آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس کل، 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظوری کا امکان

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی آئندہ میٹنگز بھی ملکی معیشت کے لیے اہم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کا امکان، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس 8 دسمبر کو طلب

پاکستان کی معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کے لیے قرض پروگرام کے تحت اگلی قسط کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ اجلاس کل، 8 دسمبر کو شیڈول ہے اور اس کا شیڈول باقاعدہ طور پر آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کیا جا چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق، توقع کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اس اجلاس میں پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر کی خطیر رقم کی منظوری دے گا۔ یہ رقم دو حصوں پر مشتمل ہو گی۔ بنیادی قرض پروگرام کے تحت پاکستان کو 1 ارب ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دے گی۔ جبکہ بقیہ 20 کروڑ ڈالر کلائمیٹ فنانسنگ (ماحولیاتی مالیات) کی مد میں دیے جائیں گے، جو ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کریں گے۔

قرض کی شرائط کی تکمیل اور اسٹاف لیول معاہدہ

یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 14 اکتوبر کو طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے تمام ضروری پیشگی شرائط کو پوری کر لیا ہے۔ ان شرائط میں مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنا، اور معاشی شفافیت کو یقینی بنانا شامل تھا۔

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے معاملہ پیش کرنے سے قبل پاکستان کے ذمہ تھا کہ وہ آئی ایم ایف کی ایک اہم شرط پوری کرے۔ یہ شرط کرپشن اور گورننس ڈائیگنوسٹک رپورٹ (Corruption and Governance Diagnostic Report) جاری کرنے سے متعلق تھی۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حکومت پاکستان نے یہ رپورٹ کامیابی کے ساتھ جاری کر دی ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ تمام تکنیکی اور دفتری تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے معاشی مضمرات

1.2 ارب ڈالر کی یہ قسط پاکستان کی معیشت کے لیے ‘لائف لائن’ کا کردار ادا کرے گی۔

  • زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت: اس رقم کی آمد سے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا، جو روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے ضروری اعتماد فراہم کرے گا۔
  • مارکیٹ کا اعتماد: آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے قرض کی منظوری ملنے سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کا پاکستان پر اعتماد بڑھے گا، جس کے نتیجے میں دیگر کثیر الجہتی اداروں اور دوست ممالک سے مالی امداد کا راستہ بھی ہموار ہو گا۔
  • اصلاحات پر زور: آئی ایم ایف پروگرام کی بدولت حکومت پر معاشی ڈھانچے میں سخت اور ضروری اصلاحات لانے کا دباؤ برقرار رہے گا، جو طویل مدت میں ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

کلائمیٹ فنانسنگ: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنا

20 کروڑ ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں رقم کا اجراء پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا شکار ہے، جس میں سیلاب اور خشک سالی جیسے قدرتی آفات شامل ہیں۔ یہ اضافی فنڈز ملک کو موسمیاتی لچک پیدا کرنے، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، اور ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں مدد دیں گے۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے یہ اقدام پاکستان کی موسمیاتی ضروریات کو تسلیم کرنے کا اشارہ ہے۔

آگے کا راستہ اور آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا کردار

پاکستان میں ماہرین اقتصادیات کی نظریں کل ہونے والے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں اور منظوری کا امکان قوی ہے، لیکن بورڈ کا حتمی فیصلہ ہی پاکستان کے لیے آئندہ کی مالیاتی پالیسیوں کی سمت طے کرے گا۔

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے حکومت کا بڑا فیصلہ ایف بی آر نے سول سرونٹس اثاثہ جات رولز میں ترمیم جاری کر دی

یہ قسط پاکستان کو اپنی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عارضی ریلیف فراہم کرے گی، لیکن طویل المدتی استحکام صرف تب ہی ممکن ہے جب حکومت توانائی کے شعبے کے نقصانات کو کم کرنے، ٹیکس بیس کو وسعت دینے اور ریاستی اداروں میں حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے جرات مندانہ اور مستقل اقدامات جاری رکھے۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اور پاکستان کے درمیان یہ تعاون ملک کو ایک ذمہ دار معیشت بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی آئندہ میٹنگز بھی ملکی معیشت کے لیے اہم رہیں گی۔ یہ رقم کی منظوری پاکستان کے عالمی مالیاتی نظام میں ذمہ دارانہ کردار کو مضبوط کرے گی۔ کل کا آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا فیصلہ قومی سطح پر نہایت اہمیت کا حامل ہو گا، جس سے معاشی میدان میں مزید استحکام کی امیدیں وابستہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]