گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے 5 اضلاع میں ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا
پشاور: خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں موسمی صورتحال کے پیش نظر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس کے باعث Provincial Disaster Management Authority نے متعلقہ پانچ حساس اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پیشگی اقدام ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے اور انسانی جانوں و املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جن اضلاع کو حساس قرار دیا گیا ہے ان میں Upper Chitral، Lower Chitral، Upper Dir، Swat اور Upper Kohistan شامل ہیں۔ ان علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے اور حالیہ بارشوں کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر پیشگی اقدامات کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ان میں حساس گلیشیائی مقامات کی مسلسل نگرانی، فوری وارننگ سسٹم کو فعال رکھنا، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطرے سے دوچار علاقوں میں انخلاء (ایویکویشن) سے متعلق مشقیں کروائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ آفت کی صورت میں بروقت اور مؤثر کارروائی کی جا سکے۔
حکام نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ محفوظ مقامات پر قائم انخلاء مراکز کو مکمل طور پر فعال اور ضروری سہولیات سے لیس رکھا جائے، تاکہ متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور امداد فراہم کی جا سکے۔ نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو خصوصی طور پر الرٹ رہنے اور ممکنہ خطرات سے آگاہ رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کے عملے کو ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری مشینری اور آلات کو پہلے سے ہی تعینات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور تیز بہاؤ والے پانی میں گاڑیاں لے جانے سے سختی سے اجتناب کریں، کیونکہ اس سے حادثات کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے سیاحوں اور مسافروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ حساس اور خطرناک علاقوں کی جانب غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر ایسے موسم میں جب لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کا خدشہ زیادہ ہو۔ سڑکوں کی بندش یا کسی بھی نقصان کی صورت میں متعلقہ اداروں جیسے این ایچ اے، ایف ڈبلیو او اور سی اینڈ ڈبلیو سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مزید برآں، شدید خطرے کی صورت میں گلیشیائی جھیلوں کے کنٹرولڈ اخراج (controlled release) پر بھی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ ممکنہ تباہی کو کم سے کم کیا جا سکے۔ یہ ایک اہم تکنیکی اقدام ہے جس کے ذریعے جھیل کے پانی کو مرحلہ وار خارج کر کے دباؤ کو کم کیا جاتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت معلومات اور احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ممکنہ نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ الرٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اب شدت اختیار کر رہے ہیں، اور پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت اور عوام دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مل کر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

