ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال: پاکستان کی معیشت پر نیا دھچکا
پاکستان کی معاشی استحکام کی راہ میں ایک اور رکاوٹ سامنے آ گئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں ماہ نومبر 2025 میں مقررہ ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور تقریباً 100 ارب روپے کا ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ناکامی نہ صرف ماہانہ کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پورے مالی سال 2025-26 کے لیے 13.9 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق، نومبر میں اب تک 885 ارب روپے کی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں، جو 995 ارب روپے کے ہدف سے 110 ارب روپے کم ہیں۔ اس ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کی وجہ معاشی سست روی، سیلاب کی تباہ کاریاں اور ٹیکس دہندگان کی کم کارکردگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ 29 اور 30 نومبر کے حتمی اعداد و شمار سے یہ خسارہ کچھ کم ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر صورتحال تشویش ناک ہے۔
نومبر ماہ کی تفصیلی کارکردگی: ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کی جھلک
نومبر 2025 کا ماہ ایف بی آر کے لیے امتحان بن گیا۔ مقررہ ہدف 995 ارب روپے تھا، جبکہ عبوری وصولیاں 885 ارب روپے تک محدود رہیں۔ یہ ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال تقریباً 11 فیصد ہے، جو پچھلے مہینوں کی نسبت زیادہ ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔
مثال کے طور پر، انکم ٹیکس کی وصولی 403 ارب روپے رہی، جو ہدف سے 36 ارب کم تھی۔ سیلز ٹیکس 364 ارب روپے تک پہنچا، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) 64 ارب اور کسٹمز 108 ارب روپے رہے۔ یہ اعداد و شمار پروفٹ بائی پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں، جو بتاتی ہے کہ نومبر کا خسارہ 157 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے اگر اضافی وصولیاں نہ ہوئیں۔
حکام نے بتایا کہ 29 نومبر کو تمام لارج ٹیکس پئیرز آفسز (LTOs)، میڈیم ٹیکس پئیرز آفسز (MTOs)، کارپوریٹ ٹیکس آفسز (CTOs) اور ریجنل ٹیکس آفسز (RTOs) کو ہفتہ کی چھٹی پر بھی کھلا رکھا گیا تاکہ ٹیکس دہندگان کی سہولت ہو۔ اس کے باوجود، رات گئے تک وصولیاں 895 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جو 90 فیصد کارکردگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
پہلے پانچ ماہ کا جائزہ: مجموعی ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال
رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) میں ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال مزید واضح ہو گیا ہے۔ مجموعی عبوری خالص وصولیاں 4730 ارب روپے ہیں، جو 5045 ارب روپے کے ہدف سے 315 ارب روپے کم ہیں۔ یہ خسارہ جولائی میں اضافی وصولیوں کے باوجود آگے بڑھنے والے مہینوں کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔
ماہانہ بریک ڈاؤن یہ ہے:
- جولائی 2025: ہدف 748 ارب روپے کے مقابلے 757 ارب روپے وصول (اضافی 9 ارب)
- اگست 2025: ہدف 950 ارب کے مقابلے 901 ارب (49 ارب کا خسارہ)
- ستمبر 2025: ہدف 1325 ارب کے مقابلے 1228 ارب (97 ارب کا خسارہ)
- اکتوبر 2025: ہدف 1026 ارب کے مقابلے 951 ارب (75 ارب کا خسارہ)
- نومبر 2025: ہدف 995 ارب کے مقابلے 885 ارب (110 ارب کا خسارہ)
ڈنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ مجموعی ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال 412 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ جیو نیوز نے 143 ارب روپے ماہانہ خسارے کی نشاندہی کی۔ IMF کی نظرثانی شدہ ہدف 13.9 ٹریلین روپے تھا، جو سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد 14.131 ٹریلین سے کم کیا گیا، لیکن اب یہ بھی چیلنج بن رہا ہے۔
ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کی بنیادی وجوہات
ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کی کئی وجوہات ہیں، جن میں معاشی عوامل سرفہرست ہیں۔ حالیہ سیلاب نے زرعی اور صنعتی شعبوں کو بری طرح متاثر کیا، جس سے ٹیکس بیس سکڑ گیا۔ اس کے علاوہ، درآمدات میں کمی، افراط زر کی غیر متوقع طور پر کم ہونے (سنگل ڈیجٹ تک) اور صنعتی یونٹس کی بندش نے وصولیوں کو روکا۔
پروفٹ بائی پاکستان ٹوڈے کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ انکم ٹیکس میں 177 ارب اور سیلز ٹیکس میں 250 ارب روپے کا خسارہ ہوا، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی ہدف سے اوپر رہی کیونکہ درآمدات 30.1 فیصد بڑھیں۔ اس کے علاوہ، ریفنڈز کی ادائیگی بھی ایک عنصر ہے – پہلے پانچ ماہ میں 255 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے، جن میں نومبر میں 48 ارب شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی عدم تعاون اور ڈیجیٹل سسٹم کی ابتدائی مشکلات بھی اس ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کو بڑھا رہی ہیں۔ تاہم، ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 8.83 فیصد سے بڑھ کر 10.33 فیصد ہو گیا، جو 23 سال کی بہترین کارکردگی ہے۔
IMF اور بین الاقوامی دباؤ: نظرثانی شدہ ہدف کا خطرہ
ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال IMF کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان نے سیلاب کی وجہ سے ہدف 14.131 ٹریلین سے کم کرکے 13.9 ٹریلین کیا تھا، لیکن مسلسل خسارے سے اب یہ بھی دور نظر آ رہا ہے۔ پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق، IMF نئی ٹیکس پالیسیاں نافذ کرنے کا دباؤ بڑھا سکتا ہے، جیسے اضافی ٹیکسز یا کنٹینجنس اقدامات۔
فنانس منسٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ فی الحال کوئی نئی ٹیکس پالیسی زیر غور نہیں، بلکہ کمپلائنس بہتر کرنے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ ہے۔ انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد 18 فیصد بڑھ کر 5.9 ملین ہو گئی، جو مثبت نشانی ہے۔
دسمبر 2025 کا ہدف: نیا چیلنج
ایف بی آر نے دسمبر 2025 کے لیے 1406 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو پچھلے مہینوں کی نسبت زیادہ ہے۔ پہلے پانچ ماہ کے ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ہدف حاصل کرنا بڑا امتحان ہوگا۔ حکام نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے کمرشل بینکوں کو ہفتہ کی چھٹی پر کھلے رکھنے کی درخواست کی ہے تاکہ اضافی 15 ارب روپے کی وصولی ممکن ہو۔
جولائی-دسمبر تک کا ہدف 6.49 ٹریلین روپے ہے، جبکہ اب تک 4.7 ٹریلین وصول ہو چکے ہیں۔ اگر خسارہ جاری رہا تو سالانہ ہدف میں 400 ارب سے زائد کا خسارہ ہو سکتا ہے۔
ایف بی آر کی اصلاحات: شارٹ فال کم کرنے کی کوششیں
ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کو کم کرنے کے لیے کئی اصلاحات شروع کی گئی ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم، فیس لیس کسٹمز ایپریزل اور انفورسمنٹ ریونیو میں 8 گنا اضافہ شامل ہے۔ ٹوباکو جیسے شعبوں میں کارکردگی بہتر ہوئی، اور انفرادی ٹیکس پئیرز 18 فیصد بڑھے۔
فنانس ایکٹ 2025 کی انوملی کمیٹی اور بجٹ 2025-26 کی تجاویز پر کام جاری ہے۔ ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیل نے کہا کہ نئی ٹیکسز کی بجائے ٹیکس بیس بڑھانا ترجیح ہے۔
ماہانہ وصولیوں کا تقابلی جائزہ
نیچے دی گئی ٹیبل میں ماہانہ ہدف اور وصولیوں کا موازنہ ہے:
| مہینہ | ہدف (ارب روپے) | وصولی (ارب روپے) | خسارہ (ارب روپے) | کارکردگی (%) |
|---|---|---|---|---|
| جولائی | 748 | 757 | -9 (اضافی) | 101 |
| اگست | 950 | 901 | 49 | 95 |
| ستمبر | 1325 | 1228 | 97 | 93 |
| اکتوبر | 1026 | 951 | 75 | 93 |
| نومبر | 995 | 885 | 110 | 89 |
| مجموعی | 5045 | 4730 | 315 | 94 |
یہ اعداد و شمار فوڈرل بورڈ آف ریونیو کی ابتدائی رپورٹس پر مبنی ہیں۔
مستقبل کی توقعات اور سفارشات
ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال کو روکنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے چاہییں، جیسے ٹیکس بیس کو مزید وسیع کرنا، ڈیجیٹل نگرانی بڑھانا اور ٹیکس دہندگان کو مراعات دینا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دسمبر میں ہدف حاصل ہو جائے تو سالانہ خسارہ 400 ارب تک محدود رہ سکتا ہے۔
پاکستان، مصر کے ساتھ 250 کاروباری اداروں کی فہرست شیئر کرے گا:اسحاق ڈار کی مصری وزیرخارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس
ایف بی آر ٹیکس شارٹ فال پاکستان کی معاشی بحالی کو متاثر کر رہا ہے، لیکن اصلاحات اور بہتر انتظام سے یہ قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ حکومت اور ایف بی آر کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ IMF کے تقاضے پورے ہوں اور معیشت مستحکم ہو۔
One Response