ایران میں شدید احتجاج : دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع، ملک بھر میں انٹرنیٹ بند، پروازیں منسوخ

ایران میں شدید احتجاج : دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع، ملک بھر میں انٹرنیٹ بند، پروازیں منسوخ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران میں شدید احتجاج : دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع، ملک بھر میں انٹرنیٹ بند، پروازیں منسوخ، جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی، اور جمعے کی صبح تک ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن


تہران : ایران میں بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے حکام نے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا ہے، جس کے باعث ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہو گیا ہے۔ ٹیلی فون کالز بھی مشکل سے ہو رہی ہیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو پا رہی ہیں۔

انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی، اور جمعے کی صبح تک ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن رہا، جس کا مقصد ملک گیر ایران میں شدید احتجاج کو دبانا بتایا جا رہا ہے۔

ایران میں شدید احتجاج 28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے خلاف شروع ہوا تھا جو اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین نے ’’آمر مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے، سرکاری عمارتوں کو آگ لگائی اور سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔

ایران میں احتجاج, آیت اللہ خامنہ ای کا پلان بی روس منتقلی
ایران میں احتجاج کے تناظر میں خامنہ ای کا پلان بی

خامنہ ای کا ٹرمپ پر الزام، سخت وارننگ

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں اور تہران غیر ملکی طاقتوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ امریکی صدر کا انجام بھی 1979 سے قبل ایران پر حکمرانی کرنے والے شاہی خاندان جیسا ہوگا۔

جانی نقصان اور گرفتاریاں

امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق حالیہ ایران میں شدید احتجاج کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور 4 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 2200 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شدید معاشی بحران اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد ایرانی حکومت پہلے سے کہیں زیادہ دباؤ کا شکار نظر آ رہی ہے، جبکہ ایران میں شدید احتجاج نظام کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی ایران کو انتباہ مظاہرین پر تشدد کی صورت میں امریکا مداخلت کرے گا
ایران میں مظاہرین پر تشدد کی صورت میں امریکی مداخلت کا انتباہ

پروازیں منسوخ، فضائی رابطہ متاثر

ایران میں شدید احتجاج اور سیکیورٹی خدشات کے باعث ایران کا فضائی رابطہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعے کے روز دبئی اور ایران کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

ترک ایئر لائنز کے ترجمان نے بتایا کہ جمعے کو استنبول سے ایران کے لیے سات پروازیں منسوخ کی گئیں، جن میں سے پانچ تہران جبکہ دو تبریز اور مشہد کے لیے تھیں۔
اس سے قبل بھی تہران اور تبریز کے لیے چند پروازیں منسوخ کی جا چکی تھیں۔

فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق ایک ترک ایئر لائن کی شیراز جانے والی پرواز اور پیگاسس ایئر لائن کی مشہد جانے والی پرواز ایرانی فضائی حدود سے واپس لوٹ آئی۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]