آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے حکومت کا بڑا فیصلہ ایف بی آر نے سول سرونٹس اثاثہ جات رولز میں ترمیم جاری کر دی

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نوٹیفکیشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایف بی آر نے اثاثہ جات رولز میں ترمیم جاری کر دی — آئی ایم ایف اجلاس سے قبل اہم پیش رفت

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے بڑھتے تقاضوں، مقامی انتظامی ڈھانچے کی اصلاحات اور بڑھتے معاشی دباؤ کے درمیان وفاقی حکومت نے ایک اہم اور دوررس اثرات کے حامل قدم کے طور پر سول سرونٹس اثاثہ جات رولز 2023 میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس 8 دسمبر کو متوقع ہے، جہاں تقریباً 1.20 ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کا جائزہ لیا جائے گا۔

اصطلاحات کی تبدیلی—محض الفاظ یا دائرہ کار میں بڑی وسعت؟

ترمیم کا سب سے اہم پہلو ’’سول سرونٹ‘‘ کی اصطلاح کو تبدیل کرکے ’’پبلک سرونٹ‘‘ کرنا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی الفاظ کا ردوبدل محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں اس نے قوانین کے اطلاق کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع کردیا ہے۔ نئی تعریف کے مطابق:

  • گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران
  • وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے افسران
  • خودمختار اداروں، اتھارٹیز اور سرکاری کارپوریشنز کے افسران

اب اثاثہ جات رولز کے تحت آتے ہیں۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ پہلے ’’سول سرونٹ‘‘ کی تنگ تعریف کے باعث کئی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران اس دائرے میں شامل ہی نہیں تھے۔

تاہم نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مستثنیٰ افراد نئی تعریف کا حصہ نہیں ہوں گے۔ یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ بعض قانونی ماہرین کے مطابق اس شق کا تعلق احتساب کے دائرہ کار سے ہے اور اس پر مزید قانونی بحث متوقع ہوسکتی ہے۔

حکومت کا زاویہ—احتسابی ڈھانچے کی مضبوطی یا بین الاقوامی تقاضوں کی تکمیل؟

حکومتی ذرائع یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ اثاثہ جات رولز میں ترامیم کا مقصد سرکاری افسران کے مالی معاملات میں شفافیت لانا ہے۔ پاکستان میں عرصے سے پبلک سیکٹر کے افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ایک پیچیدہ اور غیر مؤثر نظام کے تحت جمع کی جاتی رہی ہیں، جس میں نہ تو سخت جانچ پڑتال ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے نفاذ کے موثر طریقہ کار موجود ہیں۔

اس تناظر میں ایف بی آر نے یہ ترمیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کے تحت تیار کی، جو حکومت کو قانون سازی اور ضابطوں میں تبدیلی کا اختیار دیتی ہے۔ ایف بی آر نے اس سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز بھی حاصل کیں، اور تقریباً ایک ماہ مسلسل مشاورت کے بعد رولز کو حتمی شکل دی۔

آئی ایم ایف فیکٹر—کیا یہ اقدام دباؤ کا نتیجہ ہے؟

پاکستان اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے، اور آئی ایم ایف پروگرام سے وابستگی تقریباً ناگزیر ہوچکی ہے۔ آئی ایم ایف کئی برسوں سے پاکستان میں ٹیکس نظام کی بہتری، سرکاری اداروں کی شفافیت، اور پبلک سیکٹر کے مالی نظم و ضبط پر زور دیتا آرہا ہے۔
حالیہ جائزہ رپورٹس میں بھی یہ نقطہ بارہا سامنے آیا کہ پاکستان میں:

  • اثاثہ جات ڈیکلریشن کا نظام کمزور ہے
  • ٹیکس ایویژن عام ہے
  • پبلک سیکٹر میں مالی بے ضابطگیاں موجود ہیں
  • احتساب کا دائرہ محدود اور غیر متوازن ہے

وفاقی حکومت کے اس اقدام کو ان ہی مطالبات سے جوڑا جا رہا ہے۔ معیشت کے ماہرین کے مطابق ایسی اصلاحات آئی ایم ایف کو ایک مثبت سگنل دیتی ہیں کہ حکومت ٹیکس و گورننس کے شعبے میں سنجیدہ اصلاحات پر آمادہ ہے۔

ترمیم کے ممکنہ اثرات—شفافیت میں اضافہ یا نئے تنازعات؟

پالیسی ماہرین اس ترمیم کے اثرات کو ملا جلا قرار دیتے ہیں۔ ایک جانب یہ اقدام شفافیت کے فروغ کے لیے اہم قدم ہے کیونکہ پہلی مرتبہ ایک وسیع پبلک سیکٹر طبقہ اثاثہ جات کی تفصیلات دینے اور ان کی جانچ پڑتال کے نظام میں شامل ہوگا۔ اس سے:

  • غیر دستاویزی آمدن کی نشاندہی آسان ہوگی
  • ٹیکس نیٹ میں ممکنہ اضافہ ہو سکتا ہے
  • سرکاری اداروں میں مالی احتساب کی راہ ہموار ہوگی
  • پبلک سرونٹس پر مالی دباؤ کا جائزہ زیادہ شفاف ہو جائے گا

تاہم دوسری جانب کچھ قانونی اور ادارہ جاتی سوالات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ مثلاً:

  1. کیا ایف بی آر اتنے بڑے پیمانے پر جانچ پڑتال کی صلاحیت رکھتا ہے؟
  2. کیا یہ ترمیم مختلف اداروں کے اختیارات میں ٹکراؤ پیدا کرے گی؟
  3. نیب اور ایف بی آر کے دائرہ کار میں کیا فرق رہے گا؟
  4. کیا پبلک سرونٹس اس نئے نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟

ان سوالات کے جوابات آنے والے وقت میں سامنے آئیں گے، لیکن اس وقت یہ ترمیم حکومتی شفافیت کے بیانیے کے ساتھ ایک بنیادی قدم کے طور پر سامنے آئی ہے۔

سیاسی ردعمل—متوقع تنقید اور بحث

چونکہ پاکستان میں کسی بھی قانونی ترمیم کو سیاست سے الگ رکھنا تقریباً ناممکن ہے، اس لیے یہ ترمیم بھی سیاسی بحث کا حصہ بن سکتی ہے۔ اپوزیشن پہلے ہی حکومت کو آئی ایم ایف کے دباؤ میں فیصلے کرنے کا الزام دیتی رہی ہے، اور امکان ہے کہ اس ترمیم کو بھی اسی تناظر میں دیکھے۔

دوسری جانب حکومت اس کو اپنی اصلاحاتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ قرار دے رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشی اعتماد بحال کرنا فوری ضرورت بن چکا ہے۔

آنے والا وقت—کیا مزید اصلاحات بھی ہوں گی؟

یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام جاری رہنے کی صورت میں ایسی مزید اصلاحات بھی متوقع ہیں، خاص طور پر پبلک فنانس، ٹیکس انتظامیہ، سرکاری اداروں کے آڈٹ میکانزم اور مالی احتساب کے نظام میں۔

اثاثہ جات رولز میں یہ ترمیم مستقبل کے ان ہی اقدامات کی ایک ابتدائی بنیاد ہے

ایف بی آر پروفیشنلز آڈٹ اور ٹیکس نیٹ توسیع کا عمل
ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے پروفیشنلز اور ہائی انکم شعبوں کے آڈٹ کا آغاز کر دیا۔
ایف بی آر ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں افسران کے تقرر و تبادلے کا منظر
ایف بی آر میں 80 سینئر افسران کے تقرر و تبادلوں کے بعد انتظامی تبدیلیاں تیز

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]