ایران پر امریکا اور اسرائیل کا بڑا فضائی حملہ، تہران میں دھماکے، خطے میں جنگ کے خطرات بڑھ گئے
تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے گئے جس کے بعد شہر میں ہنگامی سائرن بجا دیے گئے اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں امریکی فضائیہ نے بھی حصہ لیا جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مشترکہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ حملوں کے بعد تہران میں کم از کم تین شدید دھماکے رپورٹ ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق بوشہر سمیت دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ ایرانی نیوی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ تقریباً 20 امریکی اور اسرائیلی جنگی طیارے شامی علاقے دارا کے اوپر پرواز کرتے ہوئے ایران کی جانب بڑھتے دیکھے گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنگامی بیان میں کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن "ایپک فیوری” کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران طویل عرصے سے امریکی مفادات کو نشانہ بناتا رہا ہے اور اب اسے جواب دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ایرانی میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر پاسدارانِ انقلاب نے ہتھیار نہ ڈالے تو انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق ان حملوں کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے سے جاری تھی اور یہ پیشگی کارروائی ہے جس کا مقصد ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کو ختم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں مزید حملوں کا امکان بھی موجود ہے۔
روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کا بڑا فضائی حملہ میں کئی اہم ایرانی فوجی کمانڈر مارے گئے جبکہ انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی اسٹریٹ، جمہوری ایریا، قوم، خرم آباد اور اصفہان سمیت مختلف شہروں میں میزائل حملے کیے گئے جبکہ مہران آباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ عراق نے بھی ایئر ٹریفک معطل کر دی ہے۔
اسرائیل میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کا بڑا فضائی حملہ کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ایک بڑے جوابی حملے کی تیاری جاری ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
Let the world know that we did not start this war pic.twitter.com/9G3vbJYw1D
— Iran Military Monitor (@IRIran_Military) February 28, 2026
One Response