وفاقی حکومت کا بڑا معاشی فیصلہ، شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر مارکیٹ فورسز کے حوالے کرنے کی تیاری
وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور اہم شرط پوری کرنے کے لیے ملک میں شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے ایک جامع اور تفصیلی پلان تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت چینی کے شعبے کو بتدریج سرکاری کنٹرول سے نکال کر مارکیٹ فورسز کے حوالے کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ گندم کے شعبے کے بعد زرعی اصلاحات کی سمت ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پلان کے تحت کاشتکاروں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو گی۔ اب کسانوں پر کسی مخصوص قسم کے گنے کی کاشت یا کسی خاص زون میں فصل اگانے کی پابندی نہیں رہے گی۔ کسان اپنی مرضی سے گنے کی کسی بھی قسم کا انتخاب کر سکیں گے اور یہ بھی طے کریں گے کہ وہ اپنی پیداوار کسی شوگر مل کو فروخت کریں یا خود گڑ تیار کریں۔ اس طرح کسانوں کو فصل کی منصوبہ بندی اور فروخت کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ خود مختاری حاصل ہو گی۔
مجوزہ پلان کے مطابق گنے کی قیمت کا تعین بھی اب حکومت کے بجائے مارکیٹ کرے گی۔ اس فیصلے کا مقصد مصنوعی قیمتوں کے نظام کو ختم کر کے طلب و رسد کے اصولوں کے تحت قیمتوں کا تعین یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مارکیٹ بیسڈ قیمتوں سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ کسان اور صنعت دونوں کو حقیقی معاشی حالات کے مطابق فیصلے کرنے کا موقع ملے گا۔
ڈی ریگولیشن پلان کے تحت چینی کی برآمد اور درآمد پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ چینی کی برآمد پر کسی قسم کی سبسڈی نہیں دے گی، جس سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہو گا اور عالمی منڈی میں پاکستان کی چینی حقیقی مسابقتی قیمت پر فروخت ہو سکے گی۔ اسی طرح شوگر ملز کے لیے برآمدی کوٹہ سسٹم ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، تاکہ ملز اپنی پیداواری صلاحیت اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق فیصلے کر سکیں۔
حکومت نے ملک میں نئی شوگر ملز لگانے پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجویز بھی پلان کا حصہ بنا لی ہے۔ اس اقدام سے شوگر سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے، جس سے نہ صرف مسابقت میں اضافہ ہو گا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مسابقت بڑھنے سے بالآخر صارفین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
مزید برآں مجوزہ پلان میں شوگر ملز کو یہ اجازت دینے کی بھی تجویز ہے کہ وہ خام چینی بیرونِ ملک سے درآمد کر کے اس کی پروسیسنگ کے بعد ری ایکسپورٹ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شوگر ملز کو گنے یا درآمدی خام مال کی پروسیسنگ کے حوالے سے مکمل آزادی دی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد شوگر انڈسٹری کو عالمی ویلیو چین کا حصہ بنانا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
دستاویز کے مطابق حکومتی کمیٹی نے واضح طور پر چینی کی درآمد و برآمد پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی سفارش کی ہے، تاکہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت یا اضافی ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل کا خاتمہ ہو سکے۔ حکومت کا خیال ہے کہ آزاد تجارتی ماحول سے قیمتوں میں استحکام آئے گا اور بحران پیدا ہونے کے امکانات کم ہوں گے۔
تاہم کسانوں کے تحفظ کو بھی اس پلان میں نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کسانوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ گنے کی ممنوعہ اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کی جائے، تاکہ کسان ایسی اقسام کاشت نہ کریں جو کم پیداوار یا کم چینی کے تناسب کی حامل ہوں۔ اس اقدام کا مقصد کسانوں کی پیداوار اور آمدن کو محفوظ بنانا ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن سے قلیل مدت میں کچھ چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں، تاہم طویل مدت میں یہ اقدام زرعی معیشت کی بہتری، سرکاری مداخلت میں کمی، مالی بوجھ کے خاتمے اور شفاف مارکیٹ سسٹم کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ایف بھی اسی بنیاد پر ایسے اصلاحاتی اقدامات پر زور دیتا رہا ہے۔
مجموعی طور پر، شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا یہ مجوزہ پلان پاکستان کی معیشت کو مارکیٹ بیسڈ نظام کی طرف لے جانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اگر اس پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو نہ صرف شوگر انڈسٹری میں اصلاحات آئیں گی بلکہ کسان، صنعت کار اور صارفین تینوں کو اس کے مثبت ثمرات حاصل ہو سکتے ہیں۔


One Response