غزہ اسرائیلی حملےمیں 24 فلسطینیوں کی شہادت—حماس کی ثالثوں سے فوری اپیل

غزہ اسرائیلی حملے میں شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینی شہریوں کی امداد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

غزہ اسرائیلی حملے: بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید، حماس کی ثالثوں سے فوری مداخلت کی درخواست

غزہ اسرائیلی حملے: پس منظر اور بڑھتی ہوئی کشیدگی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر چکی ہے، اور تازہ غزہ اسرائیلی حملے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت اور مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی کارروائیوں نے ایک بار پھر عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 24 فلسطینی شہید اور 87 زخمی ہوئے۔ یہ حملے ایسی حالت میں کیے گئے جب جنگ بندی کا معاہدہ امریکی ثالثی میں نافذ تھا، مگر اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ غزہ اسرائیلی حملے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہیں بلکہ پورے خطے میں ایک نئے بحران کو جنم دے رہے ہیں۔

فضائی حملوں کی تفصیلات—کار، گھروں اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا

مقامی حکام نے بتایا کہ تازہ ترین غزہ اسرائیلی حملے کئی مقامات پر یکے بعد دیگرے کیے گئے۔ سب سے پہلا حملہ غزہ شہر کے شمالی حصے میں ایک کار کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ اس کے بعد دیر البلح اور نصیراٹ پناہ گزین کیمپ میں مزید حملے کیے گئے جہاں گھروں اور رہائشی عمارتوں کو ہدف بنایا گیا۔

رمال محلہ ڈرون حملہ: 11 شہید، 20 زخمی

غزہ شہر کے معروف رمال علاقے میں ڈرون حملے میں 11 شہری شہید ہوئے۔
اِلشفا اسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹر رامی مہنا نے تصدیق کی کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ موقع وہ تھا جب شہری روزمرہ زندگی کی بحالی کی امید میں گھروں سے باہر نکلے تھے۔

یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ غزہ اسرائیلی حملے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

دیر البلح اور نصیراٹ کیمپ میں تباہی

گھر پر حملہ—خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق

دیر البلح میں ایک گھر پر فضائی بمباری کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت تین شہری شہید ہوگئے۔
نصیراٹ کیمپ میں بھی ایک رہائشی عمارت کو تباہ کر دیا گیا، جس سے درجنوں خاندان متاثر ہوئے۔

غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کی رپورٹ

غزہ کی میڈیا آفس نے بتایا کہ:

  • 10 اکتوبر سے اب تک جنگ بندی کی 497 خلاف ورزیاں اسرائیل نے کیں۔
  • 342 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں
  • شہید ہونے والوں میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

بار بار ہونے والے غزہ اسرائیلی حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ صرف عسکری کارروائیاں نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کرتی جارہی ہیں۔

اسرائیلی موقف—حملہ ’جوابی کارروائی‘ قرار

اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب مبینہ طور پر ایک حماس کارکن نے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیا۔
دعویٰ کیا گیا کہ فضائی حملوں میں حماس کے پانچ جنگجو مارے گئے، تاہم فلسطینی حکام نے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔

بالکل اسی طرح کے دعوؤں کا سہارا لے کر گزشتہ کئی ماہ سے غزہ اسرائیلی حملے جاری رکھے جا رہے ہیں۔

حماس کا ردعمل—’جعلی بہانے‘ اور ثالثوں سے ہنگامی مداخلت کی اپیل

حماس نے اسرائیلی حکام پر الزام لگایا کہ وہ جھوٹے بہانوں کے تحت جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا:

  • اسرائیلی حملے مسلسل شہری آبادی پر ہو رہے ہیں
  • جنگ بندی محض کاغذ کی حد تک رہ گئی ہے
  • اسرائیل حالات خراب کرنے کیلئے بہانے تراش رہا ہے

حماس نے امریکا، مصر اور قطر کو ہنگامی طور پر مداخلت کی اپیل کی، تاکہ مزید خون ریزی روکی جا سکے۔
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ غزہ اسرائیلی حملے ایک بڑے علاقائی بحران کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

علاقائی صورتحال پر ممکنہ اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق:

  • یہ حملے جنگ بندی کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنا سکتے ہیں
  • خطے میں تشدد کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے
  • انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے

غزہ اسرائیلی حملے اگر جاری رہے تو نہ صرف غزہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

بین الاقوامی اداروں کی خاموشی—ایک بڑا سوال

تنقید کی جا رہی ہے کہ:

  • اقوام متحدہ کی خاموشی
  • انسانی حقوق تنظیموں کی کمزور آواز
  • عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار

ان سب نے اسرائیل کو غزہ اسرائیلی حملے مزید شدت سے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

غزہ اسرائیلی حملے خطے کو نئے بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں

غزہ اسرائیلی حملے نہ صرف انسانی المیے کو بڑھا رہے ہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک بڑا سفارتی بحران بھی پیدا کر رہے ہیں۔
اگر عالمی برادری فوری اقدامات نہ کرے تو حالات مکمل جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔

اسرائیلی قابض افواج کے غزہ میں تازہ حملوں کی پاکستان کی شدید مذمت

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]