ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ عوام کی مشکلات میں پھر اضافہ
پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے عام شہری کی زندگی بے حد متاثر کر دی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں اس ہفتے 0.73 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ شرح 4.32 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اضافہ صرف اعداد کا کھیل نہیں بلکہ ہر گھر کے چولہے، ہر ماں کے بجٹ اور ہر محنت کش کی روزمرہ زندگی پر گہرا اثر چھوڑ رہا ہے۔ اس ہفتے 14 ضروری اشیاء مہنگی ہوئیں، 12 سستی ہوئیں جبکہ 25 اشیاؤں کی قیمتیں برقرار رہیں۔
مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے بحران نے غریب اور متوسط طبقے پر دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ہفتہ وار مہنگائی کا یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ اشیائے خورونوش اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بے چینی برقرار ہے۔
ٹماٹر، پیاز اور آلو — عوام کا وقتی ریلیف
ادارہ شماریات کی تفصیلات کے مطابق کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی ضرور ہوئی ہے۔
ٹماٹر 28٪ تک سستے ہوئے
پیاز 10٪ تک کم
آلو 4.58٪ سستے
نمک، دال چنا، انڈے اور آٹا بھی ان اشیاء میں شامل ہیں جن کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ ہوئی۔
یہ کمی وقتی ریلیف ضرور ہے، مگر مجموعی طور پر ہفتہ وار مہنگائی کے بڑھتے رحجان کے سامنے یہ کمی بہت محدود دکھائی دیتی ہے۔
دالیں، گھی اور آئل — پھر اضافہ
کئی ایسی اشیاء ہیں جو اس ہفتے مزید مہنگی ہوئی ہیں، جن میں:
دال مونگ
گھی
کوکنگ آئل
خشک دودھ
یہ وہ بنیادی اشیاء ہیں جو ہر گھر میں روزانہ استعمال ہوتی ہیں۔ ان قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ہفتہ وار مہنگائی کو اوپر لے جاتا ہے۔
چینی اور بجلی — دوہرا عذاب
رپورٹ کے مطابق چینی، گڑ، بیف، ایل پی جی، سگریٹ اور لکڑی بھی اس ہفتے مہنگی ہوئیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں چینی 179 سے 220 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی ٹیرف میں 11٪ سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مختلف آمدنی گروپس پر اثرات
مہنگائی ہر طبقے کو یکساں متاثر نہیں کرتی۔ رپورٹ کے مطابق:
ماہانہ آمدنی 17,732 روپے تک رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی رفتار 3.85٪
17,733 – 22,888 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 4.70٪
22,889 – 29,517 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 4.60٪
29,518 – 44,175 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 4.40٪
44,176 روپے سے زائد آمدنی والوں کے لیے 3.79٪
یہ تمام اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ کم آمدنی والے طبقے کو ہفتہ وار مہنگائی زیادہ شدت سے متاثر کر رہی ہے، کیونکہ ان کا بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے۔
مہنگائی کی وجوہات — ایک حقیقت پسندانہ جائزہ
مہنگائی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں:
- درآمدی اشیاء مہنگی ہونا
ڈالر کی قیمت بڑھنے سے درآمدی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اور ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
- پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں
جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ لاگت بڑھتی ہے، جس کا اثر ہر چیز کی قیمت پر پڑتا ہے۔
- ذخیرہ اندوزی
چند اشیاء کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا دی جاتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
عوام کی زندگی پر اثرات — ایک دکھ بھری حقیقت
مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر عام شہری کی زندگی پر پڑتا ہے۔ تنخواہیں وہیں کی وہیں مگر اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں۔
ایک عام شہری کی زبان سے نکلتا ہے:
"مہنگائی نے جینا مشکل کر دیا ہے، بازار جانے سے پہلے دل لرز جاتا ہے۔”
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ہفتہ وار مہنگائی صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو پر اثر ڈال رہی ہے۔
صنعتی بجلی کی کھپت میں 25 فیصد اضافہ معیشت کے لیے خوشخبری
نتیجہ
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ملک میں اس ہفتے ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے جو کہ عوام اور خاص طور پر کم آمدنی والے افراد کے لیے پریشان کن ہے۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو یہ سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
One Response