غزہ کے لیے امدادی جہازوں کا قافلہ محصور، اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ

اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

غزہ کے لیے امدادی جہازوں کا قافلہ محصور،اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ، دو جہازوں پر اسرائیلی بحریہ کے حملے کی اطلاعات

غزہ : اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر انسانی ہمدردی کے امدادی قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا کو گھیر لیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے قافلے کی متعدد کشتیوں کو روکنے کی کوشش کی ہے اوراسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ فلوٹیلا کے ایک جہاز میں موجود تمام ارکان کو حراست میں لینے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے کشتیوں میں سوار کارکنوں کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جبکہ فلوٹیلا میں شامل کئی کشتیوں کا لائیو فیڈ بھی اچانک بند ہوگیا ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ سلسلہ اسرائیلی بحریہ کی کارروائی کا نتیجہ ہے۔

ریڈ کراس کی امدادی سرگرمیاں متاثر

ریڈکراس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شدت کے باعث غزہ سٹی میں آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور عملے کو جنوبی غزہ میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس وقت غزہ سٹی میں ہزاروں افراد سنگین حالات سے دوچار ہیں جبکہ فلسطینی ریڈ کریسنٹ اور سول ڈیفنس کے رضا کار مسلسل امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

صمود فلوٹیلا پر حملے کا خدشہ

گلوبل صمود فلوٹیلا کا مشن

گلوبل صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد کشتیاں شامل ہیں جو ادویات اور امدادی سامان لے کر غزہ کے محصور عوام کی مدد کے لیے جا رہی ہیں۔ قافلہ اس وقت ہائی رسک زون میں داخل ہو چکا ہے جو ماضی میں بھی اسرائیلی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی لمحے اسرائیلی افواج کی مداخلت کے لیے تیار ہیں۔

حماس کا غزہ امن منصوبے پر اعتراض، اسرائیلی انخلا کی ضمانت کا مطالبہ

عالمی ردعمل اور سفارتی دباؤ

اسپین، اٹلی اور یونان نے اسرائیل کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ وہ امدادی کارکنوں یا جہازوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق فرانچیسکا البانیزے اور کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ قافلے کو کسی رکاوٹ کے بغیر غزہ تک پہنچنے دیا جائے۔

ترکیہ کے ڈرونز فضا میں گشت کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ حملے کی نگرانی کی جا سکے، جبکہ اطلاعات کے مطابق اٹلی کا جنگی جہاز جو فلوٹیلا کے ساتھ موجود تھا واپس لوٹ گیا ہے۔

غزہ جانے والے امدادی فوٹیلا پر حملہ، اٹلی اور اسپین کے حفاظتی بحری جہاز روانہ

اسرائیلی مؤقف اور خطرات

اسرائیلی وزیر خارجہ نے فلوٹیلا کو سفر روکنے کی وارننگ جاری کی تھی اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ’’قانونی بحری ناکہ بندی‘‘ کو توڑنے کی کوشش ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بعض کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ تاہم بین الاقوامی قانون کے مطابق انسانی ہمدردی کی امداد کو روکا نہیں جا سکتا۔

غزہ کی صورتحال اسرائیلی حملوں اور بھوک سے متاثر فلسطین
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت اور انسانی بحران

انسانی بحران کا خدشہ

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ یقینی ہوا تو یہ خطے میں ایک بڑے انسانی اور سفارتی بحران کو جنم دے گا۔ اس وقت غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر چکا ہے اور کسی بھی رکاوٹ کے نتیجے میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس فلوٹیلا(global sumud flotilla) پر پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی موجود ہیں، جو دیگر عالمی کارکنوں کے ساتھ محصور فلسطینی عوام تک امداد پہنچانے کے اس مشن کا حصہ ہیں۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]