غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ، تیونس کی تردید

غزہ کے لیے امداد لے جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

غزہ کیلئے امداد لے گلوبل صمود فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ، تیونس کی تردید، اقوام متحدہ کی مذمت

غزہ: — غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والے سب سے بڑے عالمی قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا (global sumud flotilla) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی مرکزی کشتی کو تیونس کی بندرگاہ سیدی بوسعید میں ایک ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس واقعے نے نہ صرف انسانی ہمدردی کے اس مشن پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی مزید بڑھا دیا ہے۔

اگرچہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہا، تاہم فلوٹیلا کے منتظمین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل نے کی۔ دوسری جانب تیونس کی نیشنل گارڈ نے ڈرون حملے کی خبروں کو ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر سگریٹ یا لائٹر سے بھڑکی تھی۔

قطری نشریاتی ادارے کے مطابق فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ پیر 8 ستمبر کی رات 11 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا، جب پرتگالی پرچم کے تحت سفر کرنے والی فیملی بوٹ میں اچانک دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ اس وقت کشتی پر 6 افراد موجود تھے، جن میں فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اراکین بھی شامل تھے۔

جی ایس ایف نے بتایا کہ عملے نے بڑی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا، لیکن جہاز کے مرکزی ڈیک اور ذیلی حصوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

عینی شاہد میگوئل ڈوارٹے کے مطابق:

’’میں جہاز کے پچھلے حصے میں کھڑا تھا کہ اچانک ڈرون کی آواز سنی، وہ ہمارے سر پر تقریباً 4 میٹر کی بلندی پر معلق تھا۔ پھر اچانک آگے بڑھا اور ایک دھماکا خیز شے گرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ ہم مر بھی سکتے تھے۔‘‘

ویڈیوز اور ثبوت

جی ایس ایف نے سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز جاری کیں جن میں دکھایا گیا کہ ایک آتش گیر چیز کشتی پر گرتی ہے اور اس کے بعد آگ لگ جاتی ہے۔ ایک اور ویڈیو، جو کشتی کے سکیورٹی کیمروں سے لی گئی، میں عملے کو اوپر دیکھتے اور پھر دھماکے کے بعد پیچھے ہٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ویڈیوز دنیا بھر کے میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔

تیونس کی تردید

تاہم تیونس کی نیشنل گارڈ نے فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ جیسے دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا:

’’تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ آگ لائف جیکٹس میں لگی، جو ممکنہ طور پر لائٹر یا سگریٹ کے باعث بھڑکی تھی۔ کسی بیرونی حملے یا دشمنی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔‘‘

یہ بیان سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے کیونکہ فلوٹیلا منتظمین اب بھی اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

اسرائیل کی خاموشی

اب تک اسرائیلی حکام نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشیک نے الزام لگایا کہ:

’’اس حملے کے پیچھے اسرائیل کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ وہ پچھلے 22 ماہ سے فلسطینی عوام پر نسل کشی کر رہے ہیں اور اب ایک پُرامن انسانی ہمدردی کے قافلے کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کا ردِعمل

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطین فرانچسکا البانیز، جو خود اس فلوٹیلا میں شریک ہیں، نے کہا:

’’اگر یہ فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ ثابت ہو گیا تو یہ تیونس اور اس کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ تصور ہوگا۔ عالمی برادری مزید اس غیرقانونی رویے کو برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘

یہ بیان اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر مزید سنگین بنا رہا ہے۔

مشن جاری رکھنے کا اعلان

فلوٹیلا کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ مشن کو روک نہیں سکتا۔(global sumud flotilla)

’’ہم جہازوں اور عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے بعد دوبارہ تیاری کریں گے اور ہر صورت میں غزہ کا محاصرہ توڑیں گے۔‘‘

جی ایس ایف کے مطابق یہ اب تک کا سب سے بڑا قافلہ ہے جس میں 50 سے زائد کشتیوں اور 44 ممالک کے کارکنان شامل ہیں، جن میں مشہور شخصیات بھی موجود ہیں:

سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ

نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا

فرانسیسی اداکارہ ایڈیل ہینیل

بارسلونا سے بحری جہازوں کا بیڑا غزہ کے لیے روانہ
بارسلونا کے ساحل سے فلسطین کے لیے روانہ ہونے والا سب سے بڑا انسانی امدادی بیڑا

تاریخی پس منظر

غزہ پر اسرائیلی محاصرہ 2007 سے جاری ہے، جس نے وہاں کے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کو خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات سے محروم کر رکھا ہے۔

ماضی کے فلوٹیلا مشنز:

2008: دو کشتیوں نے کامیابی سے غزہ کا محاصرہ توڑا۔

2010: مشہور مَوی مرمرہ فلوٹیلا پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا، جس میں 10 کارکن جاں بحق ہوئے۔

مئی 2025: ’’کنسائنس‘‘ جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا۔

جون 2025: ’’مدلین‘‘ اور ’’ہندالہ‘‘ نامی کشتیوں کو اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں روک کر کارکنوں کو گرفتار اور ملک بدر کیا۔

مقبوضہ بیت المقدس فائرنگ واقعہ، 5 اسرائیلی ہلاک اور 7 زخمی

تجزیہ اور عالمی اہمیت

عالمی ماہرین کے مطابق اگر یہ واقعہ واقعی فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ تھا تو اس کے کئی سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں:

بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی — غیر فوجی امدادی قافلے پر حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

تیونس کی خودمختاری پر حملہ — اگر اس کی سرزمین یا بندرگاہ کے قریب کارروائی کی گئی تو یہ ایک علیحدہ سفارتی بحران پیدا کرے گا۔

عالمی رائے عامہ کی ہمدردی — فلوٹیلا کے قافلے میں شامل بین الاقوامی کارکنان کی موجودگی اس مشن کو عالمی کوریج دلا رہی ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کا یہ مشن ایک انسانی ہمدردی کی کوشش کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی علامت بھی ہے۔ چاہے یہ فلوٹیلا پراسرائیل کا ڈرون حملہ ہو یا حادثہ، اس نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ غزہ کے محاصرے اور فلسطینی عوام کی حالتِ زار کی طرف مبذول کرا دی ہے۔

فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق قافلہ اپنی تیاری مکمل کرنے کے بعد بدھ 10 ستمبر کو دوبارہ روانہ ہوگا۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس مشن پر جمی ہیں کہ کیا یہ واقعی غزہ کے محاصرے کو توڑنے میں کامیاب ہو پائے گا یا ایک بار پھر تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]