ہیٹ ویوز کے اثرات انسانی عمر میں تیزی سے اضافے کی بڑی وجہ قرار
ایک نئی سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بڑھتی ہیٹ ویوز کے اثرات انسانی صحت کے لیے نہ صرف وقتی خطرہ ہیں بلکہ یہ انسانی عمر بڑھنے کے عمل کو بھی تیز کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر مزدور طبقہ، کسان، اور کھلی فضا میں کام کرنے والے افراد اس کے شدید متاثرین میں شامل ہیں۔
ہیٹ ویوز کے اثرات اور عمر بڑھنے کا تعلق
ماضی میں مختلف تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہیٹ ویوز زیادہ تر معمر افراد پر منفی اثرات ڈالتی ہیں اور فوری طور پر ان کی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ تاہم، یہ تحقیقات زیادہ تر قلیل مدتی اثرات تک محدود تھیں۔ تازہ ترین تحقیق، جو معروف سائنسی جریدے نیچر کلائمیٹ چینج میں شائع ہوئی ہے، اس مسئلے کو طویل مدتی بنیادوں پر دیکھتی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ آیا شدید گرمی انسانی جسم کے بڑھاپے کے عمل کو بھی تیز کر سکتی ہے یا نہیں۔
تحقیق کا دائرہ کار
اس تحقیق میں تائیوان کے 24 ہزار 922 بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جن کی اوسط حیاتیاتی (Biological) عمر 46 برس تھی۔ محققین نے ان افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ مسلسل ہیٹ ویوز کے زیرِ اثر رہنے والے افراد کی حقیقی عمر اور حیاتیاتی عمر کے درمیان کس طرح فرق پیدا ہوتا ہے۔
بائیولوجیکل اور حقیقی عمر کا فرق
تحقیق کے مطابق ریپڈ ایجنگ (Rapid Aging) اس فرق کو کہا جاتا ہے جو انسانی جسم کی بائیولوجیکل عمر اور حقیقی عمر میں پایا جاتا ہے۔ حقیقی عمر کا شمار تاریخِ پیدائش سے شروع ہوتا ہے جبکہ بائیولوجیکل عمر جسم کے اندرونی نظام اور اعضاء کی فعلیت پر مبنی ہوتی ہے۔
اگر کسی فرد کی بائیولوجیکل عمر اس کی حقیقی عمر سے زیادہ نکلتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا جسم تیزی سے بڑھاپے کی جانب جا رہا ہے۔
اہم نتائج
محققین نے پایا کہ وہ افراد جو طویل عرصے تک شدید گرمی یا ہیٹ ویوز کے اثرات میں رہے، ان کی بائیولوجیکل عمر حقیقی عمر کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ گرمی انسانوں کے جسم کو اندرونی طور پر کمزور کر کے بڑھاپے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے۔ یہ عمل صرف وقتی تھکن یا بیماری تک محدود نہیں رہتا بلکہ طویل مدت تک انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ طبقات
ماہرین نے بتایا کہ اس تحقیق سے خاص طور پر مزدور طبقے اور کھلی فضا میں کام کرنے والے افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بج اٹھی ہے۔ تعمیراتی شعبے، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور روزانہ کئی گھنٹے دھوپ میں گزارنے والے مزدور شدید گرمی کے اثرات زیادہ تیزی سے جھیلتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی صحت خراب ہوتی ہے بلکہ ان میں قبل از وقت بڑھاپے کے آثار بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کی تجاویز
سائنسدانوں نے اس تحقیق کی بنیاد پر حکومتوں اور پالیسی ساز اداروں کو تجویز دی ہے کہ وہ ہیٹ ویوز کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ان تجاویز میں شامل ہیں:
- شہروں میں درخت لگانے اور سبزہ بڑھانے کے منصوبے تاکہ درجہ حرارت میں کمی لائی جا سکے۔
- متاثرہ افراد کے لیے کولنگ سینٹرز قائم کرنا تاکہ وہ شدید گرمی میں پناہ لے سکیں۔
- مزدوروں اور کسانوں کے کام کے اوقات کو گرمی کے حساب سے ایڈجسٹ کرنا۔
- عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانا کہ ہیٹ ویوز کے دوران پانی زیادہ پیا جائے، ہلکے کپڑے پہنے جائیں اور دھوپ میں غیر ضروری وقت نہ گزارا جائے۔
عالمی خدشات
اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹوں میں پہلے ہی خبردار کیا جا چکا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کو قابو نہ کیا گیا تو آئندہ دہائیوں میں ہیٹ ویوز دنیا کے کئی خطوں میں معمول بن جائیں گی۔ اس سے نہ صرف صحت کے مسائل پیدا ہوں گے بلکہ معیشت اور معاشرت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ مزدوروں کی پیداواری صلاحیت کم ہونے کے باعث براہِ راست معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ صحت کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ ہیٹ ویوز صرف ایک وقتی موسمی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی جسم کے اندرونی نظام کو متاثر کر کے عمر بڑھنے کے عمل کو بھی تیز کرتی ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ ایک بڑے عالمی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تغیر کو کم کرنے اور عوامی سطح پر حفاظتی اقدامات اپنانے ہی سے اس کے خطرات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
