بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا کامیاب طبی علاج، صحت تسلی بخش قرار
بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کے کامیاب طبی علاج کے بعد ان کی صحت سے متعلق تفصیلی میڈیکل رپورٹ اڈیالہ جیل حکام کو ارسال کر دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے مرتب کر کے بھجوائی گئی، جس میں عمران خان کی مجموعی صحت کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔
پمز انتظامیہ کے مطابق عمران خان کو دائیں آنکھ میں بینائی متاثر ہونے کی شکایت پر تفصیلی طبی معائنے کے لیے پمز منتقل کیا گیا تھا۔ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے جدید طبی سہولیات کے تحت ان کا مکمل معائنہ کیا، جس کے بعد ان میں رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (Right Central Retinal Vein Occlusion) کی تشخیص کی گئی۔ یہ ایک ایسی طبی کیفیت ہے جس میں آنکھ کی ریٹینا میں خون کی مرکزی رگ متاثر ہو جاتی ہے، جس کے باعث بینائی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کو رات گئے سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے پمز اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں ماہرینِ چشم نے فوری طور پر ان کے علاج کا آغاز کیا۔ ڈاکٹروں کی سفارش پر عمران خان کو اینٹی وی جی ای ایف (Anti-VEGF) انٹرا ویٹریل انجیکشن دیا گیا، جو جدید اور عالمی معیار کے مطابق اس بیماری کا مؤثر علاج سمجھا جاتا ہے۔ یہ انجیکشن براہِ راست آنکھ کے اندر دیا جاتا ہے تاکہ متاثرہ رگوں کی سوجن کم کی جا سکے اور بینائی کو مزید متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
پمز انتظامیہ کے مطابق یہ طبی عمل مکمل طور پر معیاری پروٹوکول کے تحت آپریشن تھیٹر میں انجام دیا گیا، جہاں تمام حفاظتی اور جراثیم سے پاک انتظامات یقینی بنائے گئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پورا طبی عمل تقریباً 20 منٹ میں کامیابی سے مکمل ہوا، اور دورانِ علاج عمران خان کی حالت مستحکم رہی۔ ڈاکٹروں نے علاج کے بعد عمران خان کو کچھ دیر تک زیرِ نگرانی رکھا تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی کا بروقت جائزہ لیا جا سکے۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان نے علاج کے بعد خود کو بہتر محسوس کیا، اور ڈاکٹروں نے ان کی مجموعی صحت کو تسلی بخش قرار دیا۔ ابتدائی طبی مشاہدات کے مطابق انجیکشن کے بعد کسی قسم کے منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔ طبی ٹیم نے عمران خان کو مکمل آرام، آنکھ پر دباؤ سے بچنے اور مقررہ وقت پر فالو اپ معائنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔
پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاج مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو فالو اپ ہدایات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل ہو گئے۔ میڈیکل رپورٹ نہ صرف جیل حکام کو فراہم کی گئی بلکہ عمران خان کے اہلِ خانہ کو بھی موصول ہو چکی ہے تاکہ وہ ان کی صحت سے متعلق مکمل طور پر آگاہ رہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے ہدایت دی گئی تھی کہ سابق وزیراعظم کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ اسی ہدایت کے تحت پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ذاتی نگرانی میں طبی عمل مکمل کروایا اور تمام تفصیلات پر مشتمل رپورٹ تیار کر کے متعلقہ حکام کو ارسال کی۔
ماہرینِ صحت کے مطابق رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن ایک سنجیدہ مگر قابلِ علاج بیماری ہے، بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص اور علاج کیا جائے۔ اینٹی وی جی ای ایف انجیکشن اس مرض میں بینائی کے مزید نقصان کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے، تاہم مریض کو مستقل فالو اپ اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
سیاسی حلقوں اور عمران خان کے حامیوں کی جانب سے ان کی صحت سے متعلق تشویش پائی جا رہی تھی، جس کے بعد میڈیکل رپورٹ کے سامنے آنے سے کئی خدشات دور ہوئے ہیں۔ پمز انتظامیہ کے مطابق عمران خان کی مجموعی صحت مستحکم ہے اور فی الحال کسی ہنگامی طبی تشویش کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان مختلف قانونی معاملات کے باعث اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی صحت سے متعلق ہر پیش رفت کو سیاسی اور عوامی سطح پر گہری دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم ہونے کے ناطے عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی آئینی اور قانونی تقاضا ہے، اور اس حوالے سے ریاستی اداروں کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔
مجموعی طور پر، عمران خان کی دائیں آنکھ کے کامیاب علاج اور ان کی صحت سے متعلق مثبت میڈیکل رپورٹ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ حساس قیدیوں کے طبی معاملات میں بروقت اور معیاری علاج کس قدر ضروری ہے۔ پمز کے ماہر ڈاکٹروں کی جانب سے انجام دیا گیا یہ علاج نہ صرف کامیاب رہا بلکہ طبی معیار کے عین مطابق بھی تھا، جس کے بعد عمران خان کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔

