اڈیالہ جیل میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، عمران خان سے آج اہم ملاقاتیں متوقع
اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان سے ملاقات کے شیڈول کے باعث راولپنڈی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں غیرمعمولی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جمعرات کے روز علی الصبح ہی اڈیالہ جیل کے اندر اور بیرونِ اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی جبکہ متعدد مقامات پر داخلی راستوں کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خصوصی ناکہ بندی قائم کر دی۔
گورکھ پور سے داہگل ناکے تک تمام تجارتی مراکز اور تعلیمی اداروں کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، عوامی رش یا احتجاجی سرگرمی کے سبب امن و امان کے خدشات کو روکا جا سکے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اقدامات مکمل طور پر حفاظتی نوعیت کے ہیں، جن کا بنیادی مقصد شہریوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنا اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنا ہے۔
خصوصی سیکیورٹی پلان — دو شفٹوں میں بھاری نفری تعینات
اڈیالہ جیل کے گردونواح میں ایک جامع اور مربوط دو شفٹوں پر مشتمل سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے۔ یہ پلان ہائی پروفائل شخصیت کی موجودگی اور ممکنہ ہجوم کی آمد کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے مطابق:
- 20 تھانوں کے ایس ایچ اوز ڈیوٹی پر موجود رہیں گے،
- 8 ڈی ایس پیز مختلف مقامات پر سیکیورٹی امور کی نگرانی کریں گے،
- 2 ایس پیز خصوصی ڈیوٹی پر مامور ہیں،
مجموعی طور پر 1200 سے زائد پولیس و سیکیورٹی اہلکار جیل کے اطراف اور اہم راستوں پر تعینات رہیں گے۔
سیکیورٹی میں خواتین کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں 6 لیڈی انسپکٹرز سمیت 48 خواتین کمانڈوز نہ صرف داخلی دروازوں پر بلکہ مختلف اسنیپ چیک پوائنٹس پر بھی فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
مزید برآں، پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر فورسز بھی سیکیورٹی آپریشن کا حصہ ہیں جن میں:
- آر ایم پی فورس
- پنجاب کانسٹیبلری
- ڈولفن اسکواڈ
- ایلیٹ فورس
بھی شامل ہیں، جو مجموعی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے پولیس کی معاونت کر رہی ہیں۔
اینٹی رائٹ سامان فراہم — اہم مقامات پر کڑی نگرانی
رپورٹس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اینٹی رائٹ سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے، جس میں ہیلمٹس، واٹر کینن، آنسو گیس شیل، لاٹھیوں اور حفاظتی جیکٹس شامل ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد ہجوم کی صورت میں حالات پر فوری قابو پانا ہے۔
تمام سیکیورٹی انتظامات کی براہ راست نگرانی ایس پی صدر انعم شیر کر رہی ہیں جنہوں نے مختلف چیک پوائنٹس اور جیل کے بیرونی حصوں کا دورہ بھی کیا تاکہ تعینات اہلکاروں کی پوزیشننگ اور ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
اسی دوران ایس ایس پی آپریشنز طارق ملک بھی اڈیالہ جیل پہنچے، جہاں انہوں نے مجموعی سیکیورٹی پلان، ناکہ بندیوں، متبادل راستوں، اور اہلکاروں کی تعداد کے حوالے سے بریفنگ لی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام یونٹوں کے درمیان رابطہ مسلسل برقرار رکھا جائے۔
پمز اسپتال کی میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی — مکمل طبی معائنہ آج ہوگا
سیکیورٹی انتظامات کے ساتھ ساتھ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مکمل طبی معائنہ بھی آج شیڈول ہے۔ اس مقصد کے لیے پمز اسپتال اسلام آباد نے اپنے 5 ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ کو جیل بھجوا دیا ہے، جو عمران خان کا تفصیلی طبی جائزہ لے گا۔
ڈاکٹرز کی ٹیم میں شامل ہیں:
- جنرل فزیشن ڈاکٹر علی عارف
- جنرل سرجن ڈاکٹر طارق عبداللہ
- ماہرِ پیتھالوجی ڈاکٹر سمن وقار
- ماہر جلد ڈاکٹر مبشر
- لیب ٹیکنیشن نعمان اقبال
میڈیکل بورڈ عمران خان کے بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، شوگر لیول، جوڑوں کی تکلیف، جلد کے مسائل، کسی ممکنہ اندرونی انفیکشن سمیت دیگر عمومی صحت کے پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
پمز انتظامیہ کے مطابق اڈیالہ جیل حکام نے تحریری طور پر میڈیکل ٹیم کی خدمات طلب کی تھیں، جس کے جواب میں یہ ٹیم فوری طور پر اڈیالہ روانہ کی گئی۔ طبی معائنے کی مکمل رپورٹ بھی جیل حکام کو فراہم کی جائے گی۔
علاقے میں ٹریفک اور داخلی راستوں کی نگرانی تیز — عوام کو متبادل راستوں کی ہدایات
سیکیورٹی پلان کے تحت جیل جانے والے راستوں پر ٹریفک کو محدود کر دیا گیا ہے، جب کہ شہریوں کو متبادل راستوں کے استعمال کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ اہم پوائنٹس پر ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات ہیں تاکہ کسی بھی غیر ضروری رش کو روکا جائے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مزید برآں، علاقے میں داخل ہونے والے ہر شخص کی بائیومیٹرک تصدیق، شناختی کارڈ کی جانچ اور گاڑیوں کی اسکیننگ بھی جاری ہے۔
ممکنہ مظاہروں کے پیش نظر الرٹ صورتحال برقرار
انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ ملاقات کے دن کارکنان کی بڑی تعداد جیل کے باہر جمع ہو سکتی ہے جس سے امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اسی لیے پولیس نے مکمل الرٹ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ مقامات پر کنٹینرز بھی موجود ہیں، تاکہ کسی ہنگامی صورت میں انہیں راستوں کی بندش کے لیے فوری استعمال کیا جا سکے۔
مکمل الرٹ، مکمل نگرانی اور غیرمعمولی انتظامات
اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے باعث آج کا دن راولپنڈی کے لیے انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔
جیل کے اندر اور باہر سخت نگرانی، بھاری پولیس نفری، جدید ٹیکنالوجی، خواتین کمانڈوز، خصوصی ڈاکٹرز ٹیم اور انتظامیہ کی براہ راست مانیٹرنگ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت اور ادارے صورتحال کو ہر پہلو سے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
تمام اقدامات کا بنیادی مقصد:
عوام کے تحفظ، امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور ہائی پروفائل ملاقات کے دوران مکمل سیکیورٹی یقینی بنانا ہے۔


2 Responses