تمام گھریلو صارفین اب اپنے منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) کے مطابق ماہانہ فکسڈ رقم ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ اضافہ براہِ راست صارفین کی جیبوں پر اثر انداز ہوگا، چاہے وہ بجلی کم ہی کیوں نہ استعمال کریں۔
سنگل فیز میٹرز کے لیے نئی پالیسی
نئی پالیسی کے مطابق، سنگل فیز میٹرز کے بلوں پر درج منظور شدہ لوڈ کو اب بجلی کے فکسڈ چارجز کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ اب بلوں میں صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت ہی نہیں بلکہ فی کلوواٹ کی بنیاد پر فکسڈ رقم بھی شامل ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے مالیاتی خسارے کو پورا کرنا بتایا جا رہا ہے، لیکن عام آدمی کے لیے یہ بجلی کے فکسڈ چارجز ایک بڑی پریشانی بن کر ابھرے ہیں۔
پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کے ریٹس
حکومت نے مختلف سلیبز کے لیے بجلی کے فکسڈ چارجز کی شرح مختلف رکھی ہے:
- 1 سے 100 یونٹ (پروٹیکٹڈ): 1 کلوواٹ لوڈ پر 200 روپے، جبکہ 2 کلوواٹ لوڈ ہونے کی صورت میں 400 روپے ادا کرنے ہوں گے۔
- 101 سے 200 یونٹ: ان صارفین کو 2 کلوواٹ لوڈ پر 600 روپے بجلی کے فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔
- 201 سے 300 یونٹ: اس سلیب کے لیے 2 کلوواٹ لوڈ پر چارجز 700 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
زیادہ یونٹ استعمال کرنے والوں پر بھاری بوجھ
جیسے جیسے بجلی کا استعمال بڑھتا جائے گا، بجلی کے فکسڈ چارجز کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا جائے گا:
- 301 سے 400 یونٹ: 2 کلوواٹ پر 800 روپے ماہانہ۔
- 401 سے 500 یونٹ: 2 کلوواٹ لوڈ پر 1000 روپے کی ادائیگی لازمی ہوگی۔
- 501 سے 700 یونٹ: ان صارفین کے لیے بجلی کے فکسڈ چارجز کی رقم 1350 روپے تک پہنچ جائے گی۔
تھری فیز میٹرز اور ایم ڈی آئی (MDI) کا نظام
تھری فیز میٹر رکھنے والے صارفین کے لیے قواعد مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ ان صارفین پر بجلی کے فکسڈ چارجز کا اطلاق یونٹس اور ایم ڈی آئی (Maximum Demand Indicator) کی بنیاد پر ہوگا۔ اگر کسی صارف کی ایم ڈی آئی ریڈنگ منظور شدہ لوڈ سے زیادہ آتی ہے، تو اسے زیادہ ریڈنگ کے مطابق چارجز ادا کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ، تھری فیز میٹر پر کم از کم 50 فیصد منظور شدہ لوڈ پر بجلی کے فکسڈ چارجز ہر حال میں لاگو ہوں گے۔
منظور شدہ لوڈ اور صارفین کی ذمہ داری
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اب اپنے منظور شدہ لوڈ پر نظر رکھنی ہوگی۔ اگر آپ کا لوڈ ضرورت سے زیادہ ہے تو بجلی کے فکسڈ چارجز سے بچنے کے لیے اسے کم کروانا ایک بہتر آپشن ہو سکتا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ چارجز بجلی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، لیکن عوامی حلقوں میں بجلی کے فکسڈ چارجز کے اس ریکارڈ اضافے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
بجلی اور گیس پر کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ، صرف مستحقین کو بی آئی ایس پی کے تحت ریلیف ملے گا
بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان بجلی کے فکسڈ چارجز کا نفاذ غریب اور متوسط طبقے کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان چارجز پر نظرثانی کرے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ موجودہ صورتحال میں بجلی کے فکسڈ چارجز میں یہ اضافہ مہنگائی کی چکی میں پسی عوام کے لیے ایک اور کڑا فیصلہ ثابت ہو رہا ہے۔