شام کی عدالتیں: ہائیکورٹ کا فوری انصاف کے لیے انقلابی فیصلہ

شام کی عدالتیں – ہائیکورٹ کا فوری انصاف کے لیے بڑا فیصلہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: شام کی عدالتیں قائم، عوام کو فوری انصاف کی سہولت

عدالتی نظام میں انقلابی قدم: پشاور اور ایبٹ آباد میں شام کی عدالتوں کا آغاز

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نیا اور اہم باب رقم ہونے جا رہا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے عدالتی اصلاحات کے تحت ایک انقلابی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے شام کی عدالتوں کا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا ہے بلکہ عوام کو فوری اور بآسانی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہے۔

ابتدائی طور پر یہ پائلٹ پروجیکٹ پشاور اور ایبٹ آباد کی سیشن کورٹس میں نافذ کیا جا رہا ہے، جہاں دوسری شفٹ کی صورت میں شام کی عدالتیں کام کریں گی۔ پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے کے مطابق، ان عدالتوں کا وقت دوپہر ڈھائی بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک ہوگا، یعنی عدالتوں کا ایک نیا دورانیہ متعارف کروایا گیا ہے جو پاکستان کے روایتی عدالتی اوقات سے مختلف ہے۔

کیوں ضروری تھیں شام کی عدالتیں؟

پاکستان کا عدالتی نظام برسوں سے ایک بحران کا شکار رہا ہے — تاخیر سے انصاف، لاکھوں زیر التواء مقدمات، اور عدالتی نظام پر عوام کا کم ہوتا ہوا اعتماد۔ ایک عام شہری کے لیے سالوں تک مقدمات کا چلنا معمول بن چکا ہے، جس سے نہ صرف سائلین ذہنی، جسمانی اور مالی اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ نظامِ انصاف کی افادیت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

اس تناظر میں پشاور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ ایک انقلابی قدم کہا جا سکتا ہے، کیونکہ شام کی عدالتیں عدالتی نظام کو دن کے محدود اوقات سے نکال کر مزید متحرک اور عوامی بنائیں گی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ افراد جو دن کے وقت مصروفیات کی وجہ سے عدالتوں میں پیش نہیں ہو سکتے، شام کے وقت اپنے مقدمات کی پیروی کر سکیں گے۔

کن مقدمات کی سماعت ہوگی؟

مراسلے کے مطابق شام کی عدالتیں خاص طور پر ان مقدمات کی سماعت کریں گی جن کی نوعیت نسبتاً سادہ اور جلد نمٹائی جا سکتی ہے:

سول مقدمات (خصوصاً کرایہ، جائیداد، تنازعات وغیرہ)

فیملی کیسز (خلع، نان نفقہ، بچوں کی حوالگی، و دیگر عائلی مسائل)

منشیات کے مقدمات (جن میں خواتین اور نابالغ ملزمان شامل ہوں)

ایسے منشیات مقدمات جن کی سزائیں 7 سال سے کم ہوں

یہ انتخاب اس لیے کیا گیا ہے تاکہ پیچیدہ، وقت طلب اور فوجداری نوعیت کے مقدمات کو شام کی عدالتوں میں منتقل کیے بغیر، جلد اور بآسانی قابلِ فیصلہ کیسز کو نمٹایا جا سکے۔

پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز: کہاں اور کیسے؟

فی الحال یہ منصوبہ پشاور اور ایبٹ آباد کی سیشن کورٹس میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کیا جا رہا ہے۔ ان عدالتوں میں تعینات جوڈیشل افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور انہیں شام کے اوقات میں مقدمات کی سماعت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

یہ اقدام کئی مراحل میں دیگر اضلاع تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ابتدائی پائلٹ مرحلہ کامیاب اور مؤثر ثابت ہو۔ اس کے علاوہ عدالتی افسران، وکلا، اور دیگر عدالتی عملے کی رضامندی اور سہولت بھی اس منصوبے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

ممکنہ فوائد

مقدمات کے بوجھ میں کمی: شام کی عدالتیں ایک متوازی عدالتی وقت فراہم کریں گی، جس سے عدالتوں پر دباؤ کم ہو گا اور زیر التواء مقدمات جلد نمٹائے جا سکیں گے۔

فوری انصاف: جلد فیصلوں سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہو گا اور "انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے” کے تاثر کا ازالہ ممکن ہوگا۔

خواتین اور بچوں کو سہولت: شام کے وقت خواتین اور نابالغ ملزمان کے مقدمات کی سماعت، ان کے لیے علیحدہ ماحول فراہم کر سکتی ہے، جہاں وہ خود کو زیادہ محفوظ اور سہولت یافتہ محسوس کریں۔

وکلا کے لیے زیادہ مواقع: وکلا کو بھی زیادہ وقت اور مواقع میسر آئیں گے، جو انہیں اپنے کیسز کو بہتر انداز میں تیار اور پیش کرنے میں مدد دیں گے۔

معاشی فوائد: جلد مقدمات کے فیصلے سائلین کے مالی اخراجات کو کم کریں گے، جو اکثر لمبے کیسز کی وجہ سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔

ممکنہ چیلنجز

یقیناً ہر نئے نظام کے ساتھ کچھ مسائل اور سوالات بھی جنم لیتے ہیں:

عملے کی دستیابی: عدالتی افسران اور دیگر عملے کو شام کے وقت کام پر آمادہ کرنا ایک بڑا انتظامی چیلنج ہو سکتا ہے۔

وسائل کی قلت: اضافی اوقات کے لیے مزید بجٹ، سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔

وکلا اور سائلین کی شمولیت: شام کے وقت کتنے وکلا یا سائلین عدالتوں میں پیش ہونے کو ترجیح دیں گے، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

سیکیورٹی و لاجسٹکس: شام کے وقت عدالتوں کی سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی سہولیات کا بندوبست ایک الگ توجہ طلب معاملہ ہوگا۔

کیا شام کی عدالتیں مستقل بن سکتی ہیں؟

اگر یہ نظام کامیاب رہا تو مستقبل میں شام کی عدالتیں نہ صرف پائلٹ پروجیکٹ کی حد تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پورے ملک میں اس کا دائرہ کار بڑھایا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہفتے میں چند روز یا مخصوص دنوں کے لیے شام کی عدالتیں قائم کی جائیں یا مخصوص نوعیت کے مقدمات کو شام کی شفٹ میں مکمل طور پر منتقل کر دیا جائے۔

یہ ماڈل ہفتہ وار تعطیل کے دنوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے عدالتی نظام کو مزید لچک دار اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی تناظر

دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں شام یا اختتامِ ہفتہ کی عدالتیں معمول کا حصہ ہیں، خصوصاً امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں اسمال کلیمز، فیملی، اور ٹریفک کورٹس شام یا اختتامِ ہفتہ پر بھی فعال رہتی ہیں۔

پاکستان جیسے ملک، جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مقدمات کا بوجھ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، اس قسم کے ماڈلز سے فائدہ اٹھانا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔

انصاف کی جانب ایک امید افزا قدم

پشاور ہائیکورٹ کا یہ اقدام بجا طور پر نظامِ انصاف میں ایک مثبت اور عملی قدم ہے۔ جہاں ایک جانب یہ فوری انصاف کی فراہمی کے لیے راہ ہموار کرے گا، وہیں دوسری جانب عدالتی نظام کو عوام دوست، قابل رسائی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی بنیاد رکھے گا۔

اس فیصلے کی کامیابی کا انحصار عملدرآمد، نیت، وسائل اور تعاون پر ہے۔ اگر متعلقہ ادارے اس منصوبے کو سنجیدگی، نظم و ضبط اور جدید انتظامی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھائیں، تو شام کی عدالتیں پاکستان میں عدالتی نظام کے لیے ایک نئی صبح کی نوید ثابت ہو سکتی ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں عمر ایوب اور شبلی فراز کی نااہلی کی سماعت
پشاور ہائی کورٹ نے عمر ایوب اور شبلی فراز کی نااہلی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی اور اپوزیشن لیڈرز کی تقرری روک دی۔
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]