سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی تولہ سونا 3 لاکھ 84 ہزار روپے پر پہنچ گیا

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی تولہ 3 لاکھ 84 ہزار روپے ہوگیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی تولہ 3 لاکھ 84 ہزار کی بلند ترین سطح پر

سونے کی قیمتوں میں تاریخ ساز اضافہ: عالمی و مقامی مارکیٹوں میں نئی ریکارڈ سطحیں قائم

کراچی / نیویارک — پیر کے روز عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سونا اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ سے لے کر مقامی صرافہ بازار تک، ہر جگہ سرمایہ کاروں اور عوامی حلقوں میں سونے کی اس جست پر شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔

یہ اضافہ عالمی اقتصادی عدم استحکام، افراطِ زر کے بڑھتے خدشات، اور محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کی بنیاد پر سامنے آیا ہے، جس نے سونے کو ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح بنا دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 61 ڈالر فی اونس اضافہ

پیر کے روز بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 61 امریکی ڈالر فی اونس کا زبردست اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 3,613 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی — جو کہ سونے کی عالمی قیمت کا ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ عالمی مالیاتی ماہرین کے مطابق، یہ اضافہ کئی اہم عالمی عوامل کے باعث رونما ہوا جن میں شامل ہیں:

عالمی سیاسی کشیدگی (مشرق وسطیٰ، یوکرین تنازع، چین-تائیوان معاملہ)

امریکی ڈالر کی قدر میں کمی

عالمی مہنگائی میں اضافہ

مرکزی بینکوں کی جانب سے سونا ذخیرہ کرنے کے رجحان میں اضافہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے ایک بار پھر سونے کو بطور "محفوظ پناہ گاہ” (Safe Haven Asset) منتخب کیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے مالیاتی بازار عدم استحکام کا شکار ہیں۔

پاکستان میں سونے کی قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

عالمی رجحانات کے اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی واضح انداز میں مرتب ہوئے۔ پیر کے روز پاکستان کے صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمت میں 6100 روپے فی تولہ کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 24 قیراط فی تولہ سونا اب 3 لاکھ 84 ہزار روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔

اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 5,230 روپے کا اضافہ ہوا، اور نئی قیمت 3 لاکھ 29 ہزار 219 روپے ہو گئی ہے۔ یہ دونوں قیمتیں پاکستانی تاریخ میں اب تک کی سب سے بلند سطح سمجھی جا رہی ہیں۔

قیمتوں میں اس اضافے کے اسباب

  1. عالمی عدم استحکام

موجودہ عالمی سیاسی صورتحال خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی تناؤ، اور یوکرین کی جنگ نے عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ سونے کو روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے اس میں سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

  1. امریکی ڈالر کی کمزور ہوتی پوزیشن

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات کے باعث ڈالر کی قدر کمزور ہوئی ہے، جس کا براہ راست فائدہ سونے کو ہوا ہے۔ سونے کی قیمتیں عام طور پر ڈالر کے مخالف سمت میں حرکت کرتی ہیں۔

  1. ملکی سطح پر روپے کی قدر میں کمی

پاکستان میں روپے کی قدر میں عدم استحکام اور مہنگائی کی بلند شرح بھی سونے کی قیمت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ عوام اور سرمایہ کار، جو مستقبل کے مالی خدشات سے پریشان ہیں، سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

  1. مہنگائی سے تحفظ کی کوشش

پاکستان میں افراطِ زر کی بلند شرح نے عام شہری کو بھی سونے کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ گھریلو سطح پر زیورات کی خریداری کے علاوہ اب لوگ سرمایہ کاری کی نیت سے بھی سونا خریدنے لگے ہیں، جس سے طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

عوامی و تجارتی حلقوں کا ردِ عمل

کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں کے صرافہ بازاروں میں آج غیر معمولی گہما گہمی دیکھی گئی۔ خریدار حیرت میں مبتلا تھے تو صرافہ تاجروں نے بھی موجودہ صورتحال کو غیر معمولی قرار دیا۔

کراچی کے معروف گولڈ مارکیٹ ڈیلر، محمد رفیق کا کہنا تھا:

"ایسی تیزی ہم نے گزشتہ کئی برسوں میں نہیں دیکھی۔ عوام اب بھی خریداری کر رہی ہے، لیکن طلب اور رسد میں توازن قائم رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔”

ایک خاتون خریدار، سارہ علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا:

"ہم نے سوچا تھا کہ سونا خرید کر رکھیں گے، لیکن اب قیمتیں ہماری استطاعت سے باہر جا چکی ہیں۔ اگر یہی رفتار رہی تو سونا عام شہری کی پہنچ سے دور ہو جائے گا۔”

سونے کی بڑھتی قیمتوں کے معیشت پر اثرات
درآمدی بل میں اضافہ

پاکستان میں سونے کی قیمت بڑھنے سے حکومت کو سونے کی درآمد پر زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا امکان ہے۔

مہنگائی پر دباؤ

سونے کی قیمت میں اضافہ براہ راست زیورات، شادی بیاہ کے اخراجات، اور دیگر متعلقہ صنعتوں پر اثر ڈالے گا، جو مہنگائی کے مجموعی دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

چھوٹے سرمایہ کار متاثر

چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والے افراد، جنہوں نے سونا بچت یا سرمایہ کاری کے طور پر خریدا ہوا تھا، ان کے لیے سونا بیچنا فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن جو خریدار نئے سرے سے سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے سونا اب ایک مہنگی شے بن چکی ہے۔

مستقبل کی پیش گوئیاں: کیا سونا مزید مہنگا ہوگا؟

مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، تو سونے کی قیمت میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق، عالمی سطح پر سونا آئندہ چند ہفتوں میں 3,700 ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان میں فی تولہ قیمت 4 لاکھ روپے تک پہنچنے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔

تاہم، اگر عالمی مارکیٹ میں استحکام آتا ہے، یا امریکی فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کرتا ہے، تو سونے کی قیمت میں وقتی کمی بھی آ سکتی ہے۔

کیا کرنا چاہیے؟ سرمایہ کاروں کے لیے رہنمائی

ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ:

سونے میں سرمایہ کاری کے فیصلے جلد بازی میں نہ کریں

مارکیٹ کی سمت کو بغور مانیٹر کریں

قلیل مدتی کے بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری پر غور کریں

مخلوط سرمایہ کاری پورٹ فولیو اپنائیں تاکہ خطرات کم ہوں

سونا ایک بار پھر "محفوظ پناہ گاہ” کے طور پر ابھرا

حالیہ تیزی نے ثابت کر دیا ہے کہ سونا اب بھی عالمی اور مقامی سطح پر سرمایہ کاروں کے لیے سب سے زیادہ قابلِ اعتماد اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں سونے کی قیمت کا 3 لاکھ 84 ہزار روپے فی تولہ تک پہنچنا نہ صرف ایک مالیاتی واقعہ ہے بلکہ معاشی اور سماجی منظرنامے پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

یہ قیمتیں عام شہری کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہی ہیں اور مستقبل میں شادی بیاہ، زیورات سازی، اور متعلقہ صنعتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

سونے کی قیمتوں میں یہ غیرمعمولی اضافہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی حالات کس قدر ہماری مقامی معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ احتیاط، تدبر اور درست مالی فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

پاکستان میں سونے کی قیمت 3 لاکھ 77 ہزار 900 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر
پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، عوام اور سرمایہ کاروں میں تشویش

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]