اسلام آباد دھماکے کی آواز، 23 مارچ فلائی پاسٹ ریہرسل کے دوران ساونڈ بیریئر ٹوٹ گیا

اسلام آباد دھماکے کی آواز کے بعد جنگی جہازوں کی فلائی پاسٹ ریہرسل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد دھماکے کی آواز کی اصل وجہ سامنے آگئی، جنگی جہازوں کی فلائی پاسٹ ریہرسل

‫وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، جڑواں شہر Rawalpindi اور گرد و نواح کے علاقوں میں اچانک ایک زور دار دھماکے جیسی آواز سنائی دینے کے بعد شہریوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔ شدید آواز سننے کے بعد متعدد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور سوشل میڈیا پر بھی اس غیر معمولی آواز کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔ تاہم بعد ازاں متعلقہ ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ کوئی دھماکہ نہیں تھا بلکہ جنگی طیاروں کی تیز رفتار پرواز کے باعث پیدا ہونے والی آواز تھی۔‬
‫‬
‫ذرائع کے مطابق یہ آواز اس وقت پیدا ہوئی جب Pakistan Air Force کے جنگی طیارے تیز رفتار پرواز کرتے ہوئے آواز کی رفتار سے تجاوز کر گئے، جس کے نتیجے میں Sound Barrier ٹوٹنے کی آواز پیدا ہوئی۔ یہ آواز عام طور پر اس وقت سنائی دیتی ہے جب کوئی طیارہ آواز کی رفتار سے زیادہ تیز رفتار پر پرواز کرتا ہے، جس کے باعث فضا میں ایک طاقتور جھٹکا پیدا ہوتا ہے جو زمین پر موجود لوگوں کو دھماکے جیسی آواز کے طور پر محسوس ہوتا ہے۔‬
‫‬
‫ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ تمام سرگرمیاں دراصل Pakistan Day یعنی 23 مارچ کی تقریبات کی تیاریوں کا حصہ ہیں۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے جنگی طیارے فلائی پاسٹ کی ریہرسل کر رہے تھے، جس کے دوران تیز رفتار پرواز کی وجہ سے ساؤنڈ بیرئیر ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔‬
‫‬
‫ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کے طور پر Islamabad International Airport پر کچھ وقت کے لیے فلائٹ آپریشنز کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ اس دوران لینڈنگ اور ٹیک آف کے عمل کو بھی مختصر وقت کے لیے معطل رکھا گیا تاکہ فضائی حدود میں جاری عسکری سرگرمیوں کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔‬
‫‬
‫ذرائع کے مطابق 23 مارچ کی تقریبات کی تیاریوں کے باعث اسلام آباد کی فضائی حدود کو بھی محدود وقت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران پاک فضائیہ کے طیارے فلائی پاسٹ کی مشقیں کر رہے تھے۔ ان ریہرسل پروازوں کے دوران جنگی طیارے مختلف فارمیشنز میں پرواز کرتے ہیں اور انتہائی تیز رفتار پر مخصوص فضائی کرتب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‬
‫‬
‫بعد ازاں Pakistan Airports Authority کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی فضائی حدود ایک گھنٹے سے زائد وقت کے لیے بند رکھی گئی تھی۔ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ آپریشنل وجوہات اور فضائی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا تھا تاکہ فضائی مشقوں کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ پیدا نہ ہو۔‬
‫‬
‫اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کچھ دیر کے لیے فلائٹ آپریشنز میں معمولی آپریشنل ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، تاہم اب تمام پروازیں معمول کے مطابق آپریٹ ہو رہی ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ ایک عارضی انتظام تھا اور اس کا مقصد فضائی حدود میں جاری فوجی سرگرمیوں کے دوران محفوظ فضائی ماحول کو یقینی بنانا تھا۔‬
‫‬
‫پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پروازوں سے متعلق تازہ معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ تاخیر یا شیڈول میں تبدیلی کے بارے میں بروقت آگاہی حاصل کی جا سکے۔‬
‫‬
‫واضح رہے کہ ہر سال 23 مارچ کو پاکستان میں یوم پاکستان انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1940 کی قراردادِ لاہور کی یاد میں منایا جاتا ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی تھی۔ اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن میں عسکری پریڈ، ثقافتی پروگرام اور خصوصی تقاریب شامل ہوتی ہیں۔‬
‫‬
‫تاہم اس سال ذرائع کے مطابق 23 مارچ کی مرکزی تقریب Aiwan-e-Sadr میں منعقد کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق اس مرتبہ روایتی عسکری پریڈ منعقد نہیں کی جائے گی بلکہ اس کی جگہ پاک فضائیہ کی جانب سے خصوصی فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا جائے گا۔‬
‫‬
‫اس فلائی پاسٹ میں پاک فضائیہ کے جدید جنگی طیارے مختلف فضائی فارمیشنز میں پرواز کرتے ہوئے قومی دن کو خراجِ تحسین پیش کریں گے۔ اس مقصد کے لیے گزشتہ چند دنوں سے دارالحکومت اور اس کے اطراف کے علاقوں میں جنگی طیاروں کی مشقیں جاری ہیں تاکہ تقریب کے روز فلائی پاسٹ کو بہترین انداز میں پیش کیا جا سکے۔‬
‫‬
‫ماہرین کے مطابق ایسے مواقع پر جنگی طیاروں کی تیز رفتار پرواز اور فضائی کرتب عوام کے لیے نہ صرف دلچسپی کا باعث بنتے ہیں بلکہ یہ ملک کی دفاعی صلاحیتوں کا بھی مظہر ہوتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے پائلٹس ان مشقوں کے ذریعے اپنی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔‬
‫‬
‫یوں اسلام آباد اور راولپنڈی میں سنائی دینے والی خوفناک آواز دراصل کسی حادثے یا دھماکے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یوم پاکستان کی تقریبات کے سلسلے میں جاری فضائی مشقوں کا حصہ تھی۔ حکام کے مطابق شہریوں کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔‬
‫‬

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]