گیس مہنگی نہیں ہوگی، حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھا کر 3 ہزار ارب کے گردشی قرضے پر قابو پانے کا منصوبہ،
اسلام آباد: حکومت نے گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اوگرا کی جانب سے مقررہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے ڈیزل اور پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس رکن اسمبلی سید محمد مصطفیٰ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یکم جنوری سے گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا۔
وزیر پیٹرولیم نے تصدیق کی کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ، لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت، تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تاہم جب اراکین نے پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز پر سوالات اٹھائے تو وزیر نے کہا کہ اس معاملے پر علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے، اگرچہ انہوں نے اس تجویز کی واضح تردید بھی نہیں کی۔
پیٹرولیم لیوی کیوں؟
اجلاس میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھا کر 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جسے بجلی صارفین کے لیے سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور وفاقی آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر جواز فراہم کیا جاتا رہا ہے۔
اوگرا کی سفارشات
نومبر 2025 کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی 886 ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد (118 روپے فی یونٹ) تک اضافے کا تعین کیا تھا۔ قانون کے مطابق حکومت کو 40 دن کے اندر گیس نرخوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
تاہم وزیر پیٹرولیم نے واضح کیا کہ آئندہ چھ ماہ تک گیس قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔ ان کے مطابق حکومت گیس چوری اور نقصانات کم کرنے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہی ہے اور اضافی ایل این جی کارگو کو عالمی منڈی میں منتقل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدہ
علی پرویز ملک نے بتایا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اضافی ایل این جی کی عالمی منڈی میں فروخت کے لیے باہمی طور پر قابل قبول انتظام طے پا گیا ہے، جس سے گیس سیکٹر پر مالی دباؤ کم ہونے کی امید ہے۔
کمیٹی ارکان کے سوالات
رکن اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ اب بجلی کے شعبے سے بھی زیادہ ہو چکا ہے اور سوال اٹھایا کہ کیا ڈیزل اور پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز اسی مقصد کے لیے ہے؟ اس پر وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ کمیٹی کو پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے حوالے سے باضابطہ بریفنگ دی جائے گی۔
آئی ایم ایف شرائط اور اصلاحات
وزیر نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کی گئی گیس گردشی قرضے سے متعلق تفصیلی رپورٹ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پیش کی جا چکی ہے اور نئے گردشی قرضے کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، جو ایک اہم اصلاحی قدم ہے۔
سوئی گیس کمپنیوں کی کارکردگی
اجلاس میں سوئی گیس کمپنیوں کے سربراہان نے آپریشنل بہتری سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔

ایس این جی پی ایل کے ایم ڈی عامر طفیل کے مطابق غیر حساب شدہ گیس نقصانات نو فیصد سے کم ہو کر پانچ فیصد رہ گئے ہیں۔
ایس ایس جی سی نے بتایا کہ ان کے نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد ہو گئے ہیں، تاہم بلوچستان میں سالانہ 12 ارب روپے کے گیس نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔
نگرانی اور سپلائی میں بہتری
کمیٹی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ گیس چوری اکثر ملی بھگت سے ہوتی ہے، جس پر وزیر نے بتایا کہ ملک بھر میں فیڈر ٹو فیڈر مانیٹرنگ نافذ کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق رواں موسمِ سرما میں گھریلو صارفین کو بہتر گیس فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔ ایس این جی پی ایل کے مطابق نومبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں یومیہ 61 ملین مکعب فٹ اضافی گیس فراہم کی گئی، جو دسمبر میں بڑھ کر 95 ملین مکعب فٹ ہو گئی۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ اس وقت کسی بھی گھریلو گیس فیلڈ کی فراہمی محدود نہیں جبکہ بجلی کے شعبے کو اس کی طلب سے زیادہ گیس دی جا رہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ سے بچا جا سکے۔
Federal Minister Ali Pervaiz Malik announced that on the directions of PM Muhammad Shahbaz Sharif gas prices will not be increased for the next six months in any category. He further briefed NA Standing Committee that the circular debt flow in the gas sector has been quelled pic.twitter.com/CO8krWVVhk
— Petroleum Division, Ministry of Energy (@Official_PetDiv) January 6, 2026