فیض حمید عمران خان کیس: سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے وکیل نے سرکاری گواہ بننے کی خبروں کی سختی سے تردید کردی
اسلام آباد: سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (ڈی جی آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے وکیل نے واضح طور پر ان خبروں کی تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مختلف مقدمات میں سرکاری گواہ بن سکتے ہیں۔ فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ان اطلاعات کو بے بنیاد، قیاس آرائی پر مبنی اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں پر ردِعمل دیتے ہوئے بیرسٹر میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ بننے کا نہ تو کوئی ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تمام خبریں محض افواہوں پر مبنی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
دی نیوز کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں بیرسٹر میاں علی اشفاق نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور میڈیا حلقوں میں پھیلائی جانے والی یہ اطلاعات سراسر غلط ہیں کہ فیض حمید عمران خان کے خلاف گواہی دینے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں، یہ محض قیاس آرائیاں ہیں جنہیں بلاوجہ ہوا دی جا رہی ہے‘‘۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران بعض وفاقی وزراء اور اسٹیبلشمنٹ سے قربت کے حوالے سے جانے جانے والے سینیٹر فیصل واوڈا متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی عمران خان کے خلاف گواہی دیں گے۔ ان بیانات کے بعد سیاسی ماحول میں یہ تاثر مضبوط ہونے لگا تھا کہ فیض حمید ممکنہ طور پر ریاستی مؤقف کی حمایت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں عمران خان اور فیض حمید کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ ان واقعات کے دوران عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوا تھا، جس کے دوران بعض حساس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کو ملکی سیاست کا ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا جاتا ہے۔
جب بیرسٹر میاں علی اشفاق سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے اس معاملے پر براہِ راست اپنے مؤکل فیض حمید سے بات کی ہے یا نہیں، تو انہوں نے براہِ راست ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ کہنے کے بجائے کہا، ’’مجھے یہ بات بطورِ حقیقت معلوم ہے‘‘۔ ان کے اس بیان سے یہ واضح تاثر ملا کہ فیض حمید کے عمران خان کے خلاف سرکاری گواہ بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فیض حمید اور عمران خان کے درمیان مبینہ تعلقات اور گٹھ جوڑ کے حوالے سے سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کو بعض قانونی اور سیاسی مبصرین سرکاری سرپرستی میں بننے والا بیانیہ قرار دے رہے ہیں، جو 9 مئی کے واقعات کے بعد بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بیانیے کا مقصد سیاسی معاملات کو ایک مخصوص رخ دینا اور بعض شخصیات کو یکطرفہ طور پر ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔
یہ قیاس آرائیاں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب حال ہی میں ایک فوجی عدالت نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث دوبارہ زور پکڑ گئی کہ آیا فیض حمید مستقبل میں کسی قانونی یا سیاسی ڈیل کے تحت ریاستی مؤقف کی حمایت کریں گے یا نہیں، تاہم ان کے وکیل کے حالیہ بیان نے ان تمام اندازوں کو رد کر دیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے سینئر ارکان، جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ شامل ہیں، متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات عمران خان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان ایک منظم اور مربوط منصوبے کا نتیجہ تھے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان واقعات کے پیچھے صرف عوامی ردِعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا لائحہ عمل کارفرما تھا۔
تاہم ان سیاسی دعوؤں کے باوجود فوج کے ترجمان ادارے، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)، نے تاحال اپنی کسی باضابطہ پریس بریفنگ یا بیان میں یہ واضح طور پر نہیں کہا کہ عمران خان اور فیض حمید کے درمیان کسی قسم کا گٹھ جوڑ ثابت ہوا ہے۔ اس خاموشی کو بعض حلقے اہم قرار دے رہے ہیں اور اسے سیاسی بیانیے اور ادارہ جاتی مؤقف میں فرق سے تعبیر کر رہے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حال ہی میں جب حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات سے دی نیوز نے سوال کیا کہ فیض حمید اور عمران خان کے درمیان تعلقات سے متعلق دعوے کسی سول یا فوجی تحقیقات کے نتائج پر مبنی ہیں یا محض قرائن اور اندازوں پر، تو انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس معاملے پر آئی ایس پی آر سے رجوع کیا جائے، جس سے اس بحث کو مزید تقویت ملی کہ معاملے پر کوئی واضح اور حتمی مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو فیض حمید کے وکیل کی جانب سے جاری کی گئی یہ وضاحت سیاسی اور قانونی منظرنامے میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس بیان نے نہ صرف میڈیا میں گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کیا ہے بلکہ اس تاثر کو بھی کمزور کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی عمران خان کے خلاف ریاستی گواہ بننے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ اس معاملے پر مزید کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آتا ہے یا نہیں، اور آیا یہ قیاس آرائیاں وقت کے ساتھ دم توڑ دیتی ہیں یا کسی نئے موڑ کی طرف بڑھتی ہیں۔

