آئی جی سندھ کا: ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر ای چالان کو جلد صوبے بھر میں نافذ کردیں گے

Alt Text: ای چالان سندھ کا کیمرہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ریکارڈ کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آئی جی سندھ نے کہا کہ ای چالان کی صوبہ بھر میں توسیع کے بعد ٹریفک پولیس دستی چیکنگ نہیں کر سکے گی

انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ، غلام نبی میمن نے اعلان کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم ای چالان (ٹریکس) کو جلد ہی پورے صوبے میں نافذ کر دیا جائے گا۔ ان کا یہ اقدام ٹریفک پولیس کے خلاف بدعنوانی اور عوامی شکایات کے منفی تاثر کو ختم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

آئی جی سندھ نے یہ بات سندھ پولیس میوزیم، کراچی میں منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کے دوران کہی، جو "منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی” کے موضوع پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC)، حکومت برطانیہ، حکومت پاکستان اور سندھ پولیس کے باہمی تعاون سے منعقد ہوا۔

ٹریفک ای چالان (ٹریکس) کی صوبہ بھر میں توسیع

آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ٹریفک ای چالان، ٹریکس کا آغاز بھی پولیس اصلاحات کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی ٹریکس کا آغاز صرف کراچی سے کیا گیا ہے، تاہم جلد ہی صوبے بھر میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ "ٹریفک کی کسی بھی خلاف ورزیوں کے لیے ٹریکس فعال کردار ادا کریگا۔ اب ٹریفک پولیس کو مینؤل چیکنگ یا دستی چالان کی اجازت ہر گز نہیں ہے،” انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ دستی چالان کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کے بقول، اس ٹیکنالوجی بیسڈ اقدام سے ٹریفک پولیس کے خلاف مختلف قسم کے الزامات اور منفی تاثر یکسر ختم ہوجائیں گے۔ ٹریکس ایک کیمرا بیسڈ ٹیکنالوجی ہے جو شفافیت کو یقینی بناتی ہے۔ ای چالان کی صوبہ بھر میں تنفیذ سے شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال ہوگا۔

تھانہ کلچر میں اصلاحات اور مالیاتی خود مختاری

آئی جی سندھ نے پولیس سٹیشن کی سطح پر بھی بنیادی اصلاحات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تبدیلی لانے کے لیے مالیاتی استحکام اور خود مختاری ضروری ہے۔ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس نے تھانہ جات اور تفتیشی افسران (انویسٹی گیشن آفیسرز) کے لیے براہ راست بجٹ مختص کیا ہے۔

  • اس وقت 485 پولیس اسٹیشنز کا اپنا بجٹ ہے۔
  • تھانہ بجٹ کے استعمال کے اختیارات ایس ایچ او کے پاس ہیں، اور اب سب انسپکٹر رینک کا افسر بھی ایس ایچ او لگ سکتا ہے۔

آئی جی کے مطابق، مالیاتی استحکام اور خود مختاری سے تھانہ کلچر میں نمایاں بہتری آئے گی، اور یہ اصلاحات ای چالان جیسی دیگر اصلاحات کی تکمیل ہیں۔

منظم جرائم اور قومی حکمت عملی کی ضرورت

آئی جی سندھ نے کہا کہ پاکستان میں منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی کی ترتیب ناگزیر ہے۔ ان جرائم کے خاتمے کے لیے سول سوسائٹیز، اکیڈمیز، سول سروینٹس، تاجر برادری، میڈیا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا تعاون اور سپورٹ اشد ضروری ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ منظم جرائم، جرائم پیشہ افراد کے جتھوں کی ایک منفی سوچ کا نام ہے جو مختلف نیٹ ورک کے تحت مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں، جس سے معاشی عدم استحکام تقویت پاتا ہے۔ ای چالان اور بہتر پولیسنگ سے ان جرائم کے خلاف جنگ کو مضبوطی ملے گی۔

کراچی میں امن کی بحالی اور عالمی انڈیکس

غلام نبی میمن نے کراچی میں امن کی بحالی پر روشنی ڈالتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ایک گلوبل سٹی ہے جہاں سرمایہ کاری کے مواقع زیادہ ہیں۔

  • سال 2013 میں کراچی ورلڈ کرائم انڈیکس پر چھٹے نمبر پر تھا، جو آج قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شب و روز محنت کے باعث بہت بہتر ہے۔
  • آج ہم دہلی، ڈھاکا، تہران، کوالالمپور، پیرس، واشنگٹن و دیگر ممالک سے بدرجہا بہتر ہیں۔
  • آج ورلڈ کرائم انڈیکس پر کراچی کا نمبر 19 پلس ہے، جبکہ گزشتہ سال کراچی 128 ویں نمبر پر تھا۔

آئی جی سندھ نے بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے منظم جرائم کے خلاف کامیاب کارروائیوں کا ذکر کیا، اور اس کامیابی میں سی پی ایل سی (CPLC) اور پولیس کے اشتراک کو انتہائی کارآمد قرار دیا۔ ای چالان جیسے اصلاحاتی منصوبے اس مجموعی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔

عوامی خدمات میں بہتری اور مؤثر تفتیش

آئی جی سندھ نے زور دیا کہ پولیس اسٹیشنز کی سطح پر پبلک سروس میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ "ہمارا بنیادی مقصد بہترین اور مؤثر تفتیش کی بدولت ملزمان کی سزاؤں کو یقینی بنانا ہے،” انہوں نے کہا۔ اس کے لیے شہادتوں کو اکٹھا کرنے اور انویسٹی گیشن جیسے امور کو بہتر کیا جا رہا ہے۔ ای چالان، تفتیشی افسر کے بجٹ اور دیگر اصلاحات کا مقصد کرمنل جسٹس سسٹم کی تقویت ہے تاکہ متاثرین کو انصاف اور ملزمان کو سزائیں یقینی ہوں۔

کراچی ای چالان سسٹم کے تحت ایک ہفتے میں 26 ہزار سے زائد ٹریفک خلاف ورزیاں ریکارڈ

انہوں نے ڈرائیونگ لائسنس برانچ کی مثال دی، جسے تین سال قبل جدید اور ماڈرن تیکنیکس سے آراستہ کیا گیا، جس کی کارکردگی آج ہر ادارے میں سراہا جا رہا ہے۔ ای چالان ٹریکس بھی اسی طرح ایک کامیاب اصلاحی قدم ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]