ہاردک راٹھی کی موت: ہریانہ میں باسکٹ بال کورٹ پر دل دہلا دینے والا حادثہ

ہاردک راٹھی، 16 سالہ باسکٹ بال کھلاڑی روہتک ہریانہ میں گرتے ہوئے پول کی زد میں آکر ہلاک
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ہاردک راٹھی: ایک روشن مستقبل کا خواب چھن گیا

ہریانہ کے روہتک ضلع میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا جس نے پورے کھیلوں کے حلقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ 16 سالہ نیشنل لیول باسکٹ بال کھلاڑی ہاردک راٹھی پریکٹس کے دوران لوہے کے باسکٹ بال پول کے گرنے سے جاں بحق ہو گئی۔ یہ حادثہ 26 نومبر 2025 کو لکھن مجرا اسپورٹس گراؤنڈ میں صبح 10 بجے پیش آیا، جہاں ہاردک اکیلا پریکٹس کر رہا تھا۔ ہاردک راٹھی، جو متعدد قومی چیمپئن شپس میں میڈلز جیت چکا تھا، ایک ایسا نوجوان تھا جس کا مستقبل بہت روشن دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی موت نہ صرف اس کے خاندان بلکہ پورے ہریانہ کے کھیلوں کے برادری کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔

ہاردک راٹھی کا تعلق روہتک کے لکھن مجرا گاؤں سے تھا۔ اس کا باپ ساندیپ راٹھی سرکاری ملازم ہیں، اور ہاردک دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ وہ مقامی باسکٹ بال اکیڈمی میں تربیت لے رہا تھا اور حال ہی میں ایک ٹریننگ کیمپ سے واپس آیا تھا۔ اس کی موت کی خبر پھیلتے ہی سوشل میڈیا پر غم کی لہر دوڑ گئی، اور لوگوں نے اسے خراج عقیدت پیش کیا۔

حادثے کی تفصیل: سی سی ٹی وی فوٹیج میں کیسے ہوا سب کچھ

حادثہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی ہے، جو دیکھنے والوں کے دل کو دہلا دیتی ہے۔ فوٹیج کے مطابق ہاردک راٹھی باسکٹ بال کورٹ پر لپیٹ لگا رہا تھا اور ڈنک کی پریکٹس کر رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے پول کو پکڑا اور اس پر لٹکنے کی کوشش کی، زنگ آلود لوہے کا پورا پول اس پر گر پڑا۔ پول کا رِم براہ راست ہاردک راٹھی کی سینے پر جا گرا، جس سے اسے شدید چوٹیں آئیں۔

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہاردک زخمی حالت میں اٹھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ قریبی کھلاڑی اور لوگ بھاگ کر آئے اور پول کو ہٹانے میں مصروف ہو گئے۔ وہ فوری طور پر اسے سول ہسپتال لے گئے، جہاں سے اسے روہتک کے پی جی آئی ایم ایس ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مگر شدید زخموں کی وجہ سے ہاردک راٹھی جانبر نہ ہو سکا اور چند گھنٹوں بعد اس کی موت ہو گئی۔ یہ فوٹیج انڈیا ٹوڈے اور این ڈی ٹی وی جیسی نیوز چینلز پر وائرل ہو گئی، جس نے عوام میں غم اور غصے کی لہر پیدا کر دی۔

ہاردک راٹھی کی کامیابیوں کی کہانی: نیشنل لیول کا ستارہ

ہاردک راٹھی کوئی عام کھلاڑی نہیں تھا؛ وہ ہریانہ باسکٹ بال کے بڑے ناموں میں شمار ہوتا تھا۔ صرف 16 سال کی عمر میں اس نے متعدد قومی سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کی اور میڈلز جیتے۔ ان میں شامل ہیں:

  • 47ویں سب جونیئر نیشنل چیمپئن شپ (کانگڑا میں منعقد): ہاردک راٹھی نے یہاں برونز میڈل جیتا، جو اس کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔
  • 49ویں سب جونیئر نیشنل چیمپئن شپ (حیدرآباد): یہاں اس نے سِلور میڈل حاصل کیا، جس نے اسے قومی سطح پر پہچان دی۔
  • 39ویں یوتھ نیشنل چیمپئن شپ (پڈوچیری): ہاردک راٹھی نے یہاں گولڈ میڈل جیت کر سب کو حیران کر دیا۔

اس کے علاوہ، ہاردک راٹھی چھتیس گڑھ میں منعقد ہونے والے انڈر 17 سکول نیشنلز کے لیے بھی منتخب ہو چکا تھا۔ اس کا کوچ محیت نے بتایا کہ ہاردک راٹھی روزانہ 4-5 گھنٹے کی سخت مشق کرتا تھا اور اس کا خواب تھا کہ وہ ہریانہ اور بھارت کی طرف سے انٹرنیشنل سطح پر کھیلے۔ اس کی موت نے نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اس کے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ایک روشن مستقبل کیسے ختم ہو سکتا ہے۔

ہریانہ میں کئی حادثات: بہادرگڑھ کا 15 سالہ امان بھی شہید

دلخراش بات یہ ہے کہ ہاردک راٹھی کی موت اکیلا حادثہ نہیں تھا۔ صرف دو دن پہلے، 24 نومبر 2025 کو بہادرگڑھ کے شہید بریگیڈیئر ہوشیار سنگھ اسٹیڈیم میں 15 سالہ باسکٹ بال کھلاڑی امان بھی اسی طرح لوہے کے پول گرنے سے زخمی ہوا۔ امان، جو انٹر سکول مقابلوں میں گولڈ اور دو سِلور میڈلز جیت چکا تھا، اسے پی جی آئی ایم ایس روہتک منتقل کیا گیا مگر علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔

امان کے والد سوریش کumar نے الزام لگایا کہ ہسپتال میں تاخیر اور لاپرواہی کی وجہ سے اس کی موت ہوئی۔ انہوں نے کہا، "امان بہت ذہین تھا، اسے ہریانہ اور بھارت کی طرف سے کھیلنے کا خواب تھا۔” یہ دوہرا حادثہ ہریانہ کے کھیلوں کی سہولیات پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے، جہاں کئی اسٹیڈیمز برسوں سے مرمت کے منتظر ہیں۔

کھیلوں کی سہولیات کی خرابی: زنگ آلود پول اور سرکاری لاپرواہی

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ لکھن مجرا اسپورٹس گراؤنڈ کا باسکٹ بال پول برسوں سے زنگ آلود اور کمزور تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، تین ماہ پہلے گاؤں والوں نے ہریانہ کے چیف منسٹر نیایب سنگھ سینی سے ملاقات کی تھی اور مرمت کی درخواست کی تھی، مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ روہتک کے ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر انوپ سنگھ نے بتایا کہ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ نے 14 اسٹیڈیمز کی مرمت کے لیے 2.1 کروڑ روپے جاری کیے تھے، مگر ٹینڈر پروسیس مکمل نہ ہو سکا۔

یہ حادثے ہریانہ کی کھیلوں کی انفراسٹرکچر کی خرابی کو اجاگر کر رہے ہیں۔ ہریانہ، جو کھیلوں میں قومی سطح پر مشہور ہے (جیسے کہ بوکسنگ اور کُشتی میں)، اب اپنے ہی کھلاڑیوں کی حفاظت نہ کر سکا۔ سابق چیف منسٹر بھوپندر سنگھ ہودا نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی کہ "کھیلوں اور کھلاڑیوں کو دشمن سمجھا جا رہا ہے۔” کانگریس ایم پی دیپندر ہودا نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں روہتک کے کسی بھی اسٹیڈیم کو گرانٹ نہ دی گئی۔

سرکاری ردعمل: معطل افسران اور تفتیش کا حکم

حادثے کے فوراً بعد ہریانہ حکومت نے فوری کارروائی کی۔ روہتک کے ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر انوپ سنگھ کو معطل کر دیا گیا، اور لکھن مجرا اسپورٹس نرسری کی سرگرمیاں روک دی گئیں۔ ہریانہ اسپورٹس منسٹر گورو گاتم نے ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ "ان نوجوان کھلاڑیوں کی موت پر غمگین ہوں، انصاف میری اولین ترجیح ہے۔” ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس، سنجیو ورما نے تمام اسٹیز میں فوری انسپیکشن کا حکم دیا اور خطرناک آلات کو ہٹانے کی ہدایت کی۔

ہریانہ اولمپک ایسوسی ایشن نے ہاردک راٹھی اور امان کی یاد میں تین دن کے لیے تمام اسٹیٹ سطح کے کھیلوں کے ایونٹس معطل کر دیے۔ چیف منسٹر نیایب سنگھ سینی نے کہا کہ وہ تمام تفصیلات اکٹھی کریں گے اور مناسب کارروائی یقینی بنائیں گے۔ ہاردک راٹھی کے والد ساندیپ اور کوچ محیت نے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور فوری مرمت کا مطالبہ کیا۔

ہاردک راٹھی کی یاد: خاندان اور ساتھیوں کا غم

ہاردک راٹھی کے خاندان کا حال دیکھنے والا ہے۔ اس کا بھائی بھی باسکٹ بال کھیلتا ہے، اور والد ساندیپ نے کہا، "ہم نے دونوں بھائیوں کو اکیڈمی میں داخل کیا تھا، ہاردک کا خواب تھا کہ وہ ملک کا نام روشن کرے۔” اس کے کوچ نے بتایا کہ ہاردک راٹھی بہت محنتی تھا اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ سوشل میڈیا پر #JusticeForHardikRathi ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں لوگ کھیلوں کی حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ حادثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں ٹیلنٹ کی قدر کرنی چاہیے، مگر بنیادی سہولیات کی کمی سب کچھ برباد کر سکتی ہے۔ ہاردک راٹھی کی موت ایک سبق ہے کہ حکومتوں کو کھلاڑیوں کی حفاظت کو ترجیح دینی چاہیے۔

کھیلوں کی حفاظت پر نئی بحث

ہاردک راٹھی کی موت نے ہریانہ اور پورے بھارت میں کھیلوں کی انفراسٹرکچر پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ وقت ہے کہ سرکاریں اور اسپورٹس باڈیز مل کر اقدامات کریں تاکہ ایسے حادثات کی تکرار نہ ہو۔ ہاردک راٹھی جیسے نوجوانوں کا خواب ختم نہ ہو، بلکہ انہیں محفوظ ماحول ملے۔ ہاردک راٹھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، ہم دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح کو سکون ملے اور اس کا خاندان صبر کرے۔

سہ ملکی ٹی 20 میچ سری لنکا کی سنسنی خیز جیت: پاکستان کو 6 رنز سے شکست

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]