عمران خان طبی معائنہ کیس پر عدالت سخت، سپرنٹنڈنٹ جیل کو فوری طلبی

عمران خان طبی معائنہ کیس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عمران خان اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواست، عدالت کا سپرنٹنڈنٹ جیل کو ایک گھنٹے میں پیش ہونے کا حکم

اسلام آباد کی مقامی عدالت میں بانی چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے طبی معائنے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی۔ عدالت نے درخواست پر مقررہ وقت میں جواب جمع نہ کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل کو فوری نوٹس جاری کر دیا اور حکم دیا کہ وہ ایک گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دیں۔ عدالت کے اس اقدام کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کے حوالے سے دائر درخواست پر جیل انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی تحریری جواب جمع نہیں کرایا گیا، حالانکہ عدالت اس حوالے سے پہلے ہی واضح احکامات جاری کر چکی تھی۔ وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ زیرِ حراست ملزمان کے طبی حقوق آئین اور قانون کے تحت محفوظ ہیں اور طبی معائنے میں غیر ضروری تاخیر ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی زیرِ حراست شخص، چاہے وہ کسی بھی مقدمے میں نامزد ہو، کو مناسب طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر عدالت کے احکامات پر بروقت عملدرآمد نہیں کیا جاتا تو یہ معاملہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اسی تناظر میں سپرنٹنڈنٹ جیل کو حکم دیا گیا کہ وہ ایک گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش ہو کر جواب دیں کہ درخواست پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔
اسی سماعت کے دوران جی ایچ کیو حملہ کیس سے متعلق ایک اور اہم درخواست بھی زیرِ غور آئی۔ اس کیس میں وکلائے صفائی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کرانے کی اجازت کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ بانی چیئرمین تحریکِ انصاف اس وقت متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے وکلاء کا اپنے مؤکل سے ملاقات کرنا ناگزیر ہے۔
وکلائے صفائی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں وہ نہ تو مقدمات کی تیاری کر سکتے ہیں اور نہ ہی مؤثر قانونی حکمتِ عملی وضع کر سکتے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ ملزم کو اپنے وکیل سے مشاورت کا حق حاصل ہے اور اس حق میں رکاوٹ ڈالنا منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے وکلاء کے دلائل غور سے سنے اور ریمارکس دیے کہ قانون ہر ملزم کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے وکیل سے مکمل مشاورت کر سکے۔ عدالت نے جیل حکام سے اس حوالے سے بھی وضاحت طلب کی کہ وکلاء کی ملاقات میں حائل رکاوٹوں کی اصل وجہ کیا ہے اور آیا یہ رکاوٹیں کسی تحریری پالیسی یا سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ہیں یا نہیں۔
سماعت کے دوران ایک اور ضمنی درخواست بھی دائر کی گئی جو علیمہ خان سے متعلق تھی۔ علیمہ خان کی جانب سے عدالت میں صرف آج کے روز کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست جمع کرائی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ علیمہ خان بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر عدالت میں پیش نہیں ہو سکتیں، لہٰذا ان کی ایک دن کی حاضری معاف کی جائے۔
عدالت نے علیمہ خان کی درخواست پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور کہا کہ درخواست پر فیصلہ دلائل سننے کے بعد کیا جائے گا۔ عدالت نے اس موقع پر سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کیس کی کارروائی دوپہر 12 بجے دوبارہ شروع ہوگی، جس کے بعد تمام زیرِ التوا درخواستوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
عدالتی کارروائی کے دوران کمرۂ عدالت میں غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی، جہاں وکلاء، صحافیوں اور دیگر متعلقہ افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے سے متعلق درخواست کو عوامی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف ایک سابق وزیراعظم بلکہ جیل میں قید افراد کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کا سپرنٹنڈنٹ جیل کو ذاتی طور پر طلب کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدلیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق، اگر جیل حکام عدالت کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے تو مستقبل میں سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب، جی ایچ کیو حملہ کیس میں وکلاء کی ملاقات سے متعلق درخواست کو بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کیس کے قانونی اور سیاسی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، وکیل اور مؤکل کے درمیان رابطہ منقطع رکھنا کسی بھی جمہوری اور قانونی نظام میں قابلِ قبول نہیں۔
سماعت کے دوبارہ آغاز پر عدالت کی جانب سے سپرنٹنڈنٹ جیل کے جواب، وکلاء کے دلائل اور دیگر درخواستوں کی روشنی میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت عمران خان اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے، وکلاء کی ملاقات اور علیمہ خان کی حاضری سے متعلق درخواستوں پر کیا احکامات جاری کرتی ہے۔
یہ کیس نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ سیاسی منظرنامے میں بھی گہری دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے، اور آئندہ سماعتوں کے دوران اس کے مزید اہم پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]