پاکستان کی معیشت اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ محصولات کا کم ہونا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال پہلی سہ ماہی میں 195 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ صورتحال حکومت کے مالیاتی نظم و نسق کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
پہلی سہ ماہی کا ریونیو ہدف
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران 3020 ارب روپے کے محصولات کا ہدف مقرر کیا تھا۔ تاہم حقیقت میں صرف 2885 ارب روپے اکٹھے ہو سکے، جس سے ہدف کے مقابلے میں نمایاں کمی سامنے آئی۔
ستمبر کے مہینے کی کارکردگی
ایف بی آر ذرائع کے مطابق صرف ستمبر میں 1230 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا گیا۔ اگرچہ یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ بہتر رہی، لیکن مقررہ اہداف کو حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی۔ اس طرح مجموعی طور پر ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال مزید بڑھ گیا۔
شارٹ فال کے اثرات
195 ارب روپے کا شارٹ فال معیشت پر کئی منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ اس سے بجٹ خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور حکومت کو اپنے ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی کرنا پڑ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی مالیاتی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان ہے۔
ممکنہ وجوہات
- درآمدات میں کمی کے باعث کسٹمز ڈیوٹی میں کمی۔
- معاشی سست روی کے باعث سیلز ٹیکس کی وصولی کم ہونا۔
- انکم ٹیکس فائلرز کی شرح میں سست اضافہ۔
- پالیسی سطح پر عدم تسلسل۔
یہ تمام عوامل مل کر ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال میں اضافے کا باعث بنے۔
انکم ٹیکس گوشوارے
ایف بی آر ذرائع کے مطابق 30 ستمبر تک 40 لاکھ سے زائد انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ہیں۔ یہ تعداد پچھلے برس کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن محصولات میں اضافہ اتنا نہیں ہوا جتنا متوقع تھا۔

عالمی تناظر
دنیا بھر میں محصولات کی کمی کئی ممالک کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ قرضوں کی ادائیگی اور عوامی اخراجات پہلے ہی زیادہ ہیں۔ اس پس منظر میں ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال ایک سنگین چیلنج ہے۔
ممکنہ حل
- ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنا۔
- ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف بنانا۔
- اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے خلاف سخت اقدامات۔
- ان ڈائریکٹ ٹیکس کے بجائے ڈائریکٹ ٹیکسز پر زیادہ زور دینا۔
اگر یہ اقدامات کیے گئے تو مستقبل میں ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کم کیا جا سکتا ہے۔
عوامی ردعمل
کاروباری برادری اور ماہرین اقتصادیات اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر محصولات کے اہداف مسلسل حاصل نہ ہوئے تو ملکی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
FBR Tax Return Date Extended – ایف بی آر نے آخری تاریخ 15 اکتوبر تک بڑھادی 2025 اپ ڈیٹ
مجموعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال معیشت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ آنے والے مہینوں میں محصولات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں اور بجٹ خسارہ مزید نہ بڑھے۔