آئینی عدالت کا اہم فیصلہ : پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف اپیل پر حکومت کو نوٹس جاری

پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس حکومت کو نوٹس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آئینی عدالت کا اہم فیصلہ : پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف اپیل پر حکومت کو نوٹس جاری

اسلام آباد (رئیس الاخبار) :— وفاقی آئینی عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف دائر اپیل پر حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر تفصیلی قانونی بحث کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تشکیل دیے گئے 5 رکنی لارجر بینچ کی سماعت کے دوران سنایا۔

سماعت کے دوران بینچ کی تشکیل پر سوالات

سماعت کے آغاز میں وکیل سمیر کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر سے متعلق اس معاملے پر پہلے ہی سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ ابتدائی فیصلہ دے چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اپیل نئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت دائر کی گئی ہے، جس کے مطابق اس نوعیت کی اپیل لارجر بینچ کے سامنے ہی سنی جا سکتی ہے، لہٰذا 5 رکنی بینچ کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھتا ہے۔

اٹارنی جنرل آفس کا مؤقف

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت ایک الگ حیثیت رکھتی ہے، اس لیے ججز کی تعداد زیادہ ہو یا کم، اس سے اپیل کے قابلِ سماعت ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کسی کیس کو کتنے رکنی بینچ کے سامنے سنا جانا چاہیے۔

بینچ کے ریمارکس

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے:

“نوٹس جاری کرنے کی حد تک بظاہر کوئی قانونی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ بینچ کی تشکیل اور اپیل کی نوعیت پر تفصیلی بحث بعد میں کی جائے گی، تاہم ابتدائی مرحلے میں فریقین کا مؤقف سننا ضروری ہے۔

حکومت کو نوٹس جاری

بانی پی ٹی آئی گرفتاری کیس عدالت کی کاروائی
اسلام آباد کی عدالت میں بانی پی ٹی آئی گرفتاری کیس کی سماعت کا منظر

دلائل سننے کے بعد عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف دائر اپیل پر حکومت کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر حکومت اپنا تحریری جواب جمع کرائے، جس کے بعد کیس کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق مزید کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

گزشتہ سال منظور کیے گئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں متعدد ترامیم کی گئی تھیں جن کا مقصد بینچ تشکیل کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنا تھا۔ اس کے خلاف مختلف وکلاء نے آئینی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں، جن پر سماعت اہم موڑ اختیار کر چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]