ایران میں ہنگامی اختیارات کی منتقلی؟ خامنہ ای نے علی لاریجانی کو اہم ذمہ داریاں سونپ دیں

ایران میں علی خامنہ ای نے علی لاریجانی کو اختیارات سونپ دیے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫Ali Khamenei نے ممکنہ جنگ کے خدشے پر اختیارات Ali Larijani کو منتقل کر دیے‬

ایران میں ممکنہ جنگی خدشات اور قیادت کو لاحق خطرات کے تناظر میں اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عملی انتظامی اختیارات اپنے قریبی ساتھی علی لاریجانی کو سونپ دیے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریاستی معاملات تسلسل کے ساتھ چلتے رہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک جانب جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات موجود ہیں تو دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ امریکی اخبار The New York Times نے دعویٰ کیا ہے کہ اعلیٰ ایرانی حکام کے مطابق خامنہ ای نے ممکنہ امریکی حملے یا قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات کے باعث اہم ریاستی امور لاریجانی کے سپرد کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق علی لاریجانی جنوری سے حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس وقت وہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد موجودہ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کا کردار نسبتاً محدود ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ قومی سلامتی اور اسٹریٹجک فیصلوں کا مرکز لاریجانی کے گرد سمٹتا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خامنہ ای نے ہنگامی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے، جس کے تحت اہم ریاستی اور عسکری عہدوں کے لیے متبادل نام طے کر دیے گئے ہیں۔ فوجی کمانڈروں کو بھی ممکنہ جانشین نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں کمان اور کنٹرول کا نظام متاثر نہ ہو۔ قریبی حلقے کو فوری اور ہنگامی فیصلوں کا اختیار دے دیا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانی قیادت بدترین حالات کے لیے بھی تیار ہے۔

دوسری جانب ایران نے اپنی مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ مغربی سرحدوں اور جنوبی ساحلی علاقوں میں میزائل تنصیبات کو فعال کیا گیا ہے، جبکہ فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ خلیجی پانیوں میں فوجی مشقیں کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ جنگ کی صورت میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) اور دیگر سیکیورٹی ادارے بڑے شہروں میں تعینات ہوں گے۔ داخلی بدامنی یا بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر قیادت میں کسی تبدیلی کی ضرورت پیش آئی تو علی لاریجانی سرفہرست ہوں گے۔ ان کے بعد محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کے نام زیر غور آ سکتے ہیں۔ یہ تمام شخصیات ایران کی سیاست میں تجربہ کار اور بااثر سمجھی جاتی ہیں، اور مختلف ادوار میں اہم ریاستی ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا جنیوا میں جوہری مذاکرات کے تیسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس سے قبل مذاکرات کے دو ادوار کو مثبت قرار دیا گیا تھا، جس سے امید پیدا ہوئی تھی کہ دونوں ممالک کسی مفاہمتی حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم بیک وقت عسکری تیاریوں اور ہنگامی اختیارات کی منتقلی نے خطے میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے ہنگامی اختیارات کی منتقلی دراصل ریاستی ڈھانچے کے تسلسل کو یقینی بنانے کی حکمت عملی ہے۔ ایران کا سیاسی نظام سپریم لیڈر کے گرد مرکوز ہے، اس لیے قیادت کو لاحق کسی بھی خطرے کی صورت میں پیشگی انتظامات ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد داخلی استحکام برقرار رکھنا اور بیرونی دباؤ کے باوجود حکومتی مشینری کو فعال رکھنا ہے۔

عالمی سطح پر اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ سفارتی محاذ پر بات چیت جاری ہے، مگر عسکری تیاریوں نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ کسی بھی غلط فہمی یا اشتعال انگیز کارروائی سے خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں جوہری مذاکرات کی پیش رفت اور امریکا-ایران تعلقات کی سمت اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ ہنگامی انتظامات محض احتیاطی تدابیر ثابت ہوں گے یا خطے کو کسی بڑی کشیدگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مجموعی طور پر ایران میں حالیہ اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ قیادت ممکنہ خطرات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ہر قسم کی صورتحال کے لیے پیشگی تیاری کر رہی ہے۔ اب نظریں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی و عسکری حرکیات پر مرکوز ہیں، جو آنے والے وقت میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا رخ متعین کریں گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]